آپ کی دعا قبول ہو گئی

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے اور جو اپنے پیاروں اور لاڈلوں کو آزماتا بھی ہے، اور اُن آزمائشوں پر بے پناہ عطا بھی فرماتا ہے۔

یقین کیجیے، کل سے اضطراب میں ہوں۔ کچھ تاریخی حقائق جب آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہیں یا کچھ قصے کانوں میں پڑتے ہیں، تو اُنہیں تسلیم کرنا، سہنا اور برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر کتنے پریشان ہو جاتے ہیں، اور طرح طرح کے وسوسے دل میں لیے پھرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا و آخرت کے شہزادوں اور شہزادیوں پر کیا گزری۔

اِس کالم کو لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کو بتاؤں: آزمائشیں آتی ہیں، اور اُن پر صبر کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے قرآن میں صاف فرما دیا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

(البقرہ: 155)

”اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے، کچھ خوف اور بھوک سے، اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے سخت آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ فرمایا: ”انبیاء کی، پھر درجہ بدرجہ اُن کی جو (ایمان میں) اُن کے قریب تر ہوں“ (ترمذی)۔ یعنی جو جتنا پیارا، اُس کی آزمائش اُتنی کڑی۔ اور صبر کا مطلب سیکھنا ہو تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو دیکھیے، جنہوں نے کربلا میں بھائی، بیٹے اور بھتیجے کھو کر بھی کوفہ کے دربار میں ابنِ زیاد کے طنز کے جواب میں فرمایا: ”مَا رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا“ یعنی میں نے تو (اللہ کی طرف سے) خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔

کل علامہ ڈاکٹر طاہر القادری مدظلہ العالی کا ایک کلپ نظر سے گزرا۔ وہ اہلِ بیتِ اطہار کی اسیری پر بات کر رہے تھے، اور اُن کی زبانی وہ تاریخی لمحات سن کر میں کل سے حقیقتاً ایک صدمے میں ہوں۔

فرما رہے تھے کہ جب اہلِ بیت یعنی اسیرانِ کربلا کو قیدی بنا کر پہلے عراق، اور پھر بازاروں اور راستوں سے گزارتے ہوئے دمشق لے جایا گیا، تو لوگ گھروں سے باہر نکل آتے۔ اُنہیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ قیدی کون ہیں، مگر تماشا دیکھنے ضرور نکلتے، اور آوازیں کسی جاتیں، بلند کی جاتیں کہ باغیوں کو یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے دربار میں لے جایا جا رہا ہے۔

تاریخ کی کتابیں بھی اِس بے خبری کی گواہ ہیں۔ سید ابنِ طاؤس ”اللہوف“ میں لکھتے ہیں کہ کوفہ میں ایک عورت نے اپنی چھت سے جھانک کر پوچھا: ”تم کون سے قیدی ہو؟“ جواب ملا: ”ہم آلِ محمدؐ کے قیدی ہیں۔“ وہ نیچے اُتری اور اُن کے لیے چادریں اور اوڑھنیاں جمع کر کے لے آئی۔ اور شیخ صدوق کی ”امالی“ کے مطابق دمشق میں جب شامیوں نے پوچھا کہ تم کون ہو، تو امام حسینؑ کی صاحبزادی سکینہؑ نے بھی یہی جواب دیا: ”ہم آلِ محمدؐ کے قیدی ہیں۔“

اِن اسیرانِ کربلا کے ساتھ نیزے پر امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک بھی تھا، اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور اہلِ بیت کی باقی شہزادیاں ساتھ ساتھ تھیں۔

یہ قافلہ تھا کن لوگوں کا تھا؟ تاریخ کے مطابق اِس میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ مردوں میں جو بچ گئے تھے، وہ یا بیمار تھے یا کمسن امام زین العابدینؑ، جن کی عمر اُس وقت بائیس تئیس برس تھی اور جو کربلا میں شدید بیمار تھے اُن کے تین چار برس کے صاحبزادے محمد، جو بعد میں امام محمد باقرؑ کہلائے اور امام حسنؑ کے کمسن بیٹے۔ خواتین میں امام حسینؓ کی بہنیں سیدہ زینبؑ اور اُمِ کلثومؑ امام حسینؓ کی اہلیہ بی بی ربابؑ، جن کی گود کربلا میں علی اصغرؑ سے خالی ہو چکی تھی امام حسینؓ کی بیٹیاں سکینہؑ اور فاطمہؑ، اور روایات کے مطابق ننھی رقیہؑ امام زین العابدینؑ کی اہلیہ فاطمہ بنتِ حسنؑ مولا علیؑ کی دیگر بیٹیاں؛ اور عقیلؓ و جعفرؓ کے گھرانوں کی خواتین اور بچے۔

اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کون تھیں؟ مولا علیؑ اور سیدہ فاطمۃ الزہراؑ کی بڑی بیٹی، رسول اللہ ﷺ کی نواسی، اور امام حسنؑ و امام حسینؓ کی چھوٹی بہن۔ آپ جمادی الاول پانچ یا چھ ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئیں، یعنی امام حسینؓ (پیدائش: شعبان چار ہجری) سے لگ بھگ دو برس چھوٹی تھیں۔ والدہ سیدہ فاطمہؑ دنیا سے رخصت ہوئیں تو زینبؑ کی عمر پانچ چھ برس تھی۔ آپ کا نکاح اپنے چچازاد حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے ہوا، اور آپ کے دو بیٹے، عونؑ اور محمدؑ، کربلا میں اپنے ماموں حسینؓ پر قربان ہوئے۔ علم و دانائی کی وجہ سے ’عقیلۂ بنی ہاشم‘ کہلائیں، اور اتنے دکھ جھیلے کہ ’اُمّ المصائب‘ یعنی مصیبتوں کی ماں کا لقب ملا۔ کربلا کے وقت آپ کی عمر پچپن برس کے لگ بھگ تھی، اور اِس سفر کے ڈیڑھ برس بعد، رجب 62 ہجری میں، آپ بھی اپنے بھائی سے جا ملیں۔

دمشق پہنچے تو شہر سجا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ، جو اُن دنوں سفر میں دمشق سے گزر رہے تھے، روایت کرتے ہیں کہ بازار آراستہ تھے، دف اور ڈھول بج رہے تھے اور لوگ جشن منا رہے تھے۔ حیران ہو کر پوچھا تو بتایا گیا کہ عراق سے حسینؑ کا سر لایا جا رہا ہے۔ قافلے کو شہر کے دروازے ”باب الساعات“ پر گھنٹوں روکے رکھا گیا۔ سہلؓ کہتے ہیں کہ میں نے نیزے پر ایک سر دیکھا جو صورت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھا۔ سیدہ سکینہؑ نے اُن سے فرمایا کہ اگر کر سکو تو سر اُٹھانے والے سے کہو کہ آگے چلے، تاکہ لوگوں کی نظریں اُس سر کی طرف رہیں، رسولؐ کی بیٹیوں کی طرف نہیں (بحار الانوار؛ مقتل خوارزمی)۔

پھر قافلہ دمشق کے اُس بازار میں پہنچا جو آج بھی قائم ہے۔ قیدیوں کے اِس قافلے کو دیکھنے کے لیے خواتین و حضرات سامنے نکل آئے، اور وہی آوازیں گونجنے لگیں کہ باغیوں کو دربار میں پیش کیا جائے گا اُس دربار میں، جہاں انسانیت کا دشمن، یزید کمینہ، تخت پر بیٹھا تھا۔

علامہ صاحب کی بیان کردہ روایت ہے کہ اِسی بازار میں ایک خاتون نے سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو اُس وقت کی ضرورت کے مطابق کچھ کپڑے اور باقی ساز و سامان پیش کیا۔ سیدہ زینبؑ نے اشارہ کر کے اُنہیں قریب بلایا اور پوچھا: ”اِس پورے سفر میں کسی نے ہمیں کچھ نہیں دیا؛ آپ کی یہ کرم نوازی کیسی؟“

اُس خاتون اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے درمیان جو مکالمہ ہوا، وہ اِس جہانِ فانی کی آزمائشوں، امتحانوں، غموں اور تکلیفوں سے بھرا ہوا ہے۔

اُس خاتون نے عرض کیا: ”مدینہ میں مجھے جنت کی عورتوں کی سردار، سیدہ فاطمۃ الزہرا بنتِ محمد ﷺ کی خادمہ کے طور پر وقت گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگی اور دمشق آنا تھا، تو آخری ملاقات میں میں نے بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا سے عرض کی کہ مجھے کوئی وصیت اور نصیحت فرما دیجیے۔ جواب ملا ’کبھی کوئی قیدی سرِ راہ نظر آئے تو اُس کا خیال رکھنا۔‘ میں نے بس بی بی فاطمہؑ کی اُسی نصیحت کو ملحوظِ خاطر رکھ کر آپ کو یہ جوڑا اور سامان دیا ہے۔“

سوچتا ہوں، یہ وہی گھرانہ تھا جس کے بارے میں کئی مفسرین نے حضرت ابنِ عباسؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سورۂ دہر کی یہ آیت اُسی کی شان میں اُتری:

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا

(سورۃ الدہر: 8)

”اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔“ جس گھر نے کبھی اپنے حصے کی روٹی ایک قیدی کو دے دی تھی، جس گھر کی خاتون نے رخصت ہوتی خادمہ کو قیدی کا خیال رکھنے کی وصیت کی تھی، آج اُسی گھر کی بیٹی خود قیدی بن کر شام کے بازار میں کھڑی تھی۔

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شکریہ ادا کیا اور فرمایا: ”ہم تو اسیر ہیں، قید و بند میں ہیں، ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟“

اُس خاتون نے دعا کی درخواست کی: ”جب میں مدینہ سے چلی تھی تو فاطمہ بنتِ رسول ﷺ کے شہزادے حسینؓ اور شہزادی زینبؑ چھوٹے تھے۔ دعا کیجیے کہ کبھی اُن سے میری ملاقات ہو جائے۔“

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ”آپ کی دعا قبول ہو گئی۔ میں زینب ہوں… اور نیزے پر جو سر تن سے جدا ہے، وہ حسین کا ہے۔“

اُس خاتون نے جس زینبؑ کو مدینہ میں ایک ننھی بچی کے روپ میں دیکھا تھا، وہ آج پچپن برس کی ایک اسیر بہن کی صورت اُس کے سامنے کھڑی تھیں اور جس ننھے حسینؑ کو اُس نے سیدہ فاطمہؑ کے آنگن میں کھیلتے دیکھا تھا، اُن کا سر نیزے پر تھا۔

سیدہ زینبؑ کی شان میں محمد بلال کی یہ نظم پڑھی تو لگا جیسے اِسی لمحے کے لیے کہی گئی ہو:

جس زینبؑ نے بھائی کا سر نیزے پر دیکھا اور پھر بھی کہا کہ میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم اُسی زینبؑ کے نام لیوا ہو کر اپنی چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر شکوے کرتے ہیں۔ کاش ہم صبر کا یہ سبق زینبؑ سے سیکھ لیں۔

مجھ میں آگے لکھنے کی ہمت نہیں۔ کالم ختم ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے