گمشدہ ضمیر کو کون ڈھونڈے گا؟

"مجھے اب کچھ نہیں چاہیے میں تو بس سامنے (قبرستان) جانے کا انتظار کر رہا ہوں۔ ان چھوٹے بچوں کا کچھ ہو جائے، بس۔”

جنیوا کیمپ، محمد پور، ڈھاکہ کے ایک متروک پاکستانی بزرگ

کیا آپ اس غم سے نڈھال مگر باوقار شخص کے اس جملے کے کرب کا تھوڑا سا بھی اندازہ کر سکتے ہیں؟ یہ الفاظ صرف ایک تھکے ہوئے بزرگ کی بات نہیں، یہ نصف صدی پر پھیلے ایک اجتماعی زخم کی آواز ہیں۔ ایک ایسا انسان جو اپنی خواہشات سے دستبردار ہو چکا ہے، مگر اپنے بعد آنے والوں کے لیے آج بھی دعاگو ہے۔

جنیوا کیمپ ایک ایسا نام جو تمسخر محسوس ہوتا ہے ان پنجروں کو دیا گیا جہاں مسترد شدہ عشاقِ پاکستان کی ایک بڑی تعداد دھوکے اور بدیانتی کی قیمت نسلوں تک چکاتی رہی ہے۔ یہ انتظار چند ہفتوں کا تھا، مگر نسلوں پر محیط ہو گیا۔ میں ایسی باتیں، یادیں اور شکایتیں برسوں سے دستاویز کر رہی ہوں۔ بنگلہ دیش میں پاکستانی میڈیا کے حالیہ دورے نے کچھ زخم پھر سے کرید دیئے۔ وہ زخم جو وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہوئے، صرف سطح کے نیچے دب گئے تھے۔

چون برس بعد چند ولاگرز اور صحافی اس سمت متوجہ ہوئے۔ ان میں ایک نام ولی اللہ معروف کا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ کراچی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور لکھاری ہیں۔ مگر ان کا تعارف اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ بچھڑے خاندانوں کو تلاش کرنے، پاکستان میں رہ جانے والی بہاری خواتین کو ان کے اہلِ خانہ سے ملانے، اور بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جدا ہو جانے والے رشتہ داروں کا سراغ لگانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے ڈھاکہ کے علاقے محمد پور میں واقع جنیوا کیمپ کا دورہ کیا وہی مقام جہاں 1971ء کے بعد ہزاروں بہاری پاکستانی یہ سوچ کر رک گئے تھے کہ حکومت انہیں جلد پاکستان منتقل کر دے گی۔ وہ "چند ہفتے” اب پچاس برس سے زیادہ کا انتظار بن چکے ہیں۔ پہلی نسل نے انتظار میں بڑھاپا دیکھا، دوسری نسل نے اسی انتظار میں آنکھ کھولی، اور تیسری نسل بھی اسی وراثتی تقدیر کی وارث ہے۔

”اس تصویر میں اپنے ڈھاکہ والے گھر میں اپنے والدین ( مرحوم پروفسور نظیر صدیقی اور فرحت ملک ) کے ساتھ ہوں۔ گھر کا حالیہ اور اصلی پتا بھی درج کر دیا ہے ۔ سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ مرحوم ایوب سے مقتول اسد تک اور مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کیا کیا قیامتیں بیت گیئں ۔ ایوب سے مراد صدر جنرل یا فیلڈ مارشل ایوب ہے جب کہ اسد ایک رکن تھے عوامی لیگ کے-
اب کیا نام رکھا گیا ہے یا رکھا جائے گا میں نہیں جانتی ۔“ ڈاکٹر رخشندہ پروین
موجودہ پتہ
69-C محمد پور، اسد ایونیو،
نزد اسد گیٹ، ڈھاکہ، بنگلہ دیش
اصل پتہ
69-C محمد پور، ایوب ایونیو،
نزد ایوب گیٹ، ڈھاکہ، مشرقی پاکستان

معروف صاحب کے مطابق جب وہ کیمپ کی گلی میں داخل ہوئے تو لباس دیکھ کر کچھ لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔ لوگ قریب آنے لگے۔ کوئی کراچی کے اورنگی ٹاؤن کا نام لیتا، کوئی لانڈھی کا، کوئی کہتا خالہ وہاں ہے، کوئی کہتا بہن بھائی پاکستان میں ہیں ہم یہاں پھنس گئے۔

وہ ان کے گھروں میں گئے۔ چار بائی چار، چھ بائی آٹھ کے پنجرہ نما کمرے، جن میں چھ چھ، سات سات افراد رہتے ہیں۔ دروازہ کھلے تو کمرہ شروع۔ دونوں ہاتھ پھیلائیں تو دیواریں چھو جائیں۔ جب جگہ کم پڑی تو اوپر ایک منزل، پھر دوسری مگر اب نہ اوپر جانے کی گنجائش ہے، نہ کہیں اور نکلنے کا راستہ۔ اینٹیں اوپر چڑھتی گئیں، امکانات نیچے دبتے گئے۔

بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں ملتا۔ اگر کسی طرح مل بھی جائے اور بعد میں پتہ چلے کہ وہ جنیوا کیمپ سے ہیں، تو رویہ بدل جاتا ہے۔ سرکاری نوکری میسر نہیں۔ "پاکستانی” اور "بہاری” کا طعنہ آج بھی ساتھ چلتا ہے۔ شناخت یہاں سہارا نہیں، بوجھ ہے۔

اسی دورے میں ایک بزرگ نے قبرستان کی طرف اشارہ کر کے وہ جملہ کہا جو اس تحریر کا عنوان بن گیا۔ معروف صاحب اور ان کی ٹیم بمشکل اپنے آنسو روک پائے۔ منظر کیمرے میں محفوظ ہو گیا، مگر اس کا بوجھ صرف ویڈیو میں نہیں، دلوں پر بھی اتر گیا۔

جب اس دورے کی خبریں پھیلیں تو سوشل میڈیا پر ردِعمل آیا۔ ایک پاکستانی قاری، کلیم اللہ صاحب، نے لکھا:

"افسوس صد افسوس! احسن اقبال اور وفد کا بنگلہ دیش میں شبنم سمیت دیگر لوگوں سے ملاقات کرنا اور مشرقی پاکستان کے محصورین سے ملاقات کا موقع نہ نکالنا ایک بڑا سانحہ ہے۔”

یہ تبصرہ محض ایک فرد کی رائے نہیں، بلکہ ایک اجتماعی احساسِ محرومی کی بازگشت ہے۔ جب پاکستان کا سرکاری وفد بنگلہ دیش جائے اور محصورین سے ملنے کا وقت نہ نکالے، تو یہ محض ایک چوک نہیں لگتی — یہ تاریخی بے حسی کے تسلسل کا احساس دلاتی ہے۔

میں صرف محقق یا صحافی نہیں ہوں میں خود ان میں سے ہوں۔ محمد پور میں ہمارا گھر تھا۔ وہ گھر جو ہمیں چھوڑنا پڑا۔ جس نسل کشی کا ہم شکار ہوئے، آج تک اسے تسلیم نہیں کیا گیا، نہ کوئی احتساب ہوا۔ میں پندرہ برس سے اردو اور انگریزی میں لکھ رہی ہوں، تقریریں کر رہی ہوں، پوڈکاسٹ کر رہی ہوں اس امید میں کہ شاید کوئی سنے، شاید کوئی پوچھے۔

چون برس بعد جب کچھ پاکستانی کیمرے وہاں پہنچے تو میں رو پڑی۔ یہ آنسو خوشی کے بھی تھے اور درد کے بھی۔ خوشی اس بات کی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا؛ درد اس بات کا کہ اتنی دیر کیوں لگی؟ جو انصاف کے منتظر تھے، ان میں سے کتنے اب باقی بھی ہیں؟

ولی اللہ معروف بچھڑے خاندانوں کو ملا رہے ہیں۔ میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتی، نہ ان کی فنڈنگ یا وسائل سے آگاہ ہوں۔ مگر جو کچھ سامنے آیا ہے، وہ انسانی ہے، قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کیمپ میں ان افراد کی تفصیلات لیں جو پاکستان میں اپنے خاندانوں کی تلاش میں ہیں، وعدے کیے، اور آگے بڑھ گئے۔ یہ ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش ہے — اور اس کی قدر ہونی چاہیے۔

لیکن ایک سوال ایسا ہے جسے میں دبانے سے قاصر ہوں: معروف صاحب کھوئے ہوئے افراد کو ڈھونڈ رہے ہیں، مگر کھوئے ہوئے ضمیر کو کون ڈھونڈے گا؟

پاکستان نے اپنے شہریوں کو چھوڑ دیا۔ شہریت سلب کی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، شناخت کے کئی سیاسی ڈرامے ہوئے۔ بنگلہ دیش نے بھی مساوی شہریت کے وعدے کیے، پھر خاموشی اختیار کر لی۔ یہ محض انتظامی غلطی نہیں تھی یہ ریاستی انکار تھا۔

آج ستر فیصد لوگ پاکستان جانے کا مطالبہ بھی چھوڑ چکے ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش انہیں انسان تسلیم کرے تعلیم دے، نوکری دے، وجود تسلیم کرے۔ یہ مایوسی کی انتہا ہے، جب انسان وطن نہیں، صرف شناخت مانگنے لگے۔

اور پاکستان میں انسانی حقوق کی بات کرنے والے؟ وہ ادارے جو "انسانیت کی خدمت” کے ایوارڈ لیتے ہیں؟ وہ صحافی، دانشور، سفارت کار جنہوں نے بنگالی بیانیے کو تو جگہ دی، مگر کبھی یہ نہیں پوچھا کہ بہاری کہاں گئے؟ ان کی لوٹی ہوئی جائیدادیں کہاں گئیں؟ ان کے قتلِ عام کا ذکر کیوں نہیں ہوتا؟

یہ سوال میں پندرہ برس سے اٹھا رہی ہوں۔ آج بھی اٹھا رہی ہوں۔ معروف صاحب کا کام دلوں کو ملاتا ہے مگر ضرورت اس سے بڑی ہے۔ ضرورت ایک ایسے اجتماعی احتساب کی ہے جو ریاست کے کھوئے ہوئے ضمیر کو تلاش کرے۔ جو اکادمیا، صحافت، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خارجہ پالیسی کے ایوانوں میں بیٹھے ان لوگوں کو جھنجھوڑے جنہوں نے محبِ پاکستان بہاری کمیونٹی کو نظرانداز کیا کیونکہ ان کا درد سنانے میں سیاسی فائدہ نہیں تھا۔

یہ لوگ آج بھی موجود ہیں ڈھاکہ کے پنجرہ نما کمروں میں۔ بنگلہ دیش کی مکمل شناخت سے محروم، پاکستان سے بھلائے ہوئے۔ آباد نہیں بس موجود۔

اور میں، ایک زندہ گواہ کی حیثیت سے، آج بھی یہی سوال دہراتی ہوں:

گمشدہ ضمیر کو کون ڈھونڈے گا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے