تحفظ نسواں بل اورمذہبی بیانیہ
تحفظ نسواں بل کا نفاذ پنجاب حکومت نے روک دیا. غالبا مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے دباو نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر
تحفظ نسواں بل کا نفاذ پنجاب حکومت نے روک دیا. غالبا مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے دباو نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر
تم جیش ہو، سپاہ ہو، لشکر ہو، حزب ہو، احرار ہو، طالبان ہو اور یا ان سب کی ماں القاعدہ ہو۔ تم جو بھی ہو،
‘عورت مظلوم ہے’ بیشک ایشیائی خطے کا ایک عام سا تاثر یہی ہے. پاکستان میں کئی ایک اینجوز کے وجود میں آنے کی وجہ یہی
گذشتہ پیر کو مقامی ہوٹل میں پاکستان عربک لینگویج بورڈ کے زیر انتظام ‘‘جدید صحافت اور ہماری ذمہ داریاں ’’کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ
ان دنوں گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کا تعین کیلئے مختلف حوالوں سے بحث و مباحثہ جاری ہے اس بحث سے تو بعض اوقات یہ
1۔کیا میڈیا موضوعات کے انتخاب میں آزاد ہے ؟یا کارپوریٹ میڈیا ان دیکھی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے کہ ایساا کچھ نہیں کرنا جس سے
اُس کے لہجے میں زہر بھرا تھا ، زبان الفاظ نہیں آگ اگل رہی تھی ، طوائف کا یہ انداز میں نے پہلی بار دیکھا
تیرہویں صدی کے وسط میں بنو عباس کا آخری خلیفہ مستعصم باللہ بغداد میں حکمران تھا ، جب ہلاکو کی زیر قیادت منگولوں (تاتاریوں) نے
لبرلزم کے جھوٹے لبادے کو جتنا مسئلہ فلسطین نے تار تار کیا ہے شاید ہی کہیں کیا ہو. آج دل کر رہا ہے کہ ہاتھ
ہمارے ملک میں لبرل اور مزہبی اکثر برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ یہ لبرل ازم ،مزہب اور مزہبیت ہے کیا؟ دنیا کی پہلی اسلامی ریاست مدینہ
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے