محرم گزر گیا، کربلا نہیں گزری

یہ کالم لکھنے کی وجہ بھی وہی ہے جس نے پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے مولانا اللہ وسایا صاحب کی مرتب کردہ کتاب ”احتسابِ ناصبیت“ منظرِ عام پر آئی ہے یہ ایک کتاب نہیں، بارہ ضخیم جلدیں، جن کا پورا سیٹ دس ہزار روپے کا ہے اور وزن دس کلو۔ ناشر کے مطابق اِس میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ سے لے کر مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، مفتی محمد شفیعؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ اور قاضی مظہر حسینؒ تک بیس کے قریب علماء کی تحریریں جمع کی گئی ہیں۔ یہ وہی مولانا اللہ وسایا ہیں جن کی عمر ختمِ نبوت کے محاذ پر گزری، اور جنہیں اِسی سال مئی میں گوجرانوالہ میں ردِ قادیانیت پر سو جلدوں کے انسائیکلوپیڈیا کی تدوین پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔

میں نے یہ کتاب ابھی پڑھی نہیں، اِس لیے اُس کے مندرجات پر کوئی فیصلہ نہیں سناؤں گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ چند ہی دنوں میں اِس پر فتوے صادر کر رہے ہیں، اُن میں سے کتنوں نے یہ بارہ جلدیں تو کیا، ایک جلد بھی پڑھی ہے؟ کسی نے پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو، بحث شروع ہو گئی اور ہر کوئی اپنی اپنی شاباشی سمیٹنے کے چکر میں میدان میں اُتر آیا۔ پھر وہی تکرار، وہی ”تم غلط، میں ٹھیک“۔ کسی نے مولانا کو ”گستاخِ صحابہ“ قرار دے دیا، کسی نے اِسے ناصبیت کے ایوانوں میں زلزلہ کہہ کر شادیانے بجائے۔ یوٹیوب پر ویڈیوز کی قطار لگ گئی ”علماء کیا کہتے ہیں“، ”اصل اختلاف کیا ہے“، ”تحقیقی جائزہ“، ”ناقدین کی اقسام“ فیس بک پر کلپ چلے، اور ہر طرف ویوز اور لائکس کی دوڑ لگ گئی۔ کتاب پڑھنے کی فرصت شاید کسی کو نہیں، مگر فیصلہ سنانے کی جلدی سب کو ہے۔

یہ امت آخر کس طرف جا رہی ہے؟ کیا ہمارے پاس کوئی کامن سینس، کوئی غیر جانبدار رائے باقی نہیں رہی؟ خدارا سوچیے۔

ویسے بھی ہر سال یہی ہوتا ہے۔ محرم شروع ہوتا ہے اور بحثیں چھڑ جاتی ہیں۔ جن کا کاروبار اہلِ بیتؑ کے کرب کے بیان سے وابستہ ہے، وہ خوب بیان کرتے ہیں اور جن کا کاروبار بنو امیہ کی چوکیداری سے جڑا ہے، وہ اصحابِ رسولؐ کے دفاع کا لبادہ اوڑھ کر خوب تقریریں کرتے ہیں اور داد وصول کرتے ہیں۔ محفلیں سجتی ہیں، ذاکر آتے ہیں، مولوی آتے ہیں، روداد سناتے ہیں، آپس میں جنت کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ محرم گزر جاتا ہے اور سب کچھ پھر سے ”نارمل“ ہو جاتا ہے۔

صحابۂ کرامؓ کی عزت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، مگر صحابہؓ کے نام کی آڑ میں یزید کی وکالت دفاع نہیں، خیانت ہے۔ اور اہلِ بیتؑ کے غم کو منبر کی منڈی میں بیچنا بھی عقیدت نہیں، تجارت ہے۔ دونوں صورتوں میں گھاٹا اُسی غم کا ہوتا ہے جسے دراصل ہمارے سینوں میں بسنا تھا۔

اصل المیہ یہی ہے کہ غم بھی کاروبار بن گیا ہے اور اختلاف بھی۔ ذاکر کا ریٹ طے ہوتا ہے، خطیب کا نذرانہ طے ہوتا ہے، اور یوٹیوب چینل کے لیے ہر نیا تنازع سونے کی کان ہے کہ جتنی تلخی، اتنے ویوز جتنے ویوز، اتنی کمائی۔ جس دن یہ جھگڑا ختم ہوگیا، بہت سی دکانیں بند ہو جائیں گی شاید اسی لیے یہ جھگڑا ختم ہونے نہیں دیا جاتا۔ مگر جس غم پر مدینے کی گلیاں روئی تھیں، وہ بکنے کے لیے نہیں تھا۔

غیر جانبدار رائے کوئی مشکل چیز نہیں۔ علمی کتاب کا جواب علمی دلیل سے دیا جاتا ہے، گالی اور فتوے سے نہیں۔ جسے اختلاف ہے، وہ کتاب پڑھے، حوالے دیکھے اور دلیل سے رد کرے اور جو اِسے اپنی فتح سمجھ رہے ہیں، وہ بھی یاد رکھیں کہ اہلِ بیتؑ کی محبت کسی کو نیچا دکھانے کا ہتھیار نہیں۔ امت کی بھاری اکثریت کا عقیدہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اہلِ بیتؑ کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور صحابہؓ کا احترام بھی اہلِ بیتؑ سے بغض بھی گمراہی ہے اور صحابہؓ کی توہین بھی۔

امام شافعیؒ سے منسوب مشہور شعر کا مفہوم ہے کہ اگر آلِ محمدؐ کی محبت ہی رفض ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں اور اہلِ تشیع کے بڑے مراجع بھی اہلِ سنت کی محترم ہستیوں کی توہین کو حرام قرار دے چکے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں اللہ اُس سے محبت کرے جو حسینؑ سے محبت کرے“ (ترمذی)۔ جس نبیؐ نے یہ فرمایا، اُس کی امت میں حسینؑ کا غم کسی ایک فرقے کی جاگیر کیسے ہو سکتا ہے؟

اِس سال بھی یہی ہوا۔ محرم گزرا، صفر گزرا، اربعین گزر گیا، اور ہم سب اپنی اپنی دنیا میں لوٹ آئے۔ مگر کبھی آپ نے سوچا ہے کہ محرم گزرنے کے بعد امام زین العابدینؑ پر کیا گزری ہوگی؟ دمشق کی قید سے نکل کر جب وہ مدینہ لوٹے ہوں گے تو اُن کے دل پر کیا بیتی ہوگی؟ ہمارے لیے محرم ایک مہینہ ہے جو ختم ہو جاتا ہے اُن کے لیے کربلا وہ دن تھا جو باقی ساری زندگی ختم نہیں ہوا۔

عاشور کی شام ڈھل چکی تھی۔ خیمے جل کر راکھ ہو چکے تھے اور شہداء کے پاکیزہ جسم کربلا کی تپتی ریت پر بے گور و کفن پڑے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اُنہیں قریب کی بستی غاضریہ کے بنو اسد نے دفن کیا، اور روایات کے مطابق اِس تدفین میں امام زین العابدینؑ خود موجود تھے۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک بیمار بیٹا اپنے بابا کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اُتار رہا ہے یعنی وہی آنکھیں، جنہوں نے چند دن پہلے بابا، بھائیوں، چچا اور خاندان کے جوانوں کو ایک ایک کر کے گرتے دیکھا تھا۔

پھر قافلہ چلا مگر یہ قافلہ نہیں، اسیروں کی قطار تھی۔ کوفہ کے بازار، ابنِ زیاد کا دربار، اور پھر شام کا طویل سفر۔ روایت ہے کہ کوفہ کے دربار میں ابنِ زیاد نے طنز سے پوچھا کہ اپنے بھائی کے ساتھ اللہ کا معاملہ کیسا دیکھا؟ تو سیدہ زینبؑ نے فرمایا: ”مَا رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا“ میں نے تو خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر زینبؑ نہ ہوتیں تو کربلا، کربلا ہی میں دفن ہو جاتی۔ اُن کے خطبوں نے کوفہ اور دمشق کے درباروں کو آئینہ دکھا دیا۔

روایات میں ہے کہ امام حسینؑ کی ننھی بیٹی جنہیں ہمارے ہاں بی بی سکینہؑ کہا جاتا ہے اور دمشق میں جن کا روضہ سیدہ رقیہؑ کے نام سے ہے اپنے بابا کو بہت یاد کرتی تھیں۔ ایک رات خواب میں بابا کو دیکھا تو روتی ہوئی جاگ اُٹھیں اور پھوپھی زینبؑ سے بابا کا پوچھنے لگیں۔ بعد کی روایات بتاتی ہیں کہ اُسی اسیری میں وہ ننھی جان دنیا سے رخصت ہوگئی۔ امام زین العابدینؑ کے لیے یہ ایک اور قیامت تھی کربلا میں بابا اور عزیز گئے، اور اب شام کے زندان میں ننھی بہن بھی۔

پھر رہائی ملی اور قافلہ مدینہ کی طرف چلا۔ سید ابنِ طاؤس ”اللہوف“ میں لکھتے ہیں کہ مدینہ قریب آیا تو امامؑ شہر میں داخل ہونے کے بجائے باہر ٹھہر گئے، خیمے لگوائے، اور بشیر بن حذلم کو بلا کر فرمایا: ”اے بشیر! اللہ تمہارے والد پر رحم کرے، وہ شاعر تھے کیا تم بھی شعر کہہ سکتے ہو؟“ عرض کیا: ”جی ہاں، اے فرزندِ رسولؐ!“ فرمایا: ”مدینہ جاؤ اور لوگوں کو میرے بابا ابو عبداللہؑ کی شہادت کی خبر دو۔“

بشیر مسجدِ نبویؐ پہنچا اور روتے ہوئے پکارا: ”اے مدینے والو! حسینؑ شہید کر دیے گئے، اُن پر آنسو بہاؤ۔ علی بن حسینؑ اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کے ساتھ شہر کے باہر موجود ہیں۔“ یہ سننا تھا کہ مدینہ اُمڈ پڑا۔ ”اللہوف“ کے مطابق کوئی پردہ نشین خاتون گھر میں نہ رہی پورا شہر روتا ہوا باہر نکل آیا۔

پھر وہ لمحہ آیا جس کا تصور بھی دل چیر دیتا ہے۔ امامؑ مدینہ میں داخل ہوئے تو سامنے بابا حسینؑ کا گھر تھا مگر بابا نہیں تھے۔ وہ گھر جہاں کبھی حسینؑ کی آواز گونجتی تھی، اب خاموش تھا۔ عباسؑ نہیں تھے، علی اکبرؑ نہیں تھے، قاسمؑ نہیں تھے، عون و محمدؑ نہیں تھے۔ علی اصغرؑ کا جھولا خالی تھا۔ جو گھر چند مہینے پہلے بھرا پڑا چھوڑ کر نکلے تھے، اُس میں اب صرف یادیں تھیں۔ کربلا نے ایک پورا خاندان چھین لیا تھا۔

اُسی مدینے میں ایک ماں تھیں، اُمّ البنینؑ عباسؑ اور اُن کے تین بھائیوں کی ماں۔ ابو الفرج اصفہانی کی ”مقاتل الطالبیین“ میں روایت ہے کہ وہ جنت البقیع جا کر اپنے بیٹوں کا ایسا دردناک نوحہ کرتیں کہ لوگ جمع ہو جاتے، اور مروان بن حکم جیسا شخص بھی سن کر رو پڑتا۔ اور علی اصغرؑ کی ماں بی بی ربابؑ؟ ابنِ کثیر ”البدایہ والنہایہ“ میں لکھتے ہیں کہ قریش کے معززین نے رشتے بھیجے تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد میں کسی کو اپنا سسر نہیں بناؤں گی اور وہ حسینؑ کے غم میں گھلتی گھلتی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

اور امام زین العابدینؑ؟ کربلا کے بعد وہ تین دہائیوں سے زیادہ جیے، مگر کربلا اُن کے اندر سے کبھی نہیں نکلی۔ روایات میں ہے کہ جب بھی پانی سامنے آتا، کربلا یاد آ جاتی اور آنکھیں بھر آتیں۔ لوگوں نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولؐ! آپ کا غم کب ختم ہوگا؟ اہلِ سنت کے جلیل القدر محدث ابو نعیم اصفہانی ”حلیۃ الاولیاء“ میں امامؑ کا یہ جواب نقل کرتے ہیں: ”مجھے ملامت نہ کرو۔ یعقوبؑ کا ایک بیٹا بچھڑا تو وہ اتنا روئے کہ آنکھیں سفید ہوگئیں، حالانکہ اُنہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ مر چکا ہے اور میں نے اپنے گھرانے کے چودہ مردوں کو ایک ہی معرکے میں (شہید ہوتے) دیکھا ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ اُن کا غم کبھی میرے دل سے جائے گا؟“

مگر امامؑ کا غم بیٹھ کر رونے تک محدود نہیں تھا۔ وہی ”حلیۃ الاولیاء“ بتاتی ہے کہ امامؑ رات کے اندھیرے میں روٹیوں کا تھیلا اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر مسکینوں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ لوگ اُنہیں کنجوس سمجھتے رہے جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو پتا چلا کہ مدینہ کے سو گھرانوں کا چولہا اُنہی کے دم سے جلتا تھا۔

غسل دیا گیا تو پیٹھ پر بوجھ اُٹھانے کے نشان تھے، اور اہلِ مدینہ کہتے تھے ”چھپا کر دیا جانے والا صدقہ ہم سے اُس دن چھنا جس دن علی بن حسینؑ دنیا سے گئے۔“ غور کیجیے: امامؑ نے یہ خدمت رات کے اندھیرے میں کی، کہ کسی کو خبر نہ ہو نہ کیمرا، نہ اشتہار، نہ واہ واہ۔ اور ہم ہیں کہ اُنہی کے غم کو ویوز، ریٹ اور نذرانوں کی منڈی بنا بیٹھے ہیں۔ یہی وہ امامؑ ہیں جن کی دعاؤں کا مجموعہ ”صحیفۂ سجادیہ“ آج بھی آنسوؤں کو سجدوں میں بدلنا سکھاتا ہے۔ یہ ہے اسیرانِ کربلا کی، کربلا کے بعد کی زندگی: غم کو عبادت اور خدمت میں ڈھال دینا۔

مجھے قاہرہ کی مسجدِ حسینؑ یاد آتی ہے، کربلا یاد آتا ہے۔ قاہرہ ہی میں سیدہ زینبؑ سے منسوب مزار ہے، اور دمشق کے پرانے شہر میں سیدہ رقیہؑ کا چھوٹا سا روضہ گویا اسیرانِ کربلا کا سفر آج بھی دنیا کے نقشے پر اپنے نشان چھوڑے ہوئے ہے۔ قاہرہ کی مسجدِ حسینؑ میں بیٹھوں یا کربلا میں، دل میں ایک ہی سوال اُٹھتا ہے: کربلا کے درد کے بعد جب زین العابدینؑ مدینہ پہنچے، سامنے بابا کا گھر دیکھا اور بابا نہ تھے، قاسمؑ نہ تھا، اپنے نہ تھے تو وہ پل کیسے گزرے ہوں گے؟

اے مسلمانو! ذرا یاد رکھو، یہ کوئی سالانہ تقریب نہیں۔ یہ کوئی چودہ اگست یا چھ ستمبر نہیں کہ ایک دن جھنڈیاں لگائیں، ترانے بجائیں اور اگلی صبح سب اُتار کر رکھ دیں۔ محرم چلا گیا، مہینہ ختم ہو گیا مگر سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ یہ اہلِ بیتؑ کا غم ہے اِسے سینے سے لگانا پڑتا ہے۔ اِس کے لیے شیعہ یا سنی ہونا نہیں پڑتا، حسینی بننا پڑتا ہے۔ یہ درد جب اندر داخل ہوتا ہے تو اِسے سمجھنا پڑتا ہے۔ اِس عشق کا زور بہت ہے، اور اِس کی آزمائش بڑی ہے۔

ایس موسیٰ طور بلایا اے
ایس بلھے خوب نچایا اے
ایس عشق نے بلدے کربل وچ
دیوانے نوں وی آزمایا اے

حسینی بننا کیا ہے؟ اِس کا جواب خود امام حسینؑ نے اُسی مدینے سے نکلتے وقت لکھ دیا تھا، جس میں بعد میں اُن کا بیٹا اُن کے بغیر لوٹا:

إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ

(بحار الانوار، ج 44، ص 329)

”میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ اِترانے کے لیے، نہ فساد اور ظلم کے لیے میں تو اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چاہتا ہوں۔“
جا دس دے دلبر ماہی نوں
میتھوں یار بھلایا جاندا نئیں
سِر رکھ کے یار دے قدماں وچ
سِر فیر اُٹھایا جاندا نئیں

یعنی حسینیت صرف مجلس کا نام نہیں، کردار کا نام ہے ظلم کے سامنے ”نہ“ کہنا، سچ بولنا چاہے قیمت جان ہو، اور اپنے گرد کے معاشرے کو سنوارنا۔ اِس کا روزمرہ نصاب مولا علیؑ نے امام حسنؑ کے نام اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا: ”دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو“ (نہج البلاغہ، مکتوب 31)۔ جو شخص سارا سال جھوٹ بولے، ملاوٹ کرے، دوسروں کا حق مارے، اور محرم میں سب سے اونچی آواز میں ”یا حسینؑ“ پکارے، اُس نے کربلا کو سنا تو ہے، سمجھا نہیں۔ امام زین العابدینؑ کی پیٹھ کے وہ نشان ہمیں بتاتے ہیں کہ غمِ حسینؑ آنسوؤں پر ختم نہیں ہوتا، خدمت پر جا کر مکمل ہوتا ہے۔

مولا علیؑ نے فرمایا تھا:

لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْيَا عَلَيْنَا بَعْدَ شِمَاسِهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَى وَلَدِهَا

(نہج البلاغہ، حکمت 209)

”دنیا اپنی منہ زوری کے بعد ہماری طرف یوں جھکے گی جیسے کاٹ کھانے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔“

اِس کے بعد آپؑ نے سورۂ قصص کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں اُن پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور بنا دیا گیا، اور اُنہیں پیشوا اور وارث بنائیں۔ شارحین اِسے اہلِ بیتؑ کے آخری غلبے اور امام مہدیؑ کے ظہور سے جوڑتے ہیں۔ مگر ذرا آج ہی دیکھ لیجیے جن اسیروں کو کوفہ اور شام کے بازاروں میں پھرایا گیا، اُن کے نام پر اِس سال اربعین کے موقع پر، حضرت عباسؑ کے روضے کی انتظامیہ کے مطابق، تقریباً دو کروڑ انسان کربلا پہنچے۔ دمشق کا وہ دربار آج کہاں ہے، اور حسینؑ کا روضہ آج کہاں ہے؟

تو محرم گزر گیا، مگر کربلا نہیں گزری۔ کربلا اُس دن گزرے گی جس دن ہمارے معاشرے سے ظلم گزر جائے گا۔ تب تک ہمیں اسیرانِ کربلا کی، کربلا کے بعد کی زندگی پر نظر رکھنی ہے زینبؑ کا حوصلہ، سجادؑ کے آنسو اور راتوں کی خاموش خدمت، بی بی ربابؑ کی وفا اور اُمّ البنینؑ کا نوحہ۔ یہی وہ نصاب ہے جو سال کے بارہ مہینے پڑھا جانا چاہیے، صرف محرم کے دس دن نہیں۔ خدارا، اِس غم کو کاروبار نہ بنائیے نہ منبر پر، نہ اسکرین پر۔ یہ غم کاروبار نہیں، امانت ہے۔

سلام ہو اہلِ بیتؑ پر اور سلام ہو اُن اسیروں پر جن کی کربلا عاشور کی شام ختم نہیں ہوئی، وہاں سے شروع ہوئی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے