اس کے بعد کیا ہوتا ہے ،وہ جانیں یا عدالت
ہمارے چند معصوم صفت نوجوان ہیں۔ ان کی سادگی میں پرکاری کی ملاوٹ نہیں۔ تغافل میں اگرچہ جرا¿ت آزما ضرور نظر آتے ہیں۔ پشاور کے
ہمارے چند معصوم صفت نوجوان ہیں۔ ان کی سادگی میں پرکاری کی ملاوٹ نہیں۔ تغافل میں اگرچہ جرا¿ت آزما ضرور نظر آتے ہیں۔ پشاور کے
محترم صحافی نے درست نشان دہی کی ۔ انہوں نے اپنے جس کالم کا حوالہ دیا تھا اس کا عنوان پڑھنے میں سہو نظر ہوا۔
وقت نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت کاروبارنہیں کرسکتی اور پاکستان میں تو بالکل نہیں کرسکتی ۔ کوئی احمق ہی ہوگا کہ جو پی آئی
اِس میں کیا گفتگو کہ اگر تربیت یافتہ اور نظریاتی افراد کی کمیابی ہو تو بغاوتیں کامرانی کا سبب بننے کی بجائے ناکام ٹہرائی جاتی
ابھی تو ادبی حلقوں کی فضا جدید شاعری میں خوبصورت لہجے کی شاعری کے ساتھ شہرت پانے والی نسرین انجم بھٹی کی وفات سے سوگواراور
سیکولر ازم کو ہمیشہ سے پاکستانی مسلم معاشرے کے لئے نہ صرف غیر ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ کفر کے مترادف بھی سمجھا جاتا
پرسوں جب پی آئی اے کہ دو ملازمین شہید کیے گئے تو موقع پر موجود گواہوں نے الزام لگایا کہ ان مظاہرین کو رینجرز نے
زکا وائرس اڈیس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہے جس کے باعث ڈینگی بخار اور زرد بخار پھیلتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے
یاران نکتہ دان کا خیال ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف بڑے پکے اور ٹھیٹھ ” کاروباری ” ہیں۔ ان کے کانوں کو ”
نجکاری کے خلاف پُرامن مظاہرین کے قتل کا کوئی جواز نہیں بنتا- کارل مارکس نے کہا تھا: ’’سرمایہ داری کے بحران کا سب سے پہلا
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے