’’ شہر تمثال دار ‘‘ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول

ہزارہ کے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان گھنے جنگلات اور باغات کے بیچ بہنے والے دریائے ہرو کے کنارے آبادتہذیبی زندگی کو پروان چڑھانے میں اختر رضا سلیمی کے قبیلے اورخاندان کا کلیدی و تاریخی کردار رہا ہے ۔ ہر چند کہ اختر رضا سلیمی کا بچپن کراچی میں اور جوانی اسلام آباد میں گزری ہے لیکن ہزارہ کے تہذیب و تمدن کے اثرات ان کی تخلیقات پر بہت گہرے ہیں ۔

اختر رضا سلیمی ایک سنجیدہ اور فکری مزاج رکھنے والے ادیب ہیں۔ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ، مشاہدے کی گہرائی اور داخلی شعور نمایاں ہے۔ وہ محض لفظوں کے کاریگر نہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان ہیں ، جو اپنے عہد کے مسائل کو گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔

بطور ناول نگار، اختر رضا سلیمی اس سے قبل ’’جاگے ہیں خواب‘‘،’’جندر‘‘اور لواخ جیسے ناول دیے ہیں۔ جن میں سے جندر پشاور یونیورسٹی اوربے نظیر ویمن یونیورسٹی میں بطور نصاب شامل ہے۔اور شاید پہلا ناول ہے جو چھپتے ہی نصاب کا حصہ بن گیا۔ کہتے ہیں کہ کوئی بھی تخلیق پہلے مقامی ہوتی ہے اور پھر آفاقی ۔ سلیمی صاحب کے ناولوں پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ انہوں نے جدید حسیت، فکری گہرائی اور تہذیبی شعور کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب اور فکشن نگار ہیں، اور ان کی تحریروں میں داخلی کرب، وجودی سوالات اور معاشرتی پیچیدگیاں نہایت خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتی ہیں۔

اگر ہم ان کے گذشتہ ناولوں کو ایک ایک فقرے میں سموئیں تو :

‘‘جاگے ہیں خواب میں ‘‘میں حقیقت اور خواب کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔

’’جندر ‘‘میں دیہی اور شہری زندگی کے تضادات کو اجاگر کیا گیا ہےاور مٹی ہوئی تہذیب کا نوحہ لکھا گیا ہے۔

’’لواخ ‘‘ ایک علامتی اور فکری ناول ہے جس میں تنہائی اور وجودی کرب کو نمایاں کیا گیا ہے۔

اب ان کا چوتھا ناول ’’شہرِ تمثال دار‘‘ شائع ہوا ہے جواردو میں علامت نگاری اور تجریدی کا ایک شہکار ہے۔وہ چوں کہ پہلے شاعر تھے اور ان کی نوجوانی کی تربیت شاعری میں ہوئی اس لیے ان کے پہلے ناولوں میں بھی شاعرانہ انداز کہیں کہیں نظر آتا تھا لیکن موجودہ ناول میں جس طرح انھوں نے استعاروں ، تشبیہوں اور علامتوں کا استعمال کیا ہے وہ اردو ناول نگاری میں بالکل نیا ہے۔میں اپنے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اردو فکشن میں اس طرح کی نظر افسانوں میں تومل جاتی ہے کہ وہ مختصر ہوتے ہیں لیکن ناول جیسی لمبی اور طویل صنف میں اسے سنبھالنا مشکل ہے۔مجھے تو اسے پڑھتے ہوئے بار بار یہی لگتا تھا کہ میں شاعری کی کتاب پڑھ رہا ہوں۔

اس ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا منفرد اسلوب ہے۔ اس میں وہ روایتی بیانیے سے ہٹ کر ایک علامتی اور تجریدی طرز اختیار کرتے ہیں۔اس ناول کا بیانیہ تہہ دار اور معنی خیز ہے۔کہانی ہمارے عہد کی ہے لیکن اسے مستبقل میں بیٹھے ہوئے راوی کی نظر سے دیکھا گیا۔

یہ ناول پڑھنے والے پر ایک جادو چلا دیتا ہے۔اور قاری کو بتاتا ہے کہ ایک بڑا ادیب کس طرح اردو گرد کے ماحول کو مختلف بنا کر پیش کرنے پر قادر ہوتا ہے۔

’’شہرِ تمثال دار‘‘ ہر حوالے سے اردو فکشن میں ایک منفرد اور فکری اعتبار سے خوبصورت اضافہ ہے۔ یہ ناول محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک فکری، وجودی تجربہ ہے، جس میں انسان، شناخت، حقیقت اور وہم کے پیچیدہ رشتوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

’’شہرِ تمثال دار‘‘ کا عنوان بذاتِ خود ایک گہری علامت رکھتا ہے۔پڑھنےوالے کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوئی حقیقی وجود نہیں ایک تمثال ہے اور اس کے اردو گرد بھی تمثالیں ہی تمثالیں ہیں۔ یوں شہرثمثال دار ایک ایسی دنیا کی نمائندگی کرتا ہے جہاں اصل انسان کے بجائے اس کے عکس اور نقوش آباد ہیں۔ یہ تصور جدید انسان کی اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں حقیقت مصنوعی اور شناخت کھوکھلی ہو چکی ہے۔

ناول کا بیانیہ روایتی انداز سے ہٹ کر ایک غیرخطی اور تجریدی طرز اختیار کرتا ہےاور اس میں فکشن کی دنیا کے بڑے کردار در آتے ہیں اور ان کے ذریعے جو کہانی آگے بڑھتی ہے اس کا اسلوب بدل جاتا ہے اور واقعات بھی خوابوں، یادوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

یہ اسلوب قاری کو محض پڑھنے والا نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے متن کا شریکِ تخلیق بنا دیتا ہے، جہاں معنی کی تشکیل قاری کے فہم اور تجربے سے وابستہ ہو جاتی ہے۔

اس ناول میں سب سے نمایاں پہلو وجودیت کا ہے۔کردار اپنی شناخت، آزادی اور وجود کے معنی تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جہاں حقیقت اور فریب میں امتیاز مشکل ہو جاتا ہے۔انسان اپنی اصل سے کٹ کر محض ایک تمثال بن جاتا ہے ، داخلی تنہائی ایک اجتماعی المیہ بن کر سامنے آتی ہے ۔ یہ ناول قاری کو یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں یا محض اپنے عکس کے ساتھ جی رہے ہیں؟

شہرِ تمثال دارکے کردار روایتی معنوں میں مکمل اور واضح نہیں بلکہ علامتی اور تجریدی ہیں۔ وہ کسی ایک فرد کی نمائندگی کے بجائے ایک فکری کیفیت یا انسانی حالت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کرداروں کی یہی غیرمتعین حیثیت ناول کو ایک آفاقی معنویت عطا کرتی ہے، جہاں ہر قاری اپنے تجربات کے مطابق انہیں سمجھ سکتا ہے۔

ناول میں علامت اور استعارہ بنیادی اظہار کا ذریعہ ہیں ،تجریدی فضا قاری کو ایک خواب ناک کیفیت میں لے جاتی ہے ۔یہ زبان بظاہر سادہ مگر معنوی اعتبار سے نہایت گہری ہے، جو بار بار مطالعے کا تقاضا کرتی ہے۔

جناب رشید بخاری شہر تمثال دار کے بارے میں کہتے ہیں ۔ ”

میں یہ بات کر کے اسے پولیٹیزائز نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک اچھا قاری اس میں ان کرداروں کو بہ آسانی شناخت کرسکتا ہے جن کی کہانیوں اور اعمال سے ہمارے سیاسی اور سماجی سیاق و سباق کی تشکیل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آج ہی کی کہانی ہے، ہماری اور ہمارے دور کی کہانی ہے جو مستقبل کے راوی کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ اگرچے اس ناول کو دلچسپ بنانے کے لیے یہ بات بھی کافی تھی لیکن سلیمی صاحب نے اس پر اکتفا نہیں کی بلکہ دیگر چند دلچسپ و عجیب کرداروں کو بھی اپنے ہی رنگ میں رنگ کر, اپنی جادوئی فضا میں ڈھال کر, اس کہانی کا حصہ بنا ڈالا "۔

ناول میں شہر، کردار، واقعات سب کچھ ایک علامت کے طور پر آتے ہیں اور اس کی فضاایک ایسے وجودی بحران کی عکاسی کرتی ہے جو جدید انسان کا مقدر بن چکا ہے۔

’’شہرِ تمثال دار‘‘ اردو ناول کے اُس دھارے سے تعلق رکھتا ہے جس میں فکشن کو محض کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری و جمالیاتی تجربہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ناول نہ صرف قاری کو چیلنج کرتا ہے بلکہ روایتی بیانیے کو بھی چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔یہ ان لوگوں کے لیے بھی چیلنچ ہے جو کہتے ہیں کہ اردو ناول میں بڑے تجربے نہیں ہوتے ۔

شاید بعض لوگوں کو یہ بہت مشکل لگےاور اسے سمجھنے کےلیے اسے ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنا پڑے۔
"شہر تمثال دار کے بارے میں ایک کہانی اور کچھ لوک روایات ” کے عنوان سے ایک روایت کے حوالے سے فاضل رائٹر لکھتے ہیں ” کسی دریا کے کنارے کے کنارے موجود ایک بستی میں ایک خوبصورت لڑکا پیدا ہوا ۔ ایک دن اس نے دریا کے شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا تو خود پر فریفتہ ہوگیا اور اس خود فرفتگی ساری عمر اس کا پیچھا کرتی رہی اسے صرف دو ہی جنون تھے ایک اپنی ذات سے محبت کا اور دوسرا کھیلنے کودنے کا ” ۔

شہر تمثال دار کے فلیپ پر جناب عارف وقار نے خوب لکھا ہے ” اس دل کش خواب ناک فضا میں آپ سموئل بیلٹ گوڈو ، کافکا کے مسٹر جوزف کے ، سوفوکلیزکے اوڈپیس ، منٹو کے منگو کوچوان اور بش سنگھ اور گیبریل گارشیا مارکیز کے تخلیق کردہ لازوال خانہ بدوش ملکیہ دیس سے ملاقات کرتے ہیں ۔ دنیا کے مختلف خطوں اور تاریخ کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے یہ سب کردار ایک ہی چھت ،ایک ہی وقت میں آپ کے سامنے آموجود ہوتے ہیں ” ۔

اختر رضا سلیمی کے اس ناول کے حوالے سے دیگر منورین کے آراء اور اس ناول سے اقتباسات پیش کرسکتا ہوں ، ایسا کرنے بجائے آپ کو اس ناول کو پہلی فرصت میں پڑھنے کو دعوت دیتا ہوں ۔ اختر رضا سلیمی اور ناشرین کو اس خوبصورت ناول کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے