شانگلہ کا سماجی ہیرو جس نے یتیموں، بیواؤں اور خواتین کو خود مختار بنانے میں اہم کردار ادا کیا
خالد خان کا تعلق خیبر پختون خواہ کے ایک پسماندہ ضلع شانگلہ سے ہے۔ آپ نے سن 1996 میں پشاور یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر
خالد خان کا تعلق خیبر پختون خواہ کے ایک پسماندہ ضلع شانگلہ سے ہے۔ آپ نے سن 1996 میں پشاور یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر
ملک کے دیگر شہروں میں آپ کو ٹرانسجینڈرز کمیونٹی کے افراد سڑک پر بھیک مانگتے یا پھر تقریبات میں رقص کرتے دکھائی دیئے ہوں گے،
اشرافیہ اور ان کی اجارہ داری آج کل ایک بکنے والا مدعا بن گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ الیٹ کپچر کا ذکر کرنے والوں
دنیا سمجھتی ہے صحافی لوگ بہت امیر ہوتے ہیں، یہ لوگ صرف بڑے بڑے اینکرز کو صحافی سمجھتے ہیں۔ اور ظاہر ہے وہ سب کے
زیابیطس کیا ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے, کیا یہ واقعی خاموش موت ہے, سمیرہ کہتی ہیں کہ جب وہ میٹرک کی طالب علم تھیں
وہ گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقے اور ہمالیہ و قراقرم کے بلند پہاڑی سلسلے میں دریائے سندھ کے کنارے آباد لائن آف کنٹرول کے
کنوینشنل فائنانشل سسٹم کے پاس سوائے قرضہ دینے کے کوئی دوسرا ٹول یا پروڈکٹ نہیں ہوتا، اگرچہ وہ اس کا نام بدل کر کبھی ہاؤس
کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی میں تعلیم اور نوجوان طلبہ کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ معیاری تعلیم قوموں کی ترقی اور غیر
خودکشی اور خودکشی کی کوششوں کے اہم جذباتی، جسمانی اور مالی اثرات ہیں۔ خود کشی کی کوشش ان کی زندگی پر دیر پا اثر انداز
پاکستان کہنے کو تو صنفی برابری کی عالمی رینکنگ میں دنیا کے 146 ممالک میں 142 ویں نمبر پر یعنی دردناک حد تک نچلے درجے
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے