الحمد اللّٰه مجھے اردو دنیا کی ایک بڑی ویب سائٹ آئ بی سی اردو پر کالم لکھتے ہوئے ایک سال ہوچکا ہے۔ یہ پہلی ویب سائٹ ہے جس میں، میں نے کالم لکھنے کی ابتدا کی۔اس سے پہلے میں اخبارات میں کالم لکھا کرتا تھا ۔ویب سائٹ میں کالم لکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے۔ویب سائٹ پر لکھنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ یہاں وہ باتیں بھی لکھ سکتے ہیں جو شاید اخبار میں شائع نہیں ہوسکتی ہیں۔ موجودہ دور ویب سائٹ کا ہی دور ہے۔
آئی بی سی اردو ملک کی بڑی ویب سائیٹ ہے۔جس میں پاکستان کے چوٹی کے کالم نگاروں کی تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے آئی۔ بی سی اردو میں کیسے لکھنا شروع کیا۔ ہمارے ایک فیس بک فرینڈ ہیں۔ جن کا نام قدرت اللّٰه خٹک ہے وہ پشاور میں رہتے ہیں۔ پروفیسر ہیں، دانشور ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کالم ہم سب ویب سائیٹ پر کیسے شائع ہوتے ہیں تو انہوں نے مجھے طریقہ کار بتایا۔ قدرت صاحب نے یہ بھی کہا کہ آئی بی سی اردو پر ان کا ایک شاگرد ہے۔
آپ کہیں تو میں اس سے بات کرتا ہوں۔ وہاں بھی کالم شائع ہوسکتا ہے۔ میں نے ایک کالم قدرت صاحب کو واٹس ایپ کردیا اور مجھے یاد ہے کہ اسی شام کو میرا کالم شائع بھی ہوگیا۔ میں بہت خوش ہوا اور میں نے قدرت صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
چند دن بعد ایک اور کالم میں نے ان کو بھیجا۔ جو ایک دو دن تک شائع نہیں ہوا۔ میں نے قدرت صاحب سے پوچھا تو انھوں نے ایک نمبر دیا میں نے رابطہ کیا تو وہاں سے کچھ سوال جواب ہوئے ایک تصویر مانگی گئی اور میرا نام آئی بی سی اردو کے کالم نگاروں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ جن کو میں صاحب سمجھ رہا تھا وہ صاحبہ ہیں۔ ان کا نام رابعہ سید ہے اور وہ آئی بی سی اردو کی کرتا دھرتا ہیں یعنی ٹیم میں شامل ہیں خود بھی بہترین کالم لکھتی ہیں۔
سستی اور کاہلی کے باوجود میرے کالم آئی بی سی اردو میں چھپتے رہے اور الحمدللہ اب بھی شائع ہو رہے ہیں۔ بعض کالموں کو رابعہ سید صاحبہ نے بہت پسند کیا اور میری حوصلہ افزائی کی جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔
الحمد اللّٰه میرے پچھلے کالم وشواناتھ نانا پاٹیکر کو آئی بی سی اردو کے فیس بک پیج پر بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔ چاہنے والوں نے کالم کو خوب لائیک کیا۔
میں نے اس ایک سال کے دوران آئی بی سی اردو کی ویب سائیٹ کے لیے 38 کالم لکھے۔
آئی بی سی اردو کے لیے میں نے پہلا کالم مدیر انشاء معروف مزاحیہ شاعر صفدر علی خان کے لیے لکھا تھا۔ دوسرا کالم راحت اندوری صاحب پر لکھا۔جس کا عنوان تھا "تم سا کوئی پیارا کوئی معصوم نہیں ہے”.
یہ دراصل راحت صاحب کا لکھا ہوا فلمی نغمہ تھا۔ راحت صاحب کے بیٹے ستلج اندوری نے بھی کالم کو پسند کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد کالم کو راحت صاحب کے پیج پر لگائیں گے۔ مگرانھوں نے وہ کالم ابھی تک اپنے پیج پر نہیں لگایا ہے خیر مجھے یاد ہے کہ اس کالم کو پڑھ کر انڈیا کے مشہور مزاحیہ شاعر پاپولر میرٹھی صاحب کا فون آیا۔ وہ کہنے لگے کہ کیا آپ کا تعلق اندور سے ہے۔ میں نے نہیں میں تو کراچی سے بات کررہا ہوں۔ اس کالم کے بہانے پاپولر صاحب جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت سے بات کرنے کا موقع ملا۔
اپنے دیگر کالموں کا ذکر بھی کرتا چلوں اس وقت فلم دھرندر نے دھوم مچائی ہوئی تھی اوراداکار اکشے کھنہ کا کم بیک ہوا تھا۔ انہوں نے دھرندر فلم میں رحمان ڈکیت کا کردار نبھایا تھا۔ جسے غیر معمولی پذیرائی ملی تھی۔اسی موضوع پر میں نے اپنا کالم "اکشے کھنہ عرف رحمان ڈکیت” لکھا تھا۔
جان ریمبو ہمارے ملک کے مانے ہوئے فنکار ہیں۔ کام کے سلسلے میں کراچی شفٹ ہوئے تو انھیں کراچی پسند نہیں آیا۔ اس پر میرا کالم "جان ریمبو کراچی میں” آئی بی سی اردو پر شائع ہوا ۔
بھارتی اداکار سنی دیول فلموں میں پاکستان کے خلاف ڈائیلاگ بولنے میں مشہور ہیں۔ اس پر میں نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا "ایک پاکستانی کا خط سنی دیول کے نام "اس ناول کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ فنکاروں کو سب پسند کرتے ہیں مگر جب وہ فنکار پڑوسی ملک کو برا بھلا کہتے ہیں تو آدمی ان سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ ایک اداکار کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسی کوئی فلم نہ کرے جس کی وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگیں۔
شبانہ اعظمی بہترین اداکارہ ہیں ان کے شوہر اور معروف ادبی شخصیت شاعر جاوید اختر صاحب نے ایک نظم لکھی ہے جس کا نام ہے "کتھئی آنکھوں والی اک لڑکی” میں نے اس موضوع پر کالم لکھ ڈالا ۔یہ بہت رومانٹک کالم ہے آپ ابھی آئی بی سی اردو کی ویب سائیٹ کھولیے اور کالم پڑھیے۔
بھارتی مزاحیہ اداکار راج پال یادو کو پیسوں کے لیں دین کے چکر میں جیل جانا پڑا اس پر کالم "راج پال یادو کی مدد کریں”شائع ہوا اس کالم میں بتایا گیا ہے کہ اداکار عیاشی کرتے ہیں سارا پیسا اڑا دیتے ہیں اور اسی وجہ سے بعد میں پچھتاتے بھی ہیں۔
کالم "ویل ڈن چھیپا صاحب” بھی آپ پڑھ سکتے ہیں ہلکا پھلکا مزاحیہ کالم ہے۔ جس میں چھیپا صاحب کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ کس طرح لوگوں کے کام آتے ہیں اور اب یوٹیوب چینل کھول کر اداکاری کے میدان میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔
ایک کالم جو عید پر لکھا تھا” درزی اور چاند رات” میں دکھایا گیا ہے کہ درزی جلد بازی میں کس طرح کپڑوں کا ببیڑا غرق کرتے ہیں۔
پڑوسی ملک کے معروف استاد سر خان نے جب پاکستان کے خلاف زہر اگلا تو میں نے فورا” ایک کالم لکھا جس میں خان سر کا دماغ درست کردیا ۔ کالم کا نام تھا "خان سر خان پگلا گئے ہو کیا”
میرے کالم "نیم حکیم خطرہ جاں” میں دکھایا گیا ہے کہ گلی محلے میں بیٹھے ہوئے ڈاکٹر کس طرح اندازے سے اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور مریضوں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
کراچی آرٹ کونسل میں تھیٹر کی استاد عظمی سبین نے اپنی کتاب سلطانہ کا خواب کی تقریب میں بلایا میں نے شرکت کی اور ایک کالم تیار ہوگیا۔کالم پڑھیے گا کالم میں معروف اداکار و موسیقار ارشد محمود صاحب کے دلچسپ قصے بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔
منٹو اور اداکار اشوک کمار دونوں میں گہری دوستی تھی۔اسی موضوع پر یہ کالم ضرور پڑھیے گا یہ کالم میرے دل کے بہت قریب۔ ہے اور میں نے بڑی محنت سے اسے لکھا ہے۔اس کالم کا نام ہے "منٹو کا دادامنی” .
عطاالحق قاسمی صاحب میرے سب سے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ ان سے دو مرتبہ ملنے کا موقع بھی مل چکا ہے۔ خواجہ اینڈ سن ان کا مشہور ڈرامہ ہے جو پی ٹی وی پر نشر ہوا کرتا تھا۔اس کالم کا نام بھی "خواجہ اینڈ سن” ہے پڑھیے گا مزا آئے گا۔
"پاگل خانے میں ایک تقریب” یہ وہ کالم ہے جو میں نے چند منٹوں میں ہی لکھ لیا تھا۔ یہ واقعہ میری یاداشت میں محفوظ تھا۔بس کاغذ پر لے آیا بلکہ نوٹ پیڈ پر لے آیا کاغذ کا دور تو اب ختم ہی ہونے والا ہے۔
اس کے علاوہ خان سر سے فیصل خان تک ،غالب کے آم ،چھوٹے شہروں کے مشاعرے،پرکاش راج تو ہیرو ہیں،ہاتھی اڑ سکتا ہے،حمایت علی شاعر،ہر گھر سے جینزی نکلے گا،قاری صاحب،عمران ہاشمی ایک طرف،مالنی شرما کا بڑھاپا،دو ٹکیاں دی نوکری،کوئی میر بھی تھا۔جنگ اخبار والی گلی،چاہت فتح علی خان،امریتا اور ساحر کی پریم کہانی،ہم اور ہمارا جوڈو کراٹے،یہ بائیکرز لڑکیاں، بھی آئی بی سی اردو کے لیے لکھے۔
میری کوشش ہوتی ہے کہ کچھ منفرد لکھوں یا ایسا لکھوں جسے پڑھ کر محسوس ہو کہ ہاں مزا آیا۔
دنیا میں بہت سے لوگ آپ کو ملتے ہیں مگر افسوس کہ اس بے وفا دنیا میں اچھے یا مخلص لوگوں کی تعداد بہت کم ہے مگر میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے قدرت اللّٰه خٹک صاحب جیسے فیس بک فرینڈ ملے جن کی وجہ سے میں نے ویب سائٹ پر لکھنا شروع کیا۔ محترمہ رابعہ سید کا بھی ممنون ہوں کہ انھوں اس ناچیز کے کالموں کو شائع کیا۔
بلاشبہ ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے جو لوگوں کے کام آتے ہیں اور ان کی دعائیں لیتے ہیں۔