27 جولائی 2017 کو پاکستان سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جس سے وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی کیساتھ ساتھ اپنی بقیہ زندگی کے لیے بھی سیاست سے نااہل ہوگئے ۔
میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد سے ان 10 دنوں میں پاکستانی سیاست کا پارہ کافی گرم رہا۔
تحریک انصاف کا اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں بھرپور اپنی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوم تشکر منانا اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا میاں نوازشریف کے پیار میں کہہ لیں یا نوکری بچاؤ کے لیے بیان اور پھر دوبارہ سے اسکی اسطلاح اور اس درمیان پاکستان بھر سے سیاسی صحافتی، سول سوسائٹی طلبہ سب کی جا نب سے آزاد کشمیر کے ہر ایک شخص، سیاستدان ہو یا عام سبھی کو شک کی نظر سے دیکھنا اور بھارتی میڈیا کا وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر کے بیان پر ایسے تجزیات کرنا کے جیسے شاید بھارت سے الحاق ہی ہوگیا اور پھر آزاد کشمیر میں اپوزیشن جماعتوں کا فاروق حیدر کیخلاف احتجاج اور استعفیٰ کا مطالبہ کرنا، پاکستان کے نئے وزیراعظم کا انتخاب اور نئی کابینہ کا انتخاب اور پھر ایک ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کا عمران خان پر حراساں کرنے کا الزامات، اور تحریک انصاف کے ترازو میں بیٹھی عائشہ احد کا حمزہ شہباز پر شادی کا الزام اور شیخ رشید کی لال حویلی پر مسلم لیگ ن کا گہراؤ سابق وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف کا پنجاب کا دورہ کرنے کا اعلان ۔ نئے وزیراعظم کا منتخب ہونا اور کابینہ کی تشکیل کچھ نئے لوگوں کا کابینہ میں نئی وزاتیں دے کر پرانے چہروں کیساتھ دعوے کرنا۔
اس سیاسی پارہ کے اوپر جانے میں کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے اپنے حصہ کا بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو کر اپنے زبان سے دوسری مخالف جماعت پر وار نہ کیا ہو۔
لیکن اس تمام وقت میں ایک ایسی صورت حال جو میں نے محسوس کی وہ امن و امان وہ بھی لائن آف کنٹرول پر جہاں پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ کے دوران جینا محال بنا ہوا تھا۔ کئی خاندان اپنا، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہجرت کر گئے ۔کئی معصوم جانیں گئیں ۔ اسکے بارے میں سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔وہ یہ کے پچھلے ایک سال کے دوران لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا سلسلہ جس پر میاں نوازشریف صاحب کبھی بھی لب کشائی نہیں کی وہ ان 10 دنوں میں بالکل رکا ہوا ہے ۔بھارتی فوج کے توپ خانے خاموشی ساد کیے ہوئے ہیں ۔یہ پچھلے ایک سال میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کی دوسرا ہفتہ پر امن طور پر جا رہا ہے،
بھارتی میڈیا کا وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کو پاکستان کی پاسبان پاک فوج کو زمہ دار قرار دینے کی ناکام کوششوں میں سرگرم عمل ہے ۔اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اپنا غصہ نکال رہی ہے ۔
ان تمام واقعات میں ہمیں کیا پیغام مل رہا ہے اس کی طرف ہمیں توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کوئی عام سی بات نہیں پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ میں جتنا بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کیساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے لائن آف کنٹرول کے ملحقہ علاقوں میں جو تباہی مچائی رکھی ہے اسکی کوئی مثال نہیں اور اب جب کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فوج کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ اس تمام صورت حال کو ہم کیا کہیں کیا بھارتی فوج پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی پالیسیز کو جانتے تھے وہ کبھی بھی کشمیر النسل ہونے کے باوجود لائن آف کنٹرول پر بسنے والے باسیوں کے حق میں لب کشائی نہیں کریں گےیا مودی جندال دوستی کے ناطے کبھی نہیں بولیں گے تو جو چاہو اس دوران کرو اپنا اصلہ استعمال کرو وہ بھی معصوم کشمیر یوں پر یہ بات سچ ہے کہ جتنا میاں نوازشریف کی حکومت میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوئی نقصانات ہوئے اس سے پہلے اتنی تباہی کبھی نہیں ہوئی ۔
اس صورتحال میں ہمیں کیا سوچنا ہوگا ہماری اگلی پلاننگ ہوں گی اس تمام میں جو بھی ہو خدارا چین کی طرح بھارت کو لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کرنے پر منہ توڑ جواب دو ایسا جواب کے آئندہ ایسا سوچنے پر بھی سوچے اور سوچے تاکہ اس پار نہ سہی اس پار تو کشمیری سکون سے پاکستانی پرچم کے نیچے بلاا خوف رہ سکیں.