جنگ اخبار والی گلی

اس بات کو تقریباً بیس سال گزر چکے ہیں۔ بیس سال پہلے ہم کراچی رہنے کے لیے گئے تھے۔ سوچا تو یہی تھا کہ اب کراچی میں ہی رہیں گے۔ مگر پھر گھر والوں کو حیدرآباد کی یاد ستائی اور ہم واپس حیدرآباد آگئے۔ کراچی کے علاقے سمن آباد 18 نمبر میں ہم نے کرائے کا مکان لیا تھا۔ ہمارا سامان زیادہ تھا اور 120 گز کا مکان چھوٹا پڑ رہا تھا۔ میں گریجوئیشن کرچکا تھا اور مجھ پر نوکری کا پریشر تھا۔

میں شروع ہی سے فنون لطیفہ میں دلچسپی رکھتا تھا۔ لکھنا لکھانا، موسیقی ،فلم ٹی وی ڈرامے مجھے اچھے لگتے تھے۔

میں اس زمانے میں ٹی وی پر چانس کے لیے مختلف جگہوں پر ٹرائی کرتا رہا۔

میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع جنگ اخبار والی گلی میں جہاں قومی اخبار کا دفتر بھی ہے۔ ایک چائے کے ہوٹل پر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس ہوٹل پر جنگ، جیو، قومی اخبار اور میڈیا کے کوآرڈینیٹر آکر کھانا کھایا کرتے یا پھر چائے پیا کرتے تھے۔ میں ان لوگوں کی باتیں سنتا رہتا۔ کوئی سینئیر صحافی نوجوانوں کو مشورہ دے رہا ہوتا ۔کوئی شیخیاں بھگار رہا ہوتا۔ کوئی یہ ظاہر کرتا کہ اس کے کانٹیکٹ بڑے بڑے اداکار اور ہدایت کاروں سے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ایک صاحب مجھے ملے جب انھوں نے یہ سنا کہ میں ایکٹنگ کے لیے کوشش کر رہا ہوں تو انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ریڈیو پاکستان کی میزبان سیما رضا سے ملیے۔

انھوں اپنے وزیٹنگ کارڈ کے پیچھے چند جملے لکھ کر دیے جو میری یاداشت کے مطابق یہ تھے۔

"سیما رضا جیتی رہو یہ لڑکا اداکاری کا شوق رکھتا ہے اس کو بزم طلبہ میں چانس دو”

بدقسمتی سے میں سیما رضا صاحبہ سے مل نہیں سکا۔ بہت دنوں بعد ان سے ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان کراچی میں مختصر سی ملاقات ہوئی تھی۔

ہاں تو میں کہ رہا تھا کہ میں اکثر ایکٹنگ کے چانس کے لیے جنگ اخبار والی گلی میں واقع ایک ہوٹل میں بیٹھا رہتا تھا۔ یہ جوانی کا جنون بھی غضب کی چیز ہے۔ آدمی اتنا طاقتور ہوجاتا ہے کہ اسے تھکن کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اب ذرا سوچیے کہاں فیڈرل بی ایریا سمن آباد اور کہاں آئی آئی چندریگر روڈ پر جنگ اور جیو کا دفتر۔

میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ خدا نے مجھے اچھی آواز سے نوازا ہے۔ میں بچپن میں گلوگار بننا چاہتا تھا۔کمار سانو کی آواز بناکر زور زور سے اپنے گھر میں گایا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں آٹھویں کلاس میں تھا۔ ایک دن اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں مجروح سلطان پوری صاحب کا لکھا ہوا گانا گا رہا تھا جسکے بول تھے۔

آج میں اوپر آسمان نیچے
آج میں آگے زمانہ ہے پیچھے

ابھی میں گانا گاہی رہا تھا کہ ہماری ماسی اچانک کمرے میں آگئی اور میں نے گانا بند کردیا ماسی ہماری امی سے ہنستے ہوئے کہنے لگی

بھائی گانا گا رہا ہے

میں شرمندہ ہوگیا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

اس گانے کی تفصیل بھی بتادوں جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ یہ گانا مجروح صاحب نے لکھا تھا۔اسے کمار سانو نے گایا تھا۔ اس کی موسیقی جتن للت نے دی تھی اور فلم کا نام "خاموشی دی میوزیکل” تھا۔ جسے میرے پسندیدہ ہدایت کار سنجے لیلی بھنسالی نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ یہ بھنسالی صاحب کی ڈائریکشن میں بننے والی پہلی فلم تھی۔اس فلم میں نانا پاٹیکر نے گونگے آدمی کا کردار نبھایا تھا۔ سیما بسواس ، منیشا کوئرالہ اور سلمان خان نے بھی اس فلم میں لاجواب اداکاری کی تھی۔

جنگ اخبار والی گلی میں دوبارہ چلتے ہیں۔ ایک دن میری ملاقات جنگ اخبار والی گلی کے ہوٹل میں ایک صاحب سے ہوئی۔ جو دی نیوز میں ملازم تھے۔ لمبے چوڑے کشمیری تھے۔خوب صورت آدمی تھے اور ان کی مسکراہٹ بھی بہت دلکش تھی۔اس وقت تو وہ بھی جوان تھے۔ مجھ سے تو خیر کافی بڑے تھے۔ ان کے لمبے بال ان کے کاندھوں پر پڑے رہتے تھے۔ وہ ٹی شرٹ اور جینز کی پینٹ پہنتے تھے۔ اور ان کے پیر میں پشاوری جوتے ہوتے۔

بات چیت میں بہت اچھے تھے۔ان کے اخلاق نے مجھے متاثر کیا۔ میری زندگی کا پہلا انٹرویو جو کسی رسالے میں چھپا وہ انہوں نے ہی شائع کیا تھا۔ ان صاحب کا نام خضر حیات تھا۔ وہ کشمیر دوست میگزین میں شوبز صفحے کے انچارج تھے۔ خضر صاحب نے بحیثیت گلوکار میرا انٹرویو اس میگزین میں شائع کیا تھا اور ایک کاپی مجھے گفٹ بھی کی تھی اور کوئی پیسا بھی نہیں لیا تھا۔

خضر صاحب کے سینے میں الٹی طرف شدید درد ہوتا تھا۔ وہ مجھ سے جب بھی ملتے اس کا ذکر کرتے۔ وہ خود ہی بتاتے تھے کہ دل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ٹیسٹ کروالیے ہیں مگر درد جاتا نہیں ہے۔ میں ان کے لیے دعا کیا کرتا تھا۔

خضر صاحب کوارڈینیٹر بھی تھے۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ جیو پر( غالباً) NIC نام کا ایک ڈراما بن رہا ہے۔ اس میں کام کرنے کے لیے آرٹسٹ چاہیئیں۔میں تیار ہوگیا۔ صبح دس بجے سے پہلے جنگ اخبار والی گلی کے اسی ہوٹل پر پہنچ گیا جہاں میں جاتا تھا. وہاں اور بھی لڑکے ایکٹنگ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔

جیو کی گاڑی ہمیں ڈرامے کی لوکیشن پر لے گئی۔ ایک عمارت تھی جہاں کئی لوگ تھے۔ کیمرہ مین، اسسٹنٹ، نئے اداکار، جیو کا عملہ، ماحول خاصہ بے تکلفانہ تھا۔ گالیاں خوب بکی جارہی تھیں۔ فحش لطیفوں پر قہقہے لگ رہے تھے۔ ایک صاحب مختلف لوگوں کو ہدایت دے رہےتھے۔ میں نے انہیں دیکھا تو وہ جانے پہچانے سے لگے۔ غور کیا تو میں نے انہیں پہچان لیا ۔ یہ وہی اداکار تھے۔ جنھوں نے ڈاکٹر یونس بٹ کے ڈرامے فیملی فرنٹ میں بوبی کا کردار نبھایا تھا۔وہ انجم شہزاد تھے۔

انجم شہزاد کا شمار کامیاب ہدایت کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ماہ میر جیسی فلم بھی ڈائریکٹ کر چکے ہیں۔
اسی دوران معلوم ہوا کہ اب ہمیں شوٹنگ کے لیے کسی اور جگہ جانا ہے۔ مگر اس سے پہلے ہم جیو کے دفتر گئے۔ وہاں کا ماحول بہت اچھا لگا۔ کینٹین میں ایک سین فلمایا گیا۔

جیو کی کینٹین میں پہلی بار اداکار اسد کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جو کینٹین میں بڑے شوق سے برگر کھارہے تھے۔ میں اداکار اسد کو دیکھ کر خوش ہوا اس سے پہلے ان کو بچپن میں پی ٹی وی کے ڈراموں میں دیکھا تھا۔

پھر جیو کی گاڑی ہمیں ایک بلڈنگ میں لے گئی۔ وہاں اداکار اسد کو اور قریب سے دیکھا۔ اداکار اسد بارعب آدمی تھے۔ کسی سے بات نہیں کر رہے تھے۔ ہم تو صبح سے چھوٹا موٹا کردار کرنے کے لیے بے چین ہورہے تھے۔ مگر ہماری باری ہی نہیں آرہی تھی۔ شوٹنگ کے لیے ایک مصنوعی تھانا بنایا گیا تھا۔ لوہے کی سلاخیں تھیں۔ جن کے پیچھے ہم جونئیر اداکاروں کو نشے میں جھومتے ہوئے دکھایا جانا تھا۔

ایک اسسٹنٹ نے مجھ سے کہا کہ آپ کو سگریٹ پینا پڑے گی۔ میں نے صاف انکار کردیا اور اب میں سوچتا ہوں کہ واقع میں نے کتنا بولڈ اسٹیپ لیا اگر کوئی اور ہوتا تو شاید سگریٹ پی لیتا۔ میں ویسے بھی سگریٹ نہیں پیتا ہوں اس وقت بھی نہیں پی حالانکہ وہاں تو تقریباً ہر آدمی سگریٹ پی رہا تھا۔

ایک اسسٹنٹ مجھے ڈائریکٹر انجم شہزاد کے پاس لے گیا اور کہا کہ سر یہ نشئی کا رول کریں گے۔ انجم صاحب کہنے لگے یار یہ نشئی کا کیا رول کرےگا شریف آدمی ہے۔

میں نے فورا کہا نہیں سر میں کرلوں گا۔ پھر میرا میک اپ کیا گیا مجھے ایسا دیکھایا گیا کہ نشے کی وجہ سے میرے ہونٹ خشک ہوگئے ہیں اور میرے بازوؤں پر نیل پڑے ہوئے ہیں۔

رات کو کھانے میں سب نے نہاری اور نان کھائے۔ اداکار اسد نے تخت پر بیٹھ کر نہاری کھائی۔ باقی عملے نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ ایک مزیدار واقعہ ہوا اداکار اسد کو قید میں دکھایا گیا تھا اور انجم شہزاد نے اسد سے کہا تھا کہ آپ کو یہ بلب جو لٹکا ہوا ہے اسے توڑنا ہے۔ اسد نے کہا ٹھیک ہے بار بار ریہرسل کی گئی اسد نے ڈائیلاگ بولا مگر وہ لٹکے ہوئے بلب کو نہ توڑ سکے۔اور بار بار یہی ہوتا رہا۔ آخری مرتبہ جب سین فائنل ہوا تب بھی اداکار اسد سے بلب نہ ٹوٹا توسیٹ پر سب ہنسنے لگے۔ اسد سے بلب واقعی نہیں ٹوٹا یا وہ توڑنا نہیں چاہتے تھے یہ تو وہی جانتے ہیں مگر اس وقت سب بہت محظوظ ہوئے۔

میں صبح گھر سے نکلا تھا رات کے 12 یا 1بج گئے تھے۔ میرے پاس موبائل بھی نہیں تھا۔ گھر والے بہت پریشان تھے۔ کسی طرح انھوں نے میری ڈائری سے ایک جاننے والے کا نمبر نکالا اور مجھے فون کردیا اور میری گھر والوں سے بات ہوگئی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جونئیر ایکٹر جو صبح سے رات گئے تک اپنے سین کے لیے انتظار کر رہے تھے مجھ سمیت ان میں سے کسی کو بھی چانس نہیں ملا بلکہ ہم لوگوں کا سین ہی نہیں ہوا۔ میں ایک اداکار کے ساتھ بائیک پر اس کے گھر کے نزدیک اتر گیا اور وہاں سے رکشہ کرکے خیر سے گھر واپس آگیا۔

اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا نئے لوگوں کو اس شعبے میں آنا چاہیے تو میں یہی کہوں گا کہ اگر آپ اس شعبے میں آئیں تو نواز الدین صدیقی جیسا جذبہ لے کر آئیں ورنہ اس کالم سے اندازہ لگالیں کہ یہ کیسی فیلڈ ہے۔ یہاں وقت کتنا برباد ہوتا ہے۔ پیسے بھی ضائع ہوتے ہیں۔ لوگ بھی آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہاں مگر دنیا میں خضر حیات صاحب جیسے اچھے لوگ بھی موجود ہیں لیکن ہر کسی پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا ہے کیا سمجھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے