موضوع کا تعارف:
یہ تحریر "عقل اور نقل” کے موضوع پر روشنی ڈالتا ہے، جس میں انسانی عقل اور وحی (نقل) کے درمیان تعلق اور حدود کو واضح کیا گیا ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ خدا سے تعلق اور دینی احکام کی اصل بنیاد وحی یعنی نقل ہے، جبکہ عقل اس میں تفہیم اور تفسیر کا معاون ذریعہ ہے۔
تصوف کے حوالے سے بھی بحث کی گئی ہے کہ روحانی تجربات کی عقلی تشریح ممکن ہے، لیکن یہ تشریح شریعت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
مضمون میں پیش کیے گئے مختلف اشکالات اور ان کے جوابات کے ذریعے علمی مباحثے کو احترام اور تحمل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، نیز حق کی پہچان میں عقل و نقل دونوں کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
آخر میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ علم و حکمت کا حقیقی ماخذ خدا ہے، جس نے انسان کو علم اور عقل عطا فرمائے، اور ان دونوں کے متوازن استعمال کا راستہ انبیاء کرام نے دکھایا ہے۔
("محترم اعجاز عمر خیل صاحب نے میری تحریر ‘عقل اور نقل’ پر چند سوالات اٹھائے تھے۔ اس تحریر میں اُن سوالات کی وضاحت کی کوشش کی گئی ہے۔
میری اصل تحریر "عقل اور نقل” (حصہ اوّل و دوم) کمنٹس سیکشن میں موجود ہے، اور جناب اعجاز عمر خیل صاحب کا تبصرہ بھی اسی سیکشن میں "تبصرہ”کے عنوان سے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
محترم جناب اعجاز عمر خیل صاحب! آپ کی جانب سے میری تحریر پر اٹھائے گئے اشکالات کی وضاحت سلسلہ وار پیشِ خدمت ہے۔
اشکال 1:
تحریر کا آغاز عقل اور نقل کے تقابلی تصور سے ہوتا ہے، جہاں عقل کو انسانی فہم اور نقل کو وحی کے ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔ مگر یہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نقل کا اطلاق صرف وحی پر کیوں محدود ہے، جب کہ "نقل” لغوی و اصطلاحی طور پر ہر مروّجہ علم و روایت پر صادق آتا ہے۔ چنانچہ اگر نقل محض وحی ہو، تو عقل کے ساتھ اس کا موازنہ ایک غیر ہموار تقسیم پر مبنی ہوگا، کیونکہ عقل علم کا آلہ ہے، جب کہ وحی علم کا ماخذ۔ ان دونوں کو مساوی مدِ مقابل رکھنا غیر دقیق اسلوبِ تنقید ہے۔
محترم!
آپ کا اعتراض اس نکتے پر قائم ہے کہ میری تحریر میں "نقل” کی اصطلاح کو صرف وحی تک محدود کیوں کر دیا گیا، جبکہ لغوی اور اصطلاحی لحاظ سے "نقل” ہر منقول علم، روایت یا مروّجہ ذخیرۂ علم پر صادق آتی ہے۔ آپ کا کہنا ہے کہ اگر نقل کو صرف وحی پر محصور کر دیا جائے تو پھر عقل و نقل کا تقابل علمی طور پر غیر متوازن ہو جاتا ہے، کیونکہ عقل علم کا ذریعہ یا آلہ ہے، جبکہ وحی ماخذِ علم۔ یہ بات بذاتِ خود لغوی لحاظ سے درست ہے، لیکن گزارش ہے کہ میری تحریر میں "نقل” کا استعمال عام مفہوم میں نہیں، بلکہ ایک مخصوص علمی و موضوعی سیاق میں کیا گیا ہے، جس کی وضاحت خود تحریر کے آغاز میں ہی موجود ہے۔
میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ یہاں "عقل” سے مراد انسانی فہم، شعور اور استدلال کی صلاحیت ہے، اور "نقل” سے مراد وہ دینی ہدایات اور تعلیمات ہیں جو وحی کی صورت میں انسان کو میسر آئیں۔ گویا اصطلاحات کی یہ تخصیص ابتدا ہی میں متعین کر دی گئی تھی تاکہ قارئین کے ذہن میں کوئی ابہام نہ رہے۔ چونکہ تحریر کا موضوع عقل اور وحی کے باہمی تعلق کا جائزہ ہے، اس لیے "نقل” کی تحدید صرف وحی تک کرنا ایک علمی تقاضا بھی تھا اور فکری دیانت کا تقاضا بھی۔
آپ نے درست فرمایا کہ عقل بذاتِ خود ماخذِ علم نہیں بلکہ فہم کا ذریعہ ہے، جبکہ وحی ماخذِ علم ہے۔ لیکن میرے مضمون میں ان دونوں کو متوازی ذرائعِ علم قرار دے کر تقابل میں نہیں رکھا گیا، بلکہ اس سوال کو اٹھایا گیا ہے کہ جب انسان وحی سے واسطہ رکھتا ہے تو اس کی عقل کا کردار کیا ہوتا ہے؟ وحی کو سمجھنے، اس سے استدلال کرنے، اور اس پر عمل کرنے کے لیے جو فکری سرگرمی لازم ہے، وہ عقل کے بغیر ممکن نہیں۔ گویا میری تحریر عقل اور وحی کو باہم مدِّ مقابل رکھنے کے بجائے، عقل کو وحی کے فہم و تعامل کا فطری وسیلہ قرار دیتی ہے۔
آپ نے جس پہلو پر اعتراض کیا ہے، وہ اس وقت وزن رکھتا جب میں نے "نقل” کی تحدید کیے بغیر اسے عقل کے مقابل لا کر کھڑا کیا ہوتا۔ لیکن چونکہ سیاق و سباق میں وضاحت کے ساتھ اصطلاحی تحدید موجود ہے، لہٰذا آپ کا اعتراض ایک ایسی عمومی تعریف پر مبنی ہے جو اس مخصوص موضوع پر چسپاں نہیں کی جا سکتی۔
اس صورتِ حال کو ایک سادہ مثال سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے: فرض کریں کہ کوئی شخص اردو زبان پر مضمون لکھتا ہے اور شروع میں یہ وضاحت کرتا ہے کہ "یہاں زبان سے میری مراد صرف ‘اردو’ ہے”۔ اب اگر کوئی قاری یہ اعتراض کرے کہ "زبان” تو عربی، فارسی، انگریزی سب پر صادق آتی ہے، آپ نے صرف اردو کو کیوں چُنا؟ تو یہ اعتراض بجا نہیں رہے گا، کیونکہ مضمون نگار نے آغاز میں اپنا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں اعتراض کا مطلب صرف مفہوم کی عام لغوی وسعت سے چمٹے رہنا ہوگا، نہ کہ اصل تحریر کی علمی جہت کو سمجھنا۔
بالکل اسی طرح، میری تحریر میں "نقل” کی اصطلاح کو عام علمی یا تاریخی روایات کے بجائے صرف وحی کے مفہوم میں محدود کیا گیا ہے تاکہ عقل اور وحی کی علمی نوعیت اور باہمی نسبت پر ارتکاز ممکن ہو۔ پس، یہ تخصیص کسی غلط فہمی یا تعصب پر نہیں بلکہ سیاقِ موضوع اور علمی وضاحت کی غرض سے کی گئی ہے، جس کی پوری تحریر گواہ ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ میں نے عقل اور وحی کو مساوی یا متوازی بنیادوں پر تقابل میں رکھ دیا ہے، ایک فہمی مغالطہ ہے جو نہ تحریر کی زبان سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کے مفہوم سے۔ یہ ایک علمی استدلال کو عمومی لغوی مفہوم سے کاٹ کر پرکھنے کی کوشش ہے، جو کسی سنجیدہ تنقید کا معیار نہیں بن سکتی۔
اشکال 2:
تحریر میں تین گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے: ایک وہ جو عقل کو معیار بناتے ہیں، دوسرا وہ جو عقل کو معطل کرتے ہیں، اور تیسرا وہ جو عقل و نقل کے تصادم پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ تقسیم بظاہر مربوط ہے، مگر درحقیقت ایک خیالی توازن پر قائم ہے۔ یہاں گروہوں کو علمی بنیاد پر واضح نہیں کیا گیا، بلکہ ان پر ایسے اعتراضات عائد کیے گئے ہیں جن میں ان کے اصل علمی موقف کا استحضار نہیں۔ ان پر رد قائم کرتے ہوئے جس "اسلامی توازن” کو پیش کیا گیا ہے، وہ خود اسی عقل کی تصدیق سے وجود پاتا ہے جسے بعض مقامات پر معیار ماننے سے انکار کیا گیا ہے۔
محترم!
آپ نے میری تحریر میں مذکور تین گروہوں کی تقسیم کو "خیالی توازن” قرار دیا اور فرمایا کہ ان پر ایسے اعتراضات کیے گئے ہیں جو ان کے اصل علمی موقف کو سمجھے بغیر ہیں۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جن رویوں پر تنقید کی گئی ہے، ان کے رد میں جو "اسلامی توازن” پیش کیا گیا، وہ خود اسی عقل کی تصدیق سے وجود پاتا ہے جسے بعض مقامات پر معیار ماننے سے انکار کیا گیا ہے۔
گزارش ہے کہ میری یہ تقسیم نہ کسی قیاسی یا مصنوعی توازن پر قائم ہے، نہ فرضی گروہ بندی پر۔ بلکہ یہ عصرِ حاضر کے نمایاں فکری رجحانات کے مشاہدے پر مبنی ہے جو علمی و فکری سطح پر بارہا دیکھے جا سکتے ہیں:
1. وہ طبقہ جو عقل کو مطلق معیار بناتا ہے اور ہر دینی بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی قبول کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔
2. وہ طبقہ جو عقل کو دینی معاملات میں ناقابلِ اعتبار سمجھ کر اس کا کوئی اعتبار باقی نہیں رہنے دیتا۔
3. وہ رویہ جو عقل اور وحی (نقل) کے درمیان تضاد کا قائل ہے، اور اس تضاد کو علمی و دینی کشمکش کی بنیاد تصور کرتا ہے۔
یہ گروہی تناظر میرے مشاہدے اور دینی مباحث میں جاری گفتگو کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے، نہ کہ کسی ذاتی قیاس پر۔ آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ میں نے ان گروہوں کی علمی تفصیلات بیان نہیں کیں، لیکن اس کی ایک معقول وجہ ہے: میری تحریر کا مقصد کسی مکتبِ فکر یا شخصیت کی مفصل علمی گرفت نہیں تھا، بلکہ ان عمومی رجحانات کی نشان دہی اور ان پر اصولی تبصرہ کرنا تھا جو دینی فہم میں افراط و تفریط پیدا کرتے ہیں۔ ایسے عمومی تجزیے میں کسی ایک فکر یا شخصیت کی جزئیات کا حوالہ دینا موضوع کے بوجھل پن اور غیر ضروری طوالت کا باعث بنتا ہے۔
اب رہا آپ کا یہ اعتراض کہ میں نے جس "اسلامی توازن” کو پیش کیا، وہ بھی عقل کی تصدیق سے حاصل ہوتا ہے—تو گزارش ہے کہ میری پوری تحریر کا مرکزی مقدمہ ہی یہی ہے کہ عقل کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کا استعمال اپنے دائرۂ اختیار میں۔ میں نے کسی مقام پر عقل کو استعمال کرنے سے انکار نہیں کیا، بلکہ یہ واضح کیا ہے کہ عقل اگر وحی کی فہم و تطبیق میں کام آئے تو یہ عین دینی تقاضا ہے، لیکن اگر وہ وحی کی صداقت یا ماخذ ہونے پر خود کو حَکم بنا لے، تو یہ علمی انحراف ہے۔
بعض اوقات کسی فکری رویے پر تنقید، اس کے دلائل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے نتائج کے اعتبار سے کی جاتی ہے . خاص طور پر جب وہ نتائج ناقد کے مسلمہ اصولوں کے بالکل خلاف ہوں۔ ایسی صورت میں دلائل کا جائزہ لینا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ اگر نتیجہ ہی بدیہی طور پر غلط ہو تو اس کی بنیاد کا جائزہ لینے کی حاجت باقی نہیں رہتی۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ "انسان انگلیوں سے سانس لیتا ہے”، تو ہم اس کے دلائل سننے سے پہلے ہی کہیں گے کہ یہ دعویٰ ہمارے مشاہدے اور بدیہیات کے سراسر خلاف ہے۔ اگر وہ شخص یہ کہے کہ "آپ میرے دلائل سنے بغیر کیسے رد کر سکتے ہیں؟”، اور مزید یہ کہے کہ "آئیے آپ کو دس منٹ پانی میں ڈبوتا ہوں، صرف آپ کی انگلیاں باہر ہوں گی، تاکہ تجربے سے ثابت کر سکوں”، تو کیا کوئی عقل مند شخص یہ تجربہ کرنے پر آمادہ ہوگا؟ ظاہر ہے نہیں، کیونکہ جو بات مشاہدے اور فطری علم کے سراسر خلاف ہو، اس کے دلائل سننے کی ضرورت نہیں۔
بالکل اسی اصول پر، میں نے ان تین فکری رجحانات کو ان کے ظاہر نتائج کی بنیاد پر رد کیا ہے، کیونکہ وہ اسلام کے مسلمہ اصولوں — وحی کی بالادستی، عقل کی معاونت، اور ان دونوں میں باہمی ہم آہنگی — کے خلاف جاتے ہیں۔ اس لیے ان گروہوں کے دلائل کی تفصیل میں جانا میری تحریر کا مقصد نہ تھا، نہ ضروری۔
خلاصۂ مدعا یہ ہے کہ میری تحریر کا مقصود یہ ہے کہ دینی فہم میں عقل اور وحی دونوں کی اپنی جگہ ہے، لیکن عقل کو وحی کے تابع رہنا ہے، نہ کہ اس پر حاکم بننا؛ اور نہ ہی اسے وحی کے فہم سے مکمل طور پر خارج کر دینا ہے۔ ان تین فکری رویوں — عقل پرستی، عقل گریزی، اور عقل و نقل کے تصادم — پر تنقید اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ ان کے نتائج اسلامی فکری نظام سے متصادم ہیں۔ ان پر کیے گئے اعتراضات کسی شخص یا مکتب پر فرداً فرداً نہیں، بلکہ عمومی رجحانات پر اصولی سطح پر کیے گئے ہیں۔ آپ کا اعتراض دراصل اس عمومی تجزیے سے ایسی تفصیل کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس تجزیے کی نوعیت میں شامل ہی نہیں تھی۔
لہٰذا، نہ میری تقسیم خیالی ہے، نہ میرا رد سطحی، اور نہ میری پیش کردہ توازن عقل کی نفی پر مبنی۔ برعکس اس کے، میری پوری تحریر عقل کے مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، اسے وحی کے تابع رکھنے کی فکری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
اشکال 3:
تحریر میں بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اسلام عقل کو محض ایک فہم کا آلہ تسلیم کرتا ہے، معیار نہیں۔ لیکن اسی تحریر میں یہ بھی مانا گیا ہے کہ یہ عقل ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی بات محض وحی سے جانی جا سکتی ہے۔ یہیں پر ایک اہم تضاد جنم لیتا ہے: اگر عقل یہ طے کرے کہ یہاں سے وحی کی پیروی ضروری ہے تو پھر وہی عقل، نقل کے حدود متعین کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ عقل کو معیار نہیں مانا گیا، دراصل دلیل کی اپنی بنیاد کو رد کرنا ہے۔
محترم!
آپ نے میری تحریر کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے کہ "اسلام عقل کو فہم کا آلہ مانتا ہے، معیار نہیں”، اور اس بنیاد پر سوال اٹھایا ہے کہ اگر عقل یہ فیصلہ کرے کہ کہاں وحی کی ضرورت ہے، تو پھر تو وہی عقل وحی کے دائرے کی حد بندی کر رہی ہے — اور اس صورت میں عقل کو "معیار” نہ ماننا ایک تضاد ہوگا۔
اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ "عقل کو فہم کا آلہ ماننے” کا مفہوم درست طور پر سمجھا جائے۔ عقل انسانی فہم، ادراک اور استدلال کا وہ ذریعہ ہے جو معانی کو سمجھنے، اشیاء کے باہمی ربط کو پہچاننے، اور دلائل کی منطقی ساخت کو جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، عقل کی یہ صلاحیت صرف ان امور تک محدود ہے جو اس کی گرفت میں آ سکتے ہیں؛ یعنی وہ مشاہدہ، تجربہ یا قیاس کی بنیاد پر پرکھے جا سکیں۔ غیبی یا ماورائی حقائق کے باب میں عقل فیصلہ کن معیار نہیں بن سکتی، کیونکہ وہ ان امور کو بذاتِ خود نہیں جان سکتی — اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر اسلام میں وحی کی ضرورت ابھرتی ہے۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ "یہ عقل ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کہاں سے وحی درکار ہے”، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ عقل وحی کے مضامین پر کوئی حکم چلاتی ہے یا وحی کی حدود و قیود طے کرتی ہے، بلکہ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ عقل اپنی محدودیت کو پہچان کر وہ مقام متعین کرتی ہے جہاں وہ مزید آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔ یہی شعور عقل کو وحی کی طرف رجوع پر آمادہ کرتا ہے۔ اس مقام پر عقل کا کردار ایک متواضع سالک کا ہے، نہ کہ کسی مقتدر قاضی کا۔
آپ کے اعتراض میں جس تضاد کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ دراصل اس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ عقل کا وحی کی ضرورت کا شعور حاصل کرنا، خود عقل کو وحی پر حاکم قرار دے دیتا ہے۔ حالانکہ یہاں عقل کے "انکساری عمل” کو "حاکمانہ اختیار” کے طور پر سمجھ لیا گیا ہے، جو حقیقت کے خلاف ہے۔ کیا عقل کا اپنی بےبسی تسلیم کرتے ہوئے وحی کی طرف رجوع کرنا، اسے وحی پر حکم چلانے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ تو عقل کی برتری نہیں بلکہ اس کی احتیاج کا اعتراف ہے۔ آپ کی یہ بات کہ "پھر وہی عقل نقل کے حدود متعین کر رہی ہے”، اسی وقت قابلِ قبول ہو سکتی تھی جب عقل یہ دعویٰ کرتی کہ "میں وحی کو پرکھوں گی اور جو میری سمجھ میں آئے گا صرف وہی قبول کروں گی” — جب کہ میری تحریر میں مسلسل یہ وضاحت کی گئی ہے کہ عقل وحی کے مندرجات پر حکم نہیں چلاتی بلکہ ان کی تفہیم میں معاونت کرتی ہے۔
درحقیقت، عقل کا وحی کی ضرورت کا ادراک کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ انسان اپنی فطری، عقلی کاوشوں کے بعد بھی ایک ایسے ہدایت دینے والے ماخذ کا محتاج ہے جو ماورائے فہم حقیقتوں سے آگاہی دے سکے۔ یہ ادراک عقل کو مقامِ تسلیم پر لے آتا ہے . یہ تسلیم، حاکمیت کی نفی ہے اور عبودیت کی ابتدا۔ اس لیے عقل کو رہنمائی تک پہنچنے کا ذریعہ ضرور کہا جا سکتا ہے، لیکن وہ خود رہنمائی دینے والی نہیں بن سکتی۔
چنانچہ آپ کا اعتراض دراصل ایک فرضی تضاد کو بنیاد بنا کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ عقل ایک فہم بخشنے والا آلہ ہے، جو اپنی حدود کو پہچان کر وحی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس رجوع کا مطلب یہ نہیں کہ عقل وحی کی حاکم ہے، بلکہ یہ کہ وہ اپنی نارسائی کا شعور رکھتی ہے اور رہنمائی کی حاجت مند ہے۔ یہی شعور اسے ہدایت کا طالب بناتا ہے، نہ کہ اس کا قاضی۔
اشکال 4:
ایمان بالغیب کی تشریح میں تحریر اسے محض غیر محسوسات پر ایمان ماننے کے بجائے "چھپی ہوئی سچائی” کا قبول کرنا قرار دیتی ہے۔ مگر یہاں بھی یہ بات نظر انداز کر دی گئی ہے کہ عقل غیر محسوس حقیقتوں تک رسائی کے لیے محض ایک مفروضاتی راستہ ہے، حتمی ذریعہ نہیں۔ جب کسی صادق انسان کی روزمرہ باتوں سے یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ وہ دیگر ماورائی باتوں میں بھی سچا ہوگا، تو یہ استدلال دراصل قیاس ہے، نہ کہ یقینی دلیل۔ ایسے میں عقل کو ایک حد تک کارآمد مان کر اس سے قطعیت اخذ کرنا منطقی جَست ہے۔
محترم!
آپ کا نقد یہ ہے کہ ایمان بالغیب کو محض غیر محسوسات پر ایمان ماننے کے بجائے "چھپی ہوئی سچائی” کو قبول کرنا قرار دینا درست نہیں، کیونکہ عقل غیر محسوس حقیقتوں تک رسائی کے لیے محض ایک مفروضاتی ذریعہ ہے، حتمی نہیں۔ اور کسی صادق انسان کی دنیاوی صداقت کو بنیاد بنا کر اس کی ماورائی باتوں کو مان لینا قیاس ہے، نہ کہ یقینی دلیل۔ ایسے میں عقل سے قطعیت اخذ کرنا ایک منطقی جَست ہے۔
لیکن یہاں تنقید کے دوران جس چیز کو نظرانداز کر کے اعتراض کی بنیاد قائم کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ایمان بالغیب کو "محض غیر محسوسات پر ایمان لانا” نہیں بلکہ "چھپی ہوئی حقیقتوں کو ماننا” قرار دیا گیا ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں، بلکہ مفہوم کی بنیاد بدل دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کا مفہوم ہی یہ ہے کہ کسی چیز کو علم اور ادراک کے ساتھ دل سے تسلیم کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا شک باقی نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تسلیم کرنا محض غیر محسوسات سے متعلق نہیں ہو سکتا، بلکہ حقائق سے متعلق ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ محسوس ہوں یا غیر محسوس۔
ایسی غیبی حقیقت جس کا صدق کسی دوسرے راستے سے معلوم ہو چکا ہو، اور جس کی صداقت پر دل مطمئن ہو چکا ہو، اس پر یقین رکھنا عقل کا فطری تقاضا ہے، نہ کہ کوئی غیر علمی جَست۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں "چھپی ہوئی حقیقت” کو ایمان بالغیب کی تشریح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، تاکہ سائل اسے شعوری، تجرباتی، عقلی اور قلبی دائرے میں سمجھے، نہ کہ اندھا ایمان یا مفروضہ۔
"ایمان بالغیب” کی اصطلاح بذاتِ خود ان حقیقتوں کے تسلیم کرنے پر مشتمل ہے جو فی الحال انسانی حواس کی گرفت سے باہر ہیں، لیکن ان کا موجود اور سچا ہونا ایسے ذرائع سے واضح ہو چکا ہوتا ہے جن کی بنیاد وحی، سیرت، تاریخ اور عقل میں پیوست ہوتی ہے۔ اگر اس وضاحت کو سیاق و سباق اور ایمانی اصطلاحات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ تشریح ایمان بالغیب کو زیادہ قابلِ فہم، مربوط اور عقلاً قابلِ قبول بنا دیتی ہے۔
اب اعتراض کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں: کہ کسی صادق انسان کی روزمرہ سچائیوں سے اس کے ماورائی دعووں کو سچ ماننا محض قیاس ہے۔ یہاں گزارش ہے کہ یہ بات کسی عام صادق انسان پر تو لاگو ہو سکتی ہے، لیکن جس شخصیت کی بات یہاں ہو رہی ہے، وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں — ایسا انسان جن کی صداقت، دیانت، فہم، حکمت اور اخلاق ہر پہلو سے بے مثال ہیں۔ ان کے پاس علم کا وہ ذریعہ تھا جو کسی اور انسان کے پاس نہیں۔ ان کا علم وحی پر مبنی تھا، جس میں نہ تضاد تھا، نہ ظن، نہ قیاس، بلکہ کامل، قطعی اور حقیقی باتیں تھیں۔
ان کی زندگی ایسی کھلی کتاب تھی جو چالیس برس کی سچائی، نبوت کے تیئیس برس کی جدوجہد، اور وفات کے بعد چودہ صدیوں کے اثرات کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ ان کی سیرت، ان کا علم، ان کے فیصلے، ان کی خاموشی، ان کا کردار — سب کچھ مشاہدے کے دائرے میں تھا۔ ایسے انسان کی غیبی باتوں کو ماننا محض قیاس نہیں بلکہ ایک مکمل، مسلسل اور متواتر تجربے پر مبنی عقلی اور قلبی یقین ہے۔
درحقیقت، رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو ماننا محض عقلی قیاس کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مشاہدے، مسلسل تجربے، اور قلبی اطمینان کے بعد یقین کے مرتبے پر پہنچنے کا سفر ہے۔ یہ ایسا ایمان ہے جو محض سنی سنائی بات یا عارضی تاثر کا نتیجہ نہیں، بلکہ غور، تدبر، تحقیق اور دل کی گواہی سے پیدا ہوا ہے۔ یہ مشاہدہ اور فہم اس درجے کا ہوتا ہے کہ وہ ایمان صرف ایک عقلی مفروضہ نہیں رہتا، بلکہ قلبی یقین بن جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عقل اور فطرت دونوں انسان کو گواہی دیتی ہیں کہ یہ انسان (محمد ﷺ) اپنے دعوے میں سچا ہے، اور اگر وہ غیب کی کوئی بات کہے، تو وہ بات بھی سچ ہے۔ یہاں تک کہ یہ ایمان عشق میں بدل جاتا ہے — لیکن یہ عشق کوئی اندھا جذبہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے وہ ناقابلِ تردید شواہد، تجربات، اور مشاہدات ہوتے ہیں جو صرف نظر نہ آنے والے کے لیے نہیں، بلکہ دل میں اُتر جانے والے حقائق کے لیے ہوتے ہیں۔
لیکن جو حضرات ان مشاہدات، دلائل اور تاریخ سے کماحقہ واقف نہ ہوں، انہیں صرف "عشق” نظر آتا ہے اور وہ اسے غیر عقلی سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ درحقیقت وہ ایمان جس کا ظہور عشق کی صورت میں ہوتا ہے، ایک مکمل شعوری، عقلی، تجرباتی اور قلبی سفر کا حاصل ہوتا ہے۔
یہ بات ایک تمثیل سے مزید واضح ہو سکتی ہے:
فرض کیجیے ایک اسکول ہے، جس میں روزانہ ایک بچہ یونیفارم اور اسکول بیگ کے ساتھ آتا ہے، کلاس میں بیٹھتا ہے، یومِ والدین پر اس کے والدین بھی آتے ہیں، اساتذہ سے اس کا تذکرہ ہوتا ہے، رزلٹ کارڈ لیتا ہے، ایوارڈز حاصل کرتا ہے، اور یہ سب کچھ ایک شخص مسلسل دس سال تک دیکھتا ہے۔
اب اگر وہ مشاہدہ کرنے والا شخص یہ حکم لگائے کہ "یہ بچہ اس اسکول کا طالب علم ہے”، تو کیا یہ قیاس ہوگا یا قطعی علم؟ اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ مشاہدہ کرنے والے نے رجسٹر نہیں دیکھا، اس لیے یہ حکم محض قیاس ہے، تو یہ اعتراض خود عقل پر ظلم ہوگا۔
بالکل یہی معاملہ رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ ان کی سچائی، ان کا کردار، ان کا علم، ان کے فیصلے، ان کی تعلیمات — سب کو تاریخ اور انسانوں نے مسلسل پرکھا۔ یہ کوئی ایک دن یا ایک واقعے پر ایمان نہیں بلکہ ایک طویل، مربوط اور تجرباتی مشاہدے کا نتیجہ ہے، جس پر ایمان بالغیب قائم ہوتا ہے۔ اسے اگر کوئی "منطقی جَست” کہتا ہے تو شاید اسے اس مشاہدے کی معنویت اور نبوت کی نوعیت پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اشکال 5:
تحریر کا ایک پہلو یہ ہے کہ عقل و نقل کا تصادم صرف عیسائی مفکرین کے پیدا کردہ ذہنی مغالطے کی پیداوار ہے۔ یہ دعویٰ غیر تاریخی ہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی عقل اور نقل کی کشمکش متعدد علمی دبستانوں کے مابین واضح رہی ہے۔ امام غزالی اور ابن رشد کے مکالمے اس کی مثال ہیں۔ کلامی مکاتب جیسے اشاعرہ اور معتزلہ، نیز فقہاء اور صوفیہ کے درمیان موجود اختلافات اسی بنیادی تناؤ کا اظہار ہیں۔ عیسائیت کو بنیاد بنانا اور اسلام کو اس سے کلیتاً مبرا قرار دینا ایک طرفہ استدلال ہے۔
محترم!
عقل و نقل کے درمیان جس تصادم کا ذکر بعض اہلِ فکر کی طرف سے کیا جاتا ہے، وہ درحقیقت اسلامی اصولی فکر کی ترجمانی نہیں کرتا، بلکہ مغربی تاریخ میں پیدا ہونے والے خاص ذہنی مغالطے کا نتیجہ ہے۔ اسلام کے اصولی مآخذ، یعنی قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ، آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں، اور ان میں عقل و نقل کے درمیان کسی قسم کا تضاد، تصادم یا مخالفت نہیں پائی جاتی۔ قرآن بار بار انسان کو عقل کے استعمال، تدبر، غور و فکر اور شعور کی طرف بلاتا ہے۔ یہ بات ہر پڑھنے والا شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ عقل اور وحی کا باہمی تعلق اسلام میں تضاد کا نہیں بلکہ تکمیل اور رہنمائی کا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ بعض علمی مکاتبِ فکر جیسے اشاعرہ، معتزلہ، یا امام غزالی اور ابن رشد کے درمیان عقل و نقل کے حوالے سے مختلف تعبیرات موجود رہی ہیں، تو یہ اسلام کے اصولی پیغام کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس کے فہم و تفہیم میں واقع ہونے والے افراط و تفریط کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں بعض آراء یقیناً سنگین علمی غلطیوں پر مبنی تھیں، لیکن ان کا تعلق نہ تو وحی کے انکار سے تھا اور نہ ہی عقل و وحی کے باہمی تصادم کے کسی نظریے پر مبنی تھے، بلکہ یہ اختلافات صرف دین کی تعبیر میں فکری لغزش یا حد سے بڑھے ہوئے رجحانات کی شکل میں سامنے آئے۔ ان اختلافات کو اصولی اسلام پر منطبق کرنا ایک فکری زیادتی ہے۔
یہ بات یہاں وضاحت کے ساتھ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میری گفتگو ان فرقوں یا مکاتبِ فکر کی وکالت کے لیے نہیں ہے، نہ ہی میں ان کے تمام افکار و رویّوں کو درست قرار دے رہا ہوں۔ میں اس وقت اسلام کے اصولی اور علمی موقف کو بیان کر رہا ہوں، جسے ہم قرآن و سنت کے اصل ماخذ کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
یہاں بنیادی غلطی یہ کی جا رہی ہے کہ عقل اور نقل کے حوالے سے اسلام کے اصولی مؤقف کو مختلف افراد اور فرقوں کے روّیوں سے اخذ کیا جا رہا ہے، جبکہ میری تحریر میں کسی فرد، گروہ یا طبقے کے روّیے کو معیار بنانے کے بجائے عقل و نقل کے تعلق کے بارے میں صرف اور صرف اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو قرآن و سنت کے اصل مآخذ پر مبنی ہیں۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ان تاریخی اختلافات کو اسلام اور عقل کے مابین بنیادی یا اصولی تصادم کی مثال بنانا ایک غیر درست تناظر ہے۔ یہ ایک ایسا مغالطہ ہے جسے اگر قرآن و سنت کے براہِ راست مطالعے کی روشنی میں پرکھا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔
یہاں یہ بات بطور اصول ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلام میں عقل اور وحی کے درمیان کسی بنیادی تصادم کا کوئی وجود نہیں۔ اگر کسی مسلمان مفکر یا گروہ نے کبھی عقل و نقل کے درمیان تضاد کا تاثر پیش کیا بھی ہو، تو وہ اسلام کا نمائندہ مؤقف نہیں بلکہ اس شخص یا گروہ کی اپنی فکری لغزش تھی، جو اصولی طور پر خود قرآن و سنت کے معیار پر رد کیے جانے کے قابل ہے۔ اسلام ایسے کسی بھی رویّے کی اصولی تردید کرتا ہے۔
جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے، تو میرے خیال میں آپ جیسے صاحبِ مطالعہ فرد سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہو سکتی کہ جب خدا کے نازل کردہ دین کو عیسائیت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ہوئی، تو دین کے نام پر انسانوں کی عقل اور فطرت کا جو استحصال کیا گیا وہ ایک المناک داستان ہے۔ مثال کے طور پر "Council of Nicaea” (325ء) میں عیسائی عقیدے کو تثلیث کے نظریے کے گرد مرکوز کر دیا گیا، اور اختلافِ رائے کو کفر قرار دے کر عقل و سوال کی گنجائش ختم کر دی گئی۔ اسی طرح قرونِ وسطیٰ (Dark Ages) میں جب کلیسا نے سائنس اور فطرت کی دریافتوں کو مذہب دشمنی قرار دیا، تو گیلیلیو (Galileo Galilei) جیسے سائنس دانوں کو صرف اس بنا پر زبردستی توبہ کروائی گئی کہ ان کے مشاہدات بائبل کے ظاہری مفہوم سے مختلف تھے۔
اسی کے ردِ عمل میں جب یورپ میں مذہب بیزار تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے نہ صرف عیسائی مذہب بلکہ مذہب کے نام پر ہر چیز کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف کلیسا نے سخت گیر رویّے اختیار کیے، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے مذہب کو سرے سے ختم کر دینے کی مہم چلا دی۔ انہوں نے اصلاح کے نام پر جو کچھ کیا، وہ خود ایک انتہا پسندانہ رویّہ تھا۔ انہوں نے مذہب کے خلاف جو بغض اور تعصب اپنایا وہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ یہی متعصب رویّہ آج تک موجود ہے، اور ہم سب اس کے اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
مسلمانوں کا المیہ یہ رہا کہ ایک طرف عوام کو دینِ اسلام کے اصل علوم سے محروم رکھا گیا، اور دوسری طرف دینی اور عصری علوم کے درمیان ایک مستقل فاصلہ پیدا کر دیا گیا۔ اس فاصلے نے دونوں طرف ایسی غلط فہمیاں پیدا کیں کہ دینی طبقے نے عصری تعلیم یافتہ طبقے کو مغرب زدہ اور دین بیزار سمجھنا شروع کیا، جبکہ عصری طبقے نے دینی طبقے کو پسماندہ، دقیانوسی اور راہبوں جیسا تصور کیا۔ ان دوریوں کو کچھ افراد کے متشدد رویّوں نے مزید گہرا کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب اور عقل کی غلط تفہیم کے سبب ایک مصنوعی کشمکش کھڑی ہو گئی۔
اگر درمیان میں آپ جیسے عقل مند اور اصولی بنیادوں پر سوچنے والے لوگ موجود ہوتے، تو شاید بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جاتیں۔ آج بھی اگر آپ جیسے اہلِ عقل آگے آئیں اور قرآن و سنت کو اس کے اصل مآخذ سے سمجھ کر سنجیدگی سے پیش کریں، تو اصلاح کی امید باقی ہے۔ دینِ اسلام کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہے۔ اگر کسی نے اسے محدود گروہ کا دین بنا دیا ہے تو یہ کام آپ جیسے لوگ ہی رد کر سکتے ہیں، کیونکہ فہمِ دین اور قرآن و سنت کی بنیادیں آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں، جن کی روشنی میں ایسے تمام بے بنیاد دعوؤں کی تردید کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ ان کی طرف التفات کیا جائے۔
اسلام کی اصل دعوت عقل اور وحی کی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ اگر تعصب اور طبقاتی تقسیم سے اوپر اٹھ کر دین کے اصل پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، تو عقل و نقل کا کوئی ٹکراؤ باقی نہیں رہتا۔ تصادم صرف وہاں ہوتا ہے جہاں یا تو وحی تحریف شدہ ہو، یا عقل مقید اور متعصب۔ الحمدللہ، دینِ اسلام ان دونوں خرابیوں سے پاک ہے۔ یعنی اسلام کی تعلیمات میں نہ تعصب ہے، نہ تحریف، اور نہ ہی عقل کے لیے بند دروازے۔
اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ میں نے عقل و نقل کے درمیان جس مصنوعی تصادم کا ذکر کیا ہے، اسے عیسائیت کی تاریخ سے جوڑا ہے، نہ کہ اسلام سے۔ کیونکہ اسلام میں فائنل اتھارٹی کسی کلیسا، پادری، یا عالمِ دین کو نہیں بلکہ صرف اور صرف خدا اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے۔ یہی اصولی امتیاز اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے، اور عقل و وحی کی ہم آہنگی کا حقیقی ضامن بنتا ہے۔
اشکال 6:
اجتہادی مسائل میں خطا پر مؤاخذہ نہ ہونے اور اخلاص پر اجر کی بات ایک حد تک تسلی بخش ہے، مگر جب اس دلیل کو اس قدر عام کر دیا جائے کہ ہر علمی اختلاف کو غیر مضر قرار دیا جائے، تو اس سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ تحریر ان اختلافات کو "معمولی” اور "شاذ و نادر” کہہ کر غیر سنجیدہ بنانے کی کوشش کرتی ہے، حالانکہ امت کی فقہی اور کلامی تقسیمات انہی اختلافات کے بطن سے پیدا ہوئیں۔ اگر اختلاف اس درجہ کم اہم ہوتا، تو نہ علمی مناظرے جنم لیتے اور نہ مسالک قائم ہوتے۔
محترم!
آپ نے جو نکتہ اٹھایا کہ اگر اجتہادی مسائل میں خطا پر مؤاخذہ نہ ہونے اور اخلاص پر اجر ملنے کی بات کو بہت عام کر دیا جائے، یہاں تک کہ ہر علمی اختلاف کو غیر مضر تصور کیا جائے، تو اس سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے—یہ ایک سطح پر درست محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اگر تحریر کو اس کے اصل سیاق و سباق میں سمجھا جائے تو یہ اعتراض خودبخود رفع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ تحریر میں عمومی یا مطلق علمی اختلافات کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ان مخصوص اختلافات کا ذکر ہے جنہیں شریعت کی زبان میں "اجتہادی مسائل” کہا جاتا ہے۔ اجتہادی مسائل وہ ہوتے ہیں جن میں نص قطعی موجود نہیں ہوتی یا پھر نص ظنی ہو اور اس کی تعبیر مختلف طریقوں سے ممکن ہو، اور ان میں اہلِ علم اپنی علمی بصیرت، قیاس اور اصولوں کی روشنی میں رائے قائم کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت ہمیشہ ظنی اور غیر حتمی رہتی ہے، اور انہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک مجتہد اخلاص سے، علم کے ساتھ محنت کر کے کسی رائے تک پہنچے اور وہ رائے درست نہ بھی ہو، تو بھی وہ ماخوذ نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک اجر ضرور ملے گا۔
اس اصول کو عام کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر قسم کے اختلاف کو بلا امتیاز قبول کر لیا جائے، بلکہ یہاں اصل بات یہ ہے کہ اختلاف کو منضبط کیا جائے، اصولوں کا پابند بنایا جائے، اور نیت، علم اور خلوص جیسے داخلی معیاروں کے ساتھ مشروط کیا جائے تاکہ فکری انتشار نہ ہو۔ آپ نے یہ کہا کہ تحریر ان اختلافات کو "معمولی” اور "شاذ و نادر” کہہ کر غیر سنجیدہ بنانے کی کوشش کرتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریر سنجیدگی کی جڑ کو کاٹ نہیں رہی بلکہ اسے ایک واضح دائرے کے اندر لا رہی ہے تاکہ فرق کیا جا سکے کہ کون سا اختلاف فطری اور قابلِ برداشت ہے، اور کون سا اصولِ دین سے تصادم رکھتا ہے۔
اسلام چونکہ فطرت کے عین مطابق دین ہے، اس لیے یہ انسانی ذہن میں موجود تنوعِ فکر، اختلافِ رائے، اور علمی تفہیم کے فرق کو غیر فطری انداز سے ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ بلکہ ان کے لیے ایسے اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے اختلاف اختلاف ہی رہے، دشمنی نہ بنے۔ اگر ہر اختلاف فتنہ ہوتا تو نبی کریم ﷺ کے بعد صحابۂ کرام کے درمیان فقہی اور اجتہادی آراء میں فرق نہ ہوتا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اختلاف کے وہ ایک دوسرے کی نیت پر شک نہ کرتے، اور کسی کو دین سے خارج نہیں قرار دیتے۔ آج بھی اگر کوئی مخلص طالب علم، علم و تحقیق کے ساتھ، سنت و قرآن کی روشنی میں کوئی موقف اختیار کرتا ہے، تو وہ اختلاف کا باعث بنے بغیر امت میں علمی تنوع کا حصہ بن سکتا ہے۔
اسی بات کو ایک مثال کے تناظر میں دیکھتے ہیں؛
اگر دو فریق خدا کے کلام اور اُس کے رسول ﷺ کی سنت کو ماخذ تسلیم کرتے ہوئے کسی اجتہادی مسئلے میں اختلاف کریں، اور دونوں کا مقصد یہی ہو کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے، تو ایسا اختلاف مضر نہیں ہوتا بلکہ یہ درحقیقت بہتر سے بہتر رائے کی تلاش ہوتی ہے۔ یہ بالکل اس مثال کی مانند ہے جیسے کسی مریض کے علاج کے بارے میں دو ماہر ڈاکٹر مختلف آراء رکھتے ہوں—ایک دوا تجویز کرے اور دوسرا کسی اور طریقہ علاج کو بہتر سمجھے—لیکن دونوں کا مقصد مریض کو شفا دینا ہی ہو۔ اس نوعیت کا اختلاف مفید ہوتا ہے۔
لیکن اگر صورت حال یہ ہو کہ ایک ڈاکٹر مریض کے علاج کی بجائے کہے کہ اسے مرنے دو، تو یہ رویہ علاج نہیں بلکہ فساد ہے۔ اسی طرح اگر دین اسلام کے اصولی مسائل میں اختلاف کیا جائے، یا اجتہادی مسائل پر اختلاف کرتے ہوئے اسلام کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن و سنت کا انکار کیا جائے، تو یہ اختلاف جائز نہیں بلکہ فتنہ اور گمراہی ہے۔
اسی اصول پر دین کی فروعی باتوں میں اختلاف کو بھی دیکھنا چاہیے۔ تحریر میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان اجتہادی مسائل میں اخلاص، علم، اور نیت کی درستگی شرط ہے۔ یہ شرط بذاتِ خود انتشار کی نفی ہے کیونکہ لاعلمی یا بدنیتی پر مبنی اختلاف کو اس دائرے میں داخل ہی نہیں کیا گیا۔ یہی نہیں، بلکہ تحریر کا یہ پیغام بھی پوشیدہ طور پر موجود ہے کہ اختلاف کو علمی سطح پر رکھ کر اس کا وقار محفوظ رکھا جائے، نہ کہ عوامی سطح پر الزام و تضلیل کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہ طریقہ دراصل انتشار کو روکنے کا ایک نہایت نافع نسخہ ہے، نہ کہ اس کی جڑ۔
آپ کے اعتراض میں یہ مفروضہ شامل ہے کہ اگر اختلاف کو قابلِ برداشت کہہ دیا جائے تو لوگ حدود سے تجاوز کر جائیں گے، حالانکہ یہ تب ہوگا جب اختلاف کے لیے کوئی معیار نہ رکھا جائے۔ تحریر نے وہ معیار واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر علم، بغیر اخلاص یا بغیر دلیل کے اختلاف کرتا ہے، یا اس کا اختلاف اصولِ دین سے متصادم ہے، تو ظاہر ہے وہ تحریر کے دائرۂ بحث میں داخل ہی نہیں۔
لہٰذا یہ کہنا کہ تحریر ہر علمی اختلاف کو غیر مضر قرار دیتی ہے، تحریر کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق کی درست تفہیم نہیں۔ نہ یہ تحریر اختلاف کی سنجیدگی کم کر رہی ہے، نہ اس کی اہمیت گھٹا رہی ہے، بلکہ وہ اسے ایک منظم دائرے میں لے جا کر فکری نظم کو مستحکم کرنے کی بات کر رہی ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے کی دعوت دینا اختلاف کو بے لگام کرنے کے مترادف نہیں، بلکہ علمی تہذیب اور دینی فہم کی علامت ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو ہمیں فقہی مسالک کے اختلافات میں نظر آتا ہے—جہاں اختلاف رہتے ہوئے بھی دین کی وحدت محفوظ رہتی ہے۔ اس لیے آپ کا اعتراض تحریر کے اصل مقصد سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ اس کے برخلاف ایک غیر ضروری تشویش پر قائم ہے، جو اگر متن کو مکمل اور غیر جانب دار انداز میں پڑھا جاتا تو پیدا نہ ہوتی۔
جب بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے "مسلک” کے موضوع تک پہنچایا گیا، تو ابتدا میں میرا گمان یہی تھا کہ شاید آپ کو میری تحریر سے کسی قسم کی غلط فہمی لاحق ہوئی ہے۔ لیکن جب آپ کی طرف سے مسلک کے بارے میں جو رائے سامنے آئی، اسے دیکھ کر محسوس ہوا کہ آپ کے نزدیک اجتہادی مسائل میں اختلاف ایک معیوب امر ہے، کیونکہ آپ کے بقول انہی اختلافات کی بنیاد پر مسالک وجود میں آئے، اور اگر یہ اختلافات واقعی مفید ہوتے تو نہ علمی مناظرے ہوتے، نہ ہی مسالک کی تشکیل عمل میں آتی۔ اس کا مفہوم گویا یہ ہے کہ مسالک نے امت کو تقسیم کر دیا ہے۔
اس ضمن میں پہلی بات یہ عرض ہے کہ "مسلک” کا مفہوم دراصل کسی خاص اجتہادی مسئلے میں ایک مخصوص علمی نقطۂ نظر ہے، جو اپنے پس منظر میں قرآن و سنت اور عقلی استدلال پر مبنی دلائل رکھتا ہے۔ جب تک یہ نقطۂ نظر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم نہ ہو، اسے "مسلک” کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نظریہ اسلامی اصولوں سے ٹکراتا ہو، تو وہ مسلک نہیں بلکہ "فرقہ” کہلائے گا، اور فرقہ بندی کی اسلام میں صریح مذمت کی گئی ہے۔
درحقیقت، "مسلک” ایک ہی شرعی حکم پر عمل کرنے کے مختلف معقول طریقوں کا نام ہے، بشرطیکہ وہ طریقے اسلامی تعلیمات کے دائرے میں ہوں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے انسان رزق حاصل کرنے کے مختلف جائز ذرائع اختیار کرتا ہے: تجارت، مزدوری، کھیتی باڑی وغیرہ۔ ان تمام طریقوں میں تنوع پایا جاتا ہے، مگر جب تک ان ذرائع میں کوئی ممنوع یا غیر اخلاقی طریقہ شامل نہ ہو—جیسے ظلم، دھوکہ، یا حق تلفی—تو ان پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح، اجتہادی مسائل میں مختلف آراء اور مسالک کا پایا جانا نہ صرف فطری بات ہے بلکہ اسلامی شریعت کے وسعت پذیر اور جامع مزاج کی علامت بھی ہے۔
مسلک انتشار کا نہیں بلکہ تنوع کا نام ہے، اور یہ تنوع اسلام کی خوبصورتی اور اس کی معقول وسعت کی دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان مسالک کو باہمی جھگڑوں یا فرقہ وارانہ منافرت کا ذریعہ بناتا ہے، تو یہ اس شخص کی علمی ناپختگی اور ذاتی کوتاہی ہے، نہ کہ خود مسالک کا نقص۔ اسلام نے ایسے اختلافات کو منظم کرنے کے لیے اجتہاد کی شرائط وضع کی ہیں، تاکہ ان آراء کا اختلاف تصادم یا انتشار کا سبب نہ بنے بلکہ ایک منظم علمی تنوع کی صورت اختیار کرے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ انہی شرائط کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ان پر طنز کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا مقصد وہی خدشات دور کرنا ہے جن کا آپ نے اپنی تنقید میں اظہار فرمایا ہے—یعنی انتشار اور افتراق۔ پس اگر کوئی ان شرائط کو پسِ پشت ڈال کر اجتہادی مسائل کو فتنہ و فساد کا ذریعہ بناتا ہے تو یہ نہ اجتہاد کا قصور ہے اور نہ مسلک کا، بلکہ اس شخص کی علمی سطح اور رویے کا نقص ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں کوئی بھی مثبت شے ہو، اس کا غلط استعمال ممکن رہا ہے: زبان، ہاتھ، ذہنی و جسمانی قوتیں—یہ سب انسانی زندگی کے لیے نہایت مفید اور ضروری ہیں، مگر ان کا غلط استعمال چوری، ظلم، قتل اور فساد جیسے افعال کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ تو کیا صرف اس بنیاد پر ان صلاحیتوں کی اصل افادیت سے انکار کر دیا جائے؟ یا یہ کہا جائے کہ اگر یہ واقعی مفید ہوتیں تو ان کے ذریعے قتل و غارت نہ ہوتی، ظلم نہ ہوتا، طبقات نہ بنتے؟
اسی اصول پر اجتہادی اختلاف کو بھی صرف اس وجہ سے مسترد کر دینا کہ اس سے جھگڑے پیدا ہو سکتے ہیں، انصاف کے سراسر خلاف ہے۔ اصل مسئلہ اختلافات کا ہونا نہیں بلکہ ان کا منفی استعمال ہے، اور ہر مثبت شے کے منفی استعمال کا امکان ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اجتہادی اختلاف بھی اسی نوعیت کا ایک علمی تنوع ہے، جسے کسی جذباتی یا سطحی بنیاد پر رد کرنا علمی دیانت کے منافی ہے۔
اشکال 7:
تصوف سے متعلق حصہ بھی تضاد سے خالی نہیں۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ خدا سے تعلق کا ذریعہ صرف نقل ہے اور عقل کا دخل نہیں، دوسری طرف صوفیاء کے فہم کو بھی اہمیت دی گئی، مگر صرف وہ جو صوفیت کے "اصل معنی” سے واقف ہیں۔ یہاں ایک خلطِ مبحث پیدا ہوا ہے: اگر صوفیت نقلی ہے تو اس کے غیر نقلی پہلوؤں کو کیسے رد کیا جائے گا؟ اور اگر ان میں عقل کا دخل نہیں، تو پھر وجد، اشراق، اور کشف جیسے صوفی تجربات کی عقلی توجیہات کو کس بنیاد پر مانا جائے گا؟
محترم!
تحریر میں جس نکتے پر اعتراض کیا گیا ہے، وہ دراصل قربِ الٰہی کے ذرائع کی نوعیت سے متعلق ہے۔ تحریر کا اصل مدعا یہ ہے کہ اللہ سے تعلق قائم کرنے کے بنیادی طریقے—نماز، ذکر، روزہ، توبہ، خشیت اور اطاعت وغیرہ—وحی سے ماخوذ ہوتے ہیں، یعنی ان کا ماخذ نقل ہے، نہ کہ محض عقل۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صوفیانہ تجربات یا باطنی کیفیات کی کوئی عقلی تعبیر ممکن نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کے قرب کا جو "منہج” ہے، وہ وحی پر مبنی ہوتا ہے اور شرعی ہدایت کی حدود میں رہتا ہے۔
ان نقلی ذرائع کے دائرے میں رہ کر اگر کوئی باطنی کیفیت، روحانی تجربہ یا عرفانی ادراک پیدا ہوتا ہے، تو اس کی عقلی توجیہ ممکن ہے اور وہ قابلِ احترام بھی ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے اصولوں سے متجاوز نہ ہو۔
تحریر میں جن صوفیاء کی توثیق کی گئی ہے، وہ وہی ہیں جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تصوف کو اپناتے ہیں اور نقل و شریعت کے منبع سے روگردانی نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جو لوگ تصوف کو صرف جذبات، ذاتی کیفیات یا نسلی وراثت کے سہارے اپناتے ہیں، اور اس کے مفہوم و منہج سے ناواقف ہوتے ہیں، ان پر تنقید کی گئی ہے۔
اعتراض میں جس تضاد کی نشاندہی کی گئی کہ "اگر تصوف نقلی ہے تو صوفیانہ تجربات کی عقلی توجیہ کیسے ممکن ہے”، تو یہ دراصل مفہوم کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ عقل ان تجربات کی تشریح اور تعبیر میں تو مدد دے سکتی ہے، مگر وہ خود ذریعہ یا ماخذ نہیں بن سکتی۔ یعنی تعلق کا طریقہ نقل سے ماخوذ ہے، اور ان طریقوں سے جو روحانی ثمرات حاصل ہوتے ہیں، ان کی عقلی تعبیر ممکن ہو سکتی ہے، مگر یہ تعبیرات شریعت کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
فرض کیجیے، ایک شخص کسی رات تہجد میں بہت رقت آمیز حالت میں دعا کرتا ہے، اور اس دعا کے دوران اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا سن لی ہے اور کوئی خاص بات اس کے دل میں "القا” ہوئی ہے کہ فلاں کام ضرور کر لینا، تمہیں فائدہ ہوگا۔
یہ روحانی کیفیت اس شخص کے لیے باعثِ اطمینان بن سکتی ہے، اور اس کی عقلی یا نفسیاتی تعبیر بھی ممکن ہے کہ اس کا وجدان یا قلبی سکون اس لمحے میں اللہ کی طرف سے ایک الہامی تسلی کی شکل اختیار کر گیا۔ لیکن یہ کیفیت صرف اس فرد کے لیے معتبر ہو سکتی ہے، امت کے لیے حجت نہیں۔
اس وجدانی الہام کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم یا عملی فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی شخص کہے کہ "مجھے تہجد میں الہام ہوا ہے کہ زکوٰۃ دینا اب فرض نہیں رہی” تو یہ شرعی اصولوں کے خلاف ہے، چاہے اس نے کوئی روحانی تجربہ ہی کیوں نہ کیا ہو۔
تصوف کی پوری روایت میں عقل کا مقام شارع کا نہیں بلکہ مددگار کا رہا ہے۔ خواہ وہ اشراق ہو یا وجد، کشف ہو یا مشاہدہ—ان سب کی عقلی توجیہات دی جا سکتی ہیں، لیکن ان سے کوئی مستقل دینی قانون یا منہج اخذ نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ وہ وحی کی روشنی میں ثابت نہ ہو۔
تحریر اسی لطیف مگر اہم فرق کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہی صوفی قابلِ اعتبار ہے جو شریعت کا پابند ہو، اور عقل کو صرف تعبیر و فہم کا ذریعہ مانے، نہ کہ شارع یا قانون ساز کا۔
اعتراض میں جس تضاد کی نشاندہی کی گئی، وہ درحقیقت اسی امتیاز کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے، کیونکہ تحریر میں دونوں دائروں—عقل اور نقل—کی حدود کو واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے، اور یہاں کوئی خلطِ مبحث موجود نہیں۔
محترم اعجاز عمر خیل صاحب:
سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے آپ جیسے صاحبِ علم اور صاحبِ عقل افراد کے توسط سے مجھے اپنے موقف—عقل و نقل کے باہمی تعلق—کی توضیح کا موقع عنایت فرمایا۔
سچ یہ ہے کہ میرے دل میں ایسے تمام اہلِ علم کے لیے بے پناہ احترام ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور معقول فکر کے حامل ہوں، اور میں نے بھرپور کوشش کی ہے کہ میری تحریر میں یہ احترام کسی مرحلے پر پامال نہ ہو۔
البتہ اگر کہیں کوئی ایسا لفظ استعمال ہو گیا ہو جو آپ کی شان کے خلاف ہو، تو میں اُس کے لیے غیر مشروط معذرت خواہ ہوں۔
تحریر کے تاخیر سے پہنچنے کی دو وجوہات رہیں:
اول، موضوع کی گہرائی اور تفصیل نے مجھے محتاط انداز میں سوچنے پر مجبور کیا؛
دوم، میں اس کوشش میں رہا کہ الفاظ کی ایسی ترتیب اختیار کی جائے جو آپ جیسے معزز اور فہیم مخاطب کی شایانِ شان ہو۔
آخر میں، مجھے سچ میں قلبی تکلیف ہوتی ہے جب مجھے آپ جیسے باوقار اور علم دوست لوگوں سے اگرچہ مثبت انداز میں ہو—اختلافِ رائے کرنا پڑتا ہے، کیونکہ میری طبیعت فطری طور پر اہلِ علم سے اتفاق اور قربت کو پسند کرتی ہے، نہ کہ بعد اور تنازع کو۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں ان نکات پر وضاحت کو ضروری سمجھا، جن کا جواب دینا میرے نزدیک ناگزیر تھا۔ چنانچہ میں نے ان پہلوؤں کی تفصیل پیش کر دی جہاں مجھے وضاحت دینا مقصود تھا۔
البتہ آپ کی تحریر کے آخر میں جو دو پیراگراف تھے، اُن پر میں نے عمداً خاموشی اختیار کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میری گفتگو کا مقصد اس سے پہلے ہی پورا ہو چکا تھا، اور اس کے بعد کا حصہ میں نے ادباً نظرانداز کیا تاکہ ہماری یہ گفتگو احترام کے دائرے میں قائم رہے۔
مجھے امید ہے کہ آپ میری ان گزارشات کو دل سے محسوس کریں گے، اور ان پر ٹھہر کر غور فرمائیں گے۔
یہ بھی مجھے امید ہے کہ اگر میری کسی بات میں کوئی کمزوری رہ گئی ہو، یا میرے الفاظ کسی غلط فہمی کا باعث بنے ہوں، تو آپ اُن کے پیچھے موجود اصل نیت اور مدعا کو سمجھ پائیں گے۔ میری طرف سے کوئی بھی بات آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں تھی، بلکہ سارا مکالمہ خیرخواہی اور علمی وضاحت کی نیت سے کیا گیا۔
اور اس مؤقف کو میں اپنی دانست میں دیانتداری کے ساتھ اسلام کا مؤقف سمجھتا ہوں، لیکن یہ میرا کوئی حتمی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیر کوشش ہے۔ درست علم تو صرف اُس علیم و خبیر ذات ہی کے پاس ہے، جس نے انسان کو پیدا فرمایا، اُسے علم عطا کیا، علم کے حصول اور فہم کے لیے عقل جیسی عظیم نعمت دی، اور پھر علم و عقل کے درمیان معقول و متوازن تعلق کو اپنے برگزیدہ، سچے بندوں انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعے انسانیت کو سمجھایا۔