کیا ڈکٹیٹر کو سزا ملے گی؟
کوئی عدالت ڈکٹیٹر کو سزا دےگی؟ یہ سوال سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اٹھایا ہے جنہیں چند دن قبل سپریم کورٹ نے نااہل قرار
کوئی عدالت ڈکٹیٹر کو سزا دےگی؟ یہ سوال سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اٹھایا ہے جنہیں چند دن قبل سپریم کورٹ نے نااہل قرار
روزنامہ نوائے وقت لاہور 24تا 26دسمبر 2012- ڈاکٹر صفدر محمود کا تین اقساط میں مضمون ”قائداعظمؒ اور مولانا اشرف علی تھانوی“ شائع ہوا۔ جس میں
27 جولائی 2017 کو پاکستان سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جس سے وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی کیساتھ ساتھ
وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کا زمانہ تھا، موصوف نے آزاد کشمیر میں عدم اعتماد کرا کے مسلم کانفرنس کی حکومت کو ختم کرادیا، اس
میری پیدائش رحیم یار خان کے جس گھر میں تقسیم کے 15 برس بعد ہوئی وہ میری دادی فرام پٹیالہ کو 14 برس پہلے الاٹ
27 دسمبر 2007 کی شام میں اور کیمرا مین سلمان قاضی لیاقت باغ راولپنڈی میں میڈیا کیلئے مخصوص اس ٹرک پر کھڑے، شہید محترمہ بے
اسلام ہمارا دین ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے اپنے ماننے والوں کی کامل رہنمائی کرتا ہے۔ کیا اسلام نے سیاسی اعتبار
سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنا ایوان خالی کر دیا، دراز قد اور صاف گو شاہد
عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے پاس دو راستے بچتے تھے۔ پہلا راستہ سیدھا اور آسان تھا۔ نواز شریف چپ کر کے گھر کی
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستانی سیاست میں اس قدر بیہودہ الزامات سننے کو ملیں گے۔ گو کہ ہمارے گاؤں دیہات میں
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے