زمین کی خلافت اور انسان کی ذمہ داریاں: امانت کے آئینے میں

یہ تحریر دراصل میری ایک تقریر پر مبنی ہے، جسے تحریری شکل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــنبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:

"لا إيمان لمن لا أمانة له”
یعنی جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔

امانت وہ چیز، اختیار، حق یا منصب ہے جو کسی دوسرے کی ملکیت ہو اور اعتماد کے ساتھ آپ کے سپرد کیا جائے۔ جبکہ ذمہ داری اس امانت کے ساتھ جڑا ہوا وہ فرض، جوابدہی اور عملی تقاضا ہے جو اس سپردگی کے نتیجے میں انسان پر عائد ہوتا ہے۔

یعنی امانت ایک معتبر اعتماد ہے، جبکہ ذمہ داری اس اعتماد کو پورا کرنے کا تسلیم شدہ فرض ہے۔

امانت کی تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ جس میں امانت کا پاس نہیں ہوتا، اس کا ایمان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امانت کے مفہوم میں ہر وہ شے داخل ہے جو ہماری اپنی نہ ہو بلکہ اعتماد کے ساتھ ہمیں عطا کی گئی ہو۔اس ضمن میں اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اپنا کچھ بھی نہیں۔ ہماری جان، صحت، عقل، صلاحیتیں، مال، اولاد، وقت، علم، منصب اور اختیار سب کچھ ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے پوری زندگی ہی امانت ہے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کا نام ہی امانت ہے اور انسان کی حیثیت ایک امین کی ہے۔
مزید یہ کہ بحیثیت انسان ہم اس حقیقت کا اقرار بھی کر چکے ہیں، اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہمیں جو زندگی عطا کی گئی ہے، وہ دراصل امانت کے بار کو اٹھانے کے لیے عطا کی گئی ہے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا”
(سورۃ الاحزاب: 72)
ترجمہ:
"بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، یقیناً وہ بڑا ظالم اور نادان ہے۔”

یہ بارِ امانت اتنا وزنی اور عظیم ہے کہ اس کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے قرآن مجید میں بتایا گیا کہ زمین و آسمان جیسی وسیع مخلوقات نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ مخلوقات ہیں جن کی وسعت، عظمت اور مضبوطی انسان کے تصور سے بھی باہر ہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے خوف محسوس کیا۔

اسی طرح پہاڑ، جو جسامت اور مضبوطی میں بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں، ان میں بھی اس امانت کو اٹھانے کی تاب نہ تھی۔ وہ بھی اس ذمہ داری کے بوجھ سے ڈر گئے اور اسے قبول کرنے سے گریز کیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ حدیث میں امانت کو ایمان کے ساتھ جوڑا گیا ہے، کیونکہ اگر ہم اس تسلیم شدہ امانت کی ذمہ داریوں کو عملاً ادا نہیں کرتے تو گویا ہم عملی طور پر اس امانت کا انکار کرتے ہیں جو ہمارے سپرد کی گئی ہے اور جسے ہم مان بھی چکے ہیں۔

امانت اور جوابدہی:
حدیث میں آتا ہے:
"كلكم راعٍ وكلكم مسئول عن رعيته”
یعنی ہر شخص اپنے بساط کے مطابق امانت کا ذمہ دار ہے۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے پاس جس قدر بڑی امانت رکھی گئی ہو، جس کے پاس جتنی صلاحیت ہو، یا جس کی وسعت جتنی ہو، اس کے مطابق اس سے حساب لیا جائے گا۔ یعنی جو امانت تم پر سپرد کی گئی تھی، اس کے ساتھ جڑی ذمہ داری تم نے کس حد تک نبھائی، اس کا جواب تمہیں دینا ہوگا۔

اس سلسلے میں ایک ضمنی بات یہ ہے کہ امتحان میں ہر طالب علم کے لیے پاس ہونے کا معیار مقرر کیا جاتا ہے، مثلاً چالیس نمبر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیے ہر طالب علم کو اس کی تمام خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ بالکل درست طور پر پرکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے ایک عمومی معیار طے کیا جاتا ہے کہ جو طالب علم چالیس نمبر سے کم حاصل کرے گا، وہ فیل ہو گا اور جو چالیس یا اس سے زیادہ حاصل کرے گا، وہ پاس ہو گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر ایک کو خوب جانتا ہے، ہر ایک کی خوبیوں اور کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے، اور ہر ایک کے ماحول سے بھی مکمل آگاہ ہے — کہ کس کے پاس کون سی کمزوری تھی، کون سی خوبی تھی اور اسے کیسا ماحول ملا۔اسی لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی پچانویں نمبر پر فیل ہو اور کوئی پانچ نمبر لے کر پاس ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کی وسعت، حالات اور صلاحیت کے مطابق پرکھتے ہیں۔

حضور ﷺ اور امانت کا احساس:
امانت کا احساس حضور ﷺ کی شخصیت میں اس حد تک نمایاں تھا کہ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کی داڑھی میں سفیدی آ گئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا ہے”۔

حضور ﷺ ذمہ داری کے حوالے سے کس قدر حساس تھے، اس کا اندازہ اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے:
"لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ”
یعنی: "شاید آپ اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔”

یہ اس ذات کی گواہی ہے جس نے آپ ﷺ کو ذمہ داری سونپی، امانت سپرد کی اور جو ہر شے سے واقف ہے۔ ذرا ذمہ داری نبھانے کے احساس کے درجے کو دیکھیے — کیا کمال کا احساس تھا، اور کیا کمال کی ادائیگی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ خود آپ ﷺ کے ذمہ دار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

ہم میں سے ہر کوئی قرآن کی اس آیت کو پڑھتا ہے:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”
مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید بہت کم لوگ ہوں گے جنہوں نے اس آیت پر ذمہ داری کے حوالے سے بھی غور کیا ہو۔ ہمیں صرف عبادات اور اخلاق میں ہی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ادائیگی میں بھی حضور ﷺ کی پیروی کرنی ہے۔

امانت کی اہمیت:

امانت کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا:

"قیامت کب قائم ہوگی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا وُضِعَتِ الْأَمَانَةُ فَانتَظِرِ السَّاعَةَ”
یعنی جب امانت ضائع ہو جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔
پھر پوچھا گیا: امانت ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانتَظِرِ السَّاعَةَ”
یعنی جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ امانت دنیا کے نظام کے قیام کے لیے بنیادی شرط ہے۔ جب دنیا کے پورے نظام کو غیر ذمہ دار لوگوں کے حوالے کر دیا جائے تو دنیا میں فساد، بدنظمی اور بدانتظامی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں دنیا اپنی امتحان گاہ کی حیثیت کھو دیتی ہے، اور جب دنیا امتحان گاہ نہ رہے تو اس کے باقی رہنے کا مقصد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حدیث میں امانت کے ضیاع کو قیامت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

امانت کے ضیاع کا نتیجہ:

جو لوگ امانت کے سلسلے میں عائد ذمہ داریوں کا خیال نہیں رکھتے، وہ بداعتماد ہو جاتے ہیں۔ جب اعتماد ختم ہو جائے تو نظامِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے، کیونکہ دنیا اعتماد پر قائم ہے۔

یہی وجہ تھی کہ بنی اسرائیل میں پشتوں سے نبوت چلی آ رہی تھی، مگر جب ان میں امانت داری نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انسانوں کی امامت کی ذمہ داری چھین لی۔

جس طرح بنی اسرائیل سے امامت چھین لی گئی تھی، اسی طرح جب دنیا کے انسان خدا کی طرف سے ملی ہوئی امانت کے لیے اپنے اعمال سے نااہل ثابت ہوں گے تو خدا ان سے زمین کی خلافت واپس لے لے گا۔ جبکہ زمین کی خلافت کا واپس لینا انسانیت کا خاتمہ ہوگا، کیونکہ خدا نے انسان کو پیدا کرتے وقت فرمایا تھا:

"إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً”
الغرض، امانت کی خلاف ورزی سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اور جو لوگ اعتماد کے لائق نہیں ہوتے وہ ظلم اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ظلم اور جہل درندگی کی صفات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج زمین پر جو انسانوں کی شکل میں درندے نظر آتے ہیں، وہ دراصل امانت کے سلسلے میں عائد شدہ ذمہ داریوں سے انسان کے انحراف کا نتیجہ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے