پشتو اکیڈمی پشاور کا بقا ضروری ہے

19 اگست 2026ء کو روزنامہ وحدت میں خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبۂ پشتو کے اسسٹنٹ پروفیسر اور چیئرمین، ڈاکٹر ظفراللہ بخشالی کا ایک مضمون ’’پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہ مضمون پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے بانی ڈائریکٹر، مولانا عبدالقادر، کے نام ایک خط کی صورت میں ہے۔ مولانا […]

پشتو صحافت: آج اور کل کے تناظر میں

قلندر مومند صاحب کہا کرتے تھے کہ پشتو کی نشوونما اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلکی اور پیشہ ور لکھاری پیدا کریں۔ پشتو صحافت نے بے شمار صحافی پیدا کیے؛ بعض نے پشتو صحافت کو آگے بڑھایا، کچھ عالمی میڈیا کا حصہ بنے اور کچھ نے ملکی میڈیا کے مختلف اداروں میں […]

ڈاکٹر الطاف یوسفزئی کی ہزارہ یونیورسٹی میں خدمات

نہیں معلوم کہ آپ ’’خدمت‘‘ کسے کہتے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں جب کبھی ایوارڈز تقسیم ہوتے ہیں تو مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین بھی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ہمارے ان بھائیوں کو اپنے اس کام کا مکمل معاوضہ اور بے شمار مراعات دی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس معاوضے اور مراعات کے عوض وہ […]

اکادمی ادبیات پاکستان کی تیسری ’’نسلِ نو‘‘ ادبی میلے کے بارے میں ایک تاثر

13 اگست 2026ء کو جب میں اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت پہنچا تو وہاں غیر معمولی خاموشی تھی۔ ادارے کے ملازمین سے معلوم ہوا کہ اگلے روز، یعنی 14 اگست، یومِ آزادی کے سلسلے میں ایچ-8 سیکٹر کے پریڈ گراؤنڈ میں تقریبات کے باعث اردگرد کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور […]

وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین کے اعزاز میں تقریب

ڈاکٹر شیر علی کا تعلق نوشہرہ کے گاؤں اکبرپورہ سے ہے۔ وہ اردو زبان کے پروفیسر ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد کی علمی و ادبی فضا میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ وہ ڈیپوٹیشن پر اکادمی ادبیات پاکستان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی دوران ان کی پروفیسر […]

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی دو کتابوں کی تقریبِ رونمائی

چند روز قبل اسلام آباد کلب میں ایک ادبی نشست کے دوران بعض دانشوروں نے مجھ سے سوال کیا: "کیا خیبر پختونخوا میں ادبی تنظیمیں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو دہشت گردی کی روک تھام اور سماجی شعور کی بیداری کے لیے انہوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟” میں نے جواب میں عرض کیا […]

” سات جنم ” تاریخ، علامت اور تہذیبی کشمکش کا بیانیہ

پاکستانی فکشن میں بعض تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جو محض کہانی نہیں رہتیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، سماجی اور تاریخی پرتوں کو سمیٹ کر ایک مکمل بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔شفقت نغمی کا ناول “سات جنم” بھی اسی قبیل کی ایک اہم اور قابلِ توجہ کاوش ہے،جو پاکستان کی سیاسی، مذہبی، سماجی اور معاشی تاریخ […]

’’ شہر تمثال دار ‘‘ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول

ہزارہ کے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان گھنے جنگلات اور باغات کے بیچ بہنے والے دریائے ہرو کے کنارے آبادتہذیبی زندگی کو پروان چڑھانے میں اختر رضا سلیمی کے قبیلے اورخاندان کا کلیدی و تاریخی کردار رہا ہے ۔ ہر چند کہ اختر رضا سلیمی کا بچپن کراچی میں اور جوانی اسلام آباد میں گزری […]