اِس دور میں جاوید احمد غامدی صاحب کا دَم غنیمت ہے، آپ اُن سے لاکھ اختلاف کریں مگر اُنکے علمی قد کاٹھ سے انحراف ممکن نہیں۔ غامدی صاحب سے اگر کوئی اختلاف کیا جا سکتا ہے تو وہ اُنکا دین کی تشریح و تعبیر کا طریقہ کار ہے۔ انکا دعویٰ ہے کہ قرآنِ مجید کا اپنا ایک خاص نظم ہے اور اگر اسکے الفاظ، گرامر اور نظم کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو دین کا پورا فریم ورک اور خدا کی اسکیم خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں وہ ہر اُس روایت، فہم، فقہی تعبیر اور تاریخ کو مسترد یا غیر متعلق کر دیتے ہیں جو انکے نزدیک قرآن کے متنی نظم کے مطابق نہ ہو یا جس کی صریح بنیاد انہیں متن میں نظر نہ آئے۔ یعنی غامدی صاحب دین کو صرف بنیادی متن کے اندر محصور کر کے دیکھتے ہیں اور چودہ سو سال کی علمی و تاریخی روایت کو محض ثانوی یا غیر لازمی چیز سمجھتے ہیں۔ مجھ غریب کو اس طریقہ کار سے اختلاف ہے۔
اسلام صرف ایک کتاب یا متن کا نام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ اور جاری رہنے والی روایت بھی ہے۔ آپ محض یہ کہہ کر چودہ سو سال کے اصولِ فقہ اور پریکٹس کو رد نہیں کر سکتے کہ ’مجھے یہ بات براہِ راست کتاب کے متن میں نہیں ملی‘۔اِسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی قانون داں سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہے کہ ’جنابِ والا! آئینِ پاکستان کا متن میرے ہاتھ میں ہے۔ اس میں فلاں قانونی اصطلاح، ضابطہ یا عدالتی عمل کی صریح عبارت موجود نہیں ہے۔ اس لیے میں پچھلے ستّر سال کے تمام عدالتی فیصلے، فُل بنچ کی تشریحات اور قانون سازوں کی قائم کردہ روایات کو اٹھا کر باہر پھینکتا ہوں‘۔ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ اِسلئے کہ دنیا کا کوئی آئین اور قانون اپنے اندر تمام تفصیلات، اصطلاحات اور عمل کے طریقے خود برآمد نہیں کر سکتا۔ آئین ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے لیکن اس متن کو نافذ کرنے کیلئے ایک مسلسل قانونی روایت، عدالتی فیصلے اور تعبیرات کی تاریخ درکار ہوتی ہے۔
دین کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ جسے ہم اسلام میں روایت، اصولِ فقہ یا علمِ درایت کہتے ہیں وہ اصل میں مسلمانوں کا چودہ سو سال کا فکری، قانونی اور تمدنی سرمایہ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچا ہے۔ متن پرستی میں آ کر اس چودہ سو سالہ قانونی و تعبیری عمارت کو استعمال نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے جی ٹی روڈ کو بند کر کے صرف موٹروے استعمال کی جائے۔ امام فراہی کا مکتب فکر اِسی اپروچ کے نتیجے میں تصوف اور صوفیاء کی پوری روایت کو دین کے فریم ورک سے خارج یا غیر متعلق سمجھتا ہے حالانکہ تصوف کوئی نیا مذہب یا نئی شریعت نہیں ہے۔ جیسے فقہ کا کام یہ بتانا ہے کہ نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں (یعنی ظاہری جسمانی عمل) ویسے ہی تصوف کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس نماز میں خشوع، حضورِ قلب اور خلوص کتنا ہے (یعنی باطنی کیفیت)۔
تصوف اور شریعت کا تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے جسم اور روح کا۔ اگر آپ جسم سے روح نکال دیں تو وہ لاش بن جاتا ہے اور اگر روح بغیر جسم کے پھرے تو لوگ اسے بھوت سمجھ کر ڈر جاتے ہیں۔ صوفیاء نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی نیا کلمہ یا نیا قبلہ لائے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ مزاروں پر ہونے والی بدعات، پیری مریدی کا کاروبار اور بعض فلسفیانہ دعوے ایسے ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں لیکن تاریخ میں اگر کچھ لوگوں نے تصوف کے نام پر غلو یا خلافِ شریعت باتیں کی ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، شیخ عبدالقادر جیلانی، جنید بغدادی، مولانا روم اور شاہ ولی اللہ جیسے جلیل القدر صوفیاء کی پوری روایت ہی کو مسترد کر دیں۔ یہ کیسا الگ دین ہے جس کےاَئمہ اصل دین کے بھی اَئمہ تھے؟
آج دنیا کے اکثر مفکرین جرمن فلسفی ہیگل کی بہت سی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ کئی لوگ تو اسکے فلسفے کو بے معنی قرار دیتے ہیں لیکن کیا ہیگل کے نظریات سے اختلاف کرنے کے بعد دنیا نے ہیگل کو پڑھنا اور اس سے استفادہ کرنا چھوڑ دیا؟ ہیگل نے انسانی تاریخ اور ارتقاء کو جو زاویہ اور منطقی زبان فراہم کی اُس کے بغیر جدید عمرانیات، تاریخ اور سیاسیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ اسی طرح قدیم زمانے کے کیمیا دانوں کاسارا زور اس بات پر تھا کہ کسی طرح تانبے يا لوہے کو سونے میں بدل دیا جائے۔ آج کا سائنسدان جانتا ہے کہ لوہے کو سونے میں بدلنے کا یہ طریقہ سائنسی طور پر بالکل غلط اور خام خیالی تھا۔ لیکن کیا علمِ کیمیا کی وہ تمام کوششیں بیکار گئیں؟ نہیں! اسی علمِ کیمیا سے وہ بنیادیں استوار ہوئیں جس پر آج جدید کیمسٹری کی عمارت کھڑی ہے۔
سو، جب ایک ناکام دعوے والی روایت بھی اتنا کچھ دے سکتی ہے تو وہ روایت کتنا کچھ دے گی جس نے صدیوں تک انسانوں کے دل اور دماغ دونوں کو سنوارا؟ اگر بالفرضِ محال دنیا کا کوئی شخص قرآن کے مذہبی عقائد يا اس کے احکامِ شریعت پر ایمان نہ بھی رکھتا ہو تب بھی وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن مجید صرف ایک مذہبی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم الشان تہذیبی اور لسانی معجزہ ہے جس نے اربوں انسانوں کی تشکیل کی ہے۔ عربی زبان کی ساخت، اُس کے افعال، گرامر، بلاغت اور اس کے 70 فیصد سے زائد بنیادی ذخیرہ الفاظ اور محاورات پر قرآنِ مجید کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ اور صرف زبان ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا کلچر، اُن کی خطاطی، اُن کا طرزِ تعمیر، اُن کا قانون، اُن کی بلاغت، سب کے سب قرآن اور سنتِ نبوی کے مرہونِ منت ہیں۔ خیر یہ بات غامدی صاحب والی بحث سے کہیں اور نکل جائیگی۔
A few good men فلم کا منظر یاد آگیا۔ ایک امریکی فوجی افسر کی زیر کمان کسی رنگروٹ کی موت واقع ہو جاتی ہے، موت کی وجہ کوڈ ریڈ بتائی جاتی ہے، یہ وہ غیرعلانیہ سخت جسمانی سزا ہے جو اُس یونٹ میں کمانڈنگ افسر کے حکم کے تحت دی جاتی۔ مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے، فوج کا وکیل قانون کی کتاب لہراتا ہوا جج کو دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اِس کتاب میں کہیں بھی کوڈ ریڈ کا لفظ نہیں لکھا، اِس سزا کا کوئی وجود نہیں۔ جواب میں وکیل صفائی کہتا ہے کہ کیا یونٹ میں میس ہے، کیا وہاں کھانا ملتا ہے، کیا سب فوجی جوان ایک مقررہ وقت پر وہاں کھانے کیلئے اکٹھا ہوتے ہیں؟ جواب ملتا ہے، ہاں۔ وکیل مسکرا کر کہتا ہے کہ لیکن یہ سب بھی تمہاری قانون کی کتاب میں نہیں لکھا تو کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ اِن باتوں کا وجود ہی نہیں! بس یہی میرا مدعا ہے کہ کسی بات کا متن میں نہ ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ اُس کے وجود کا سرے سے انکار ہی کر دیا جائے۔ تعبیرِ دین کا یہ طریقہ مناسب نہیں۔
بشکریہ جنگ