2 ماہ برف کی قبر میں رہنے والوں کی کہانی

منفی 30 ڈگری میں زندگی کی جنگ

کچھ لوگوں کیلئے وہ ایک قصہ ایک کہانی تھی لیکن کچھ کیلئے ایک معجزہ یا چمتکار تھا کیونکہ جب آپ کے پاس نہ کپڑے ہو اور نہ کھانے کیلئے کوئی سامان موت سامنے ہو سردی منفی 30 سے زیادہ ہو اور اس میں زندہ رہنا ہو کیسے زندہ بچے 16 لوگ؟

یوراگوئے رگبی کی ایک ٹٰیم جس میں کئی عمدہ کھلاڑی تھے لیکن وہ سارے اپنی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے اور تقریبا اپنی تعلیم مکمل ہونے کے قریب ہی تھے، سب جوان اور جوشیلے تھے کچھ جگہوں پر کہا گیا ہے کہ ان کھلاڑیوں نے سینٹیاگو میں جو میچ ہونا تھا اس کے لیئے خود ہی ٹکٹ کے پیسے جمع کیے، تمام کھلاڑی ان کے کچھ فیملی ممبرز ائیرپورٹ پر ملے، تصاویر لیں اور جہاز میں بیٹھ گئے .یہ ایک چارٹڈ فلائٹ تھی جوکہ یوراگوئے سے سنٹٰیاگو جا رہی تھی، جہاز میں ہر کوئی خوش تھا لیکن اچانک جہاز کو ایک جھٹکا لگتا ہے، جس سے سب ڈر جاتے ہیں،اسی دوران ان کا ایک ساتھی کہتا ہے کہ یہ وہ پہاڑٰی سلسلہ ہے جہاں سے جب بھی کوئی جہاز گزرتا ہے. یہ پہاڑ ان کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ان پہاڑوں پر گزرنے کا ایک ہی طریقہ ہے، ان پہاڑوں کو کبھی سیدھا نہیں کراس کیا جاتا اس کیلئے پائیلٹ ہمیشہ یو ٹرن کی طرح گھوم کر اس پہاڑ کو کراس کرتے ہیں۔

جہاز میں ٹوٹل 45 لوگ سوار تھے ،جن میں 5 جہاز کا سٹاف اور 40 ٹیم اور ان کے فیملی ممبرز تھ،ے تمام لوگ آپس میں مہو گفتگو تھے کہ اچانک جہاز کسی چٹان سے ٹکرا جاتا اور نیچے کی جانب جانے لگا اور اچانک جہاز کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ہی دیر بعد جب ان کی آںکھ کھلتی ہے تو ان میں سے چند مسافر زندہ بچ گئے تھے، جن میں چند زخمی تھے۔ ان ہی کھلاڑیوں میں کچھ میڈیکل کے سٹوڈڈنٹ بھی تھے، جن میں سے ایک روبرٹو تھا ،جس نے کچھ زخمیوں کا علاج شروع کیا،اسی دوران انہیں معلوم ہوا کہ پائلٹ بھی زخمی ہے ،جسے وہ بچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ بچ نہ سکا۔

پہلی رات

جب رات ہوئی تو ان پر نئی مصیبت نے حملہ کیا کیوں کہ درجہ حرات منفی 30 ڈگری سے بھی گر گیا، جہاز کریش کرنے سے تو ان مسافروں کی جان بچ گئی تھی لیکن اس سردی سے نہ بچ سکتے، یہ سب مسافر جہاز کے اگلے حصے میں تھے، سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئے تاکہ گرم رہ سکیں اور ایک دوسرے کو جگانے کی کوشش بھی کرتے رہے، رونے اور چیخوں پکار کے بعد ان کی پہلی رات تو گزر گئی اور جب آںکھ کھلی تو دور دور تک برف کے پہاڑ نہ کوئی پرندہ نہ انسان نہ پانی نہ کھانا۔

پہلا دن

دن میں انہیں معلوم ہوا کہ کون سے ساتھی جہاز کے ٹکڑے ہونے کے بعد ان سے بچھڑ گئے تھے اور کون ابھی ان کے ساتھ تھا ،سب سے پہلے انہوں نے زخمیوں کو دھوپ میں نکالا اور جہاز میں جو بیگ تھے، ان میں موجود کھانے پینے کا سامان تلاش کرنا شروع کیا اور جو کھانے پینے کا سامان ملا اسے ایک بیگ میں جمع کر دیا اور تھوڑا تھوڑا، اس میں کھا لیا تمام لاشوں کو ایک سائڈ پر برف میں رکھ دیا۔

دوسرا دن

14 اکتوبر 1972 دوسرے دن انہوں نے اپنے آپ کو ٹھنڈ سے بچانے کیلئے جہاز کے ٹکڑے کا آدھا حصہ کپڑوں سے بند کرنا شروع کر دیا، ان میں موجود مارسیلو جو کہ ان کا رگبی کا کپتان تھا ،کافی پر امید تھا کہ ان کیلئے مدد آئے گی اور وہ اپنے مزید ساتھیوں کو بھی حوصلہ دیتا رہا۔

تیسرا دن

ان کا ساتھی ناندو کافی زخمی تھا، جب وہ ہوش میں آیا تو پہلے اپنی بہن سوسی کے بارے میں پوچھاجو کہ شدید زخمی تھی، اسی حادثے میں ناندو نے اپنی والدہ کو بھی کھو دیا تھا ،جب اسے پتہ چلا کہ تین دنوں سے وہ یہاں پر ہیں تو اس کو اپنے زندہ رہنے کی امیدیں کم نظر آنے لگی۔ دن میں ان کو دور سے جہاز نظر آیا،سب نے بہت خوشی منائی لیکن ان کو ڈھونڈںے کیلئے آںے والا جہاز ان کو نہ دیکھ پایا۔ سب پورا دن یہ باتیں کرتے رہے کہ میں واپس جا کر کیا کھاؤں‌ گا اور کیا کروں گا۔

دن گزرتے گئے

دن گزرتے گئے وہ سب ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے رہے کہ ریسکیو ٹیم ان کی مدد کو ضرور آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ہوا کے بغیر 3 منٹ زندہ رہ سکتا ہے، پانی پیئے بغیر 3 دن اور کھانے کے بغیر 3 ہفتے زندہ رہ سکتا ہے لیکن پہاڑوں میں اونچائی اور برف پر انسان کی کیلوریز زیادہ لگ رہی ہوتی ہیں۔

ریڈیو کو آن کرنے کی تیاری

اچانک ان کی توجہ جہاز کی بیٹریز کی طرف گئی لیکن بیٹریز بھی جہاز کے پچھلے حصے میں تھیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جہاز کے دوسرے حصے سے بیٹری نکالنے کیلئے اس طرف جائیں جہاں جہاز ٹکرایا تھا۔ 4 لوگ تیاری کر کے جہاز کے دوسرے حصے کی طرف روانہ ہوئے تھے، جن میں ڈوما اور فیتو کو تھوڑا اوپر جا کر لگا کہ اگر جہاز ہمارے اوپر سے بھی گزر جائے تو وہ ان کو نہیں دیکھ پائے گا.

چھ دن گزرنے کے بعد/ مردے کھانے کا ارادہ

اب ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں بچا تھا ،بھوک سے سب کا برا حال تھا، زندہ بھی رہنا تھا اور ان میں سے کچھ لوگوں نے مردہ لوگوں کو کھانے کا ارادہ کیا ،روبرٹو اپنے کپتان مارسیلو کا مردہ کھانے کی پیشکش کرتا رہا لیکن وہ نہیں مانا ،جس میں ان کے درمیان کافی بحث ہوئی لیکن کچھ مسافر ان مردوں کو کاٹ کر کھانے لگے لیکن بہت سے مسافروں نے مردے کھانے سے انکار کیا۔

آٹھ دن بعد کوکو نیچولیچ کا والدین کے نام خط

آٹھ دن بعد ایک مسافر کھلاڑی کوکو نیچولیچ نے اپنے والدین کے نام خط لکھا "میرے پیارے والد اور والدہ میں جہاز کریش ہونے کے آٹھ دن بعد آپ کو خط لکھ رہا ہوں، ہم ایک بہت خوبصورت جگہ پر ہیں ،ہمارے چاروں طرف پہاڑ ہیں، پاس ہی ایک جھیل بھی ہے لیکن موسم بدلنے تک اس پر برف جمی رہے گی، ہم سب ٹھیک ہیں اور ہم 27 لوگ یہاں ہیں، جو بچ گئے ہیں۔ آج ناندو کی بہن نے بھی اپنی آخری سانسیں لیں، مجھے آپ دونوں کی بہت یاد آرہی ہے اور میں اوپر والے سے صرف یہ مانگتا ہوں کہ وہ چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے مگر بس ایک آخری بار آپ دونوں سے ملنے کا موقع دے دے….

نواں دن / جسم کھانا

21 اکتوبر ان مسافروں کا نواں دن تھا. جہاز کے ٹکڑے میں موجود ایک مسافر اچانک کہتا ہے کہ جب میں مر گیا تو میں اپنا جسم تم سب کو کھانے کی اجازت دیتا ہو ں تو اس کے بعد بہت سے مسافر یہی جملہ دوہراتے ہوئے اپنا جسم کھانے کی اجازت دینے لگے، تب تک زندہ رہنے کیلئے چند مسافروں نے مردہ لوگوں کے جسم کو کھانا شروع کر دیا تھا.

ریڈیو مل گیا/ امیدیں ختم

جو لوگ ان مردہ لوگوں کے جسم نہیں کھا رہے تھے وہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ان کیلئے مدد آئے گی۔ ان کو ایک بیگ سے ریڈیو ملا جو کہ جہاز کے ٹکڑے کے چند ہی فاصلے پر پڑا ہوا تھا ،جب انہوں نے ریڈیو چلایا تو سب کی امیدیں ختم ہو گئیں کیونکہ ریڈیو پر خبر چل رہی تھی کہ "اولڈ کرسچن نام کے رگبی کھلاڑیوں کا جہاز جو کہ کریش ہو گیا تھا، مسافروں اور جہاز کے ٹکڑوں کو ڈھونڈنے کیلئے 66 ریسکیو آپریشن، جس میں 17 چلی کے ائیرفورس کے جہازوں سمیت یوروگروائے اور ارجنٹائن ائیرفورس جہازوں نے کوشش کی لیکن وہ نہیں ملے، جس کے باعث آپریشن بند کر کے اگلے سال سے دوبارہ جہاز کے ٹکڑوں کو ڈھونڈنے کا کام شروع کیا جائے گا”۔

چلی ائیرفورس

چلی ائیر فورس ریسکیو سروس کے مطابق اب تک اینڈس کی پہاڑیوں میں 34 جہاز کریش ہوئے ہیں، جن میں اب تک کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔

ریڈیو کی خبر

ریڈیو کی خبر کے بعد کپتان سمیت تمام مسافروں کی امیدیں دم توڑ گئیں اور کپتان مارسیلو نے بھی سب کو مردہ لوگوں کو کھانے کا کہہ دیا۔ مسافروں نے جہاز کا دوسرا پارٹ ڈھونڈنے کیلئے ایک بار پھر کوشش شروع کی تاکہ جہاز کا ریڈیو چلایا جا سکے ،راستے میں انہیں اپنے ساتھی گوڈیو ماگری 23 سال جوان اور ڈینل فرو کی باڈٰی ملی اور جہاز کا کچھ حصہ بھی۔

دوسرا حصہ ڈھونڈنے کیلئے نوما، گوسٹاوہ اور ماسپونس برف باری میں پھنس گئے اور رات کے اندھیرے نے انھیں جھکڑ لیا .انہوں نے رات پہاڑ کے ایک پتھر کے نیچے برف میں گزاری، جب ان کی آنکھ کھلی تو وہ پتھر کی طرح سخت ہوئے تھے لیکن وہ زندہ بچ گئے اور جہاز کے ٹکڑے پر بیٹھ کر کسی طریقے سے نیچے تو اتر آئے لیکن وہ اب ٹھیک نہیں تھے ،وہ بہت بیمار ہو چکے تھے۔ نوما نے اس دن پہلی مرتبہ انسانی جسم کھایا تاکہ زندہ رہ سکے۔

ناندو نے امید جگائی

ناندو ہر روز واک کی ٹریننگ کرنے لگا کیونکہ ناندو کو یقین تھا کہ ان پہاڑوں کے پیچھے چلی کی وادیاں ہیں، جہاں سے ان کو مدد مل سکتی ہے۔

17 ہواں دن / برف باری / طوفان/ کپتان کی موت/ جنم دن

کہتے ہیں ‘آسمان سے گڑا کھجور میں اٹکا’ سترویں رات طوفان نے ان پر حملہ کر دیا ،برف کا ایک تودہ ان پر آگرا، اور ان کے جہاز کے ٹکڑے میں داخل ہو گیا ،سب لوگ برف کے نیچے پھنس گئے ،سب لوگ اپنے ساتھیوں کو برف سے نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب وہ ایک دوسرے کی مدد ہی کر رہے تھے تو دوسرا تودہ ان پر آگرا ،اب وہ سب برف کے نیچے تھے اور دوسرے کو نام پکار کر اپنا زندہ ہونے کا بتا رہے تھے لیکن اس دوران للیانا نوویرو( 34 سال)، ڈیوگو سٹورم (20 سال)، اینریق پلاٹٰرو (22 سال)، گوسٹاوو کوکو( 20 سال)، ڈینیل نیسپونس (20 سال)، جوآن کارلوس (22 سال) اور کالوس روکی(24 سال) زندہ نہ بچ سکے ۔

اس برفانی تودے نے ٹیم کے کپتان مارسیلو( 25 سال )کو اپنے نیچے دبا دیا اور وہ بھی 17 دن زندہ رہنے کی کوشش کے زندہ نہ رہ سکا۔یہ 30 اکتوبر کی رات تھی ،جس دن نوما کی پیدا ہوا تھا اور اس دن وہ 25 سال کا ہو چکا تھا لیکن اس وقت وہ برف کے نیچے دبا ہوا تھا اور ان کو نہیں تھا معلوم کہ ان کے اوپر کتنی برف پڑی ہے۔

18 ہواں دن

ابھی تک ان کو روبرٹو ان کو مردے کاٹ کے دیتا اور وہ کھاتے لیکن ان کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کس کے جسم کا حصہ کھا رہے ہیں ،برف میں پھنسے ہونے کے بعد ان کی بھوک حد سے بھڑنے لگی اور وہ جہاز میں موجود اپنے ساتھیوں کا جسم کھانے لگے.

20ہواں دن

نوما نے برف سے باہر نکلنے کی کوشش میں جہاز کے شیشے کو توڑنے کی کوشش کی، جس دوران وہ زخمی ہونے کے بعد سب کو باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن یہ صرف برف کے تودے سے نکلے نہ کہ ان پہاڑیوں سے جہاں وہ پھنسے ہوئے تھے لیکن اس تودے سے نکلنا بھی ان کیلئے کسی جنت سے کم نہ تھا۔ چند گھنٹوں بعد جب انہیں دوبارہ یاد آیا کہ ہم کہا پھنسے ہیں تو ان کی حالت دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی۔ سب لوگ اپنے جہاز کے ٹکڑے سے برف ہٹانے میں مصروف ہو گئے۔

2 ہفتے تیاری/ 34 ہواں دن

ناندو نے ان پہاڑوں کو پار کرنے کیلئے تیاریاں شروع کر دی کیونکہ ان کو نہیں تھا معلوم کہ انہوں نے کتنا دور جانا ہے اور کتنا چلنا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ برف پگھلنا شروع ہو گئی، ان کی تیاریاں بھی جاری رہیں، جس دوران ان کا ایک اور ساتھی آرٹورو نوگی یارا( 21 سال ) بھی دم توڑ گیا۔

36 ہواں دن/ پہاڑوں سے پاڑ زندگی کا سفر

چار مسافر تیاری کے ساتھ زمینی راستہ یا اپنے لیے کوئی مدد ڈھونڈنے کیلئے نکل پڑے، انہوں نے گرم کپڑے اور کچھ سامان اپنے پاس رکھ لیا لیکن اس دوران نوما جو کہ زخمی ہوا تھا، اسے انفیکشن ہو چکا تھا جو کہ واپس چلا گیا ،باقی تین ساتھی آگے کی جانب روانہ ہوئے۔ اس دوران پیچھے ان کا ساتھی رافیل (22 سال بھی دم توڑ گیا) لیکن ان کو جب پہاڑ کی دوسری جانب جہاز کو دوسرا ٹکڑا ملا تو وہ جہاز سے کھانے کا سامان اور کپڑے لیکر ساتھیوں کیلئے واپس آگئے اور جو ریڈیو ان کے پاس تھا ،ان بیٹریوں کی مدد سے جہاز کا ریڈیو ٹھیک کرنے کی کوشش کیلئے دوبارہ بیٹریوں کے پاس گئے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

کھانا ختم / ہڈیوں کے چمرے

اس دوران ان کے پاس کھانے کا سامان بھی ختم ہو گیا اور وہ ہڈیوں کے ساتھ جو تھڑا بہت ماس لگا ہوتا اسے کھا کے زندہ رہنے کی کوشش کرنے لگے.

جہاز واٹر پروف بیگ/ ریڈیو سے نئی خبر مل گئی

جہاز کے دوسرے پارٹ سے انہیں واٹر پروف بیگ ملے، جسے انہوں نے جیکٹس بنانا شروع کی تاکہ وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کریں، اسی دوران انہیں ریڈیو پر خبر بھی ملی کہ ان کی تلاش دوبارہ شروع کی جا رہی ہے، اب موسم بھی تھوڑا گرم ہو چکا تھا ،برف بھی پگھلنا شروع ہو چکی تھی۔ اس دوران نوما بھی زندہ نہ رہ سکا اور نیند میں ہی چل بسا۔

کامیابی کا سفر

تین دوست آخر کار مکمل تیاری کے ساتھ چلی کی زمین ڈھونڈنے کیلئے برفیلے پہاڑوں پر چل پڑے ،جس دوران انہوں نے کئی برفیلے پہاڑ پاڑرکیے، کئی مشکل ترین پہاڑوں پر راتیں گزاریں، ناندو اور روبرٹو نے اپنا آگے کا سفر جاری رکھا لیکن ایک ساتھی کھانا کم ہونے کی وجہ سے واپس چل پڑا کیونکہ ان کے پاس کھانا صرف چند دن کا رہ گیا تھا ۔

کچھ روز سفر کے بعد آخر کار انہیں ایک ندی نظر آئی جیسے ان کو نئی زندگی مل گئی ہو، اسی ندی کے کنارے گھوڑے پر ایک شخص نظر آیا ، جس نے ان کا میسج آگے تک پہنچایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان تک لوگ پہنچنا شروع ہو گئے اور وہ دن تھا 22 دسمبر 1972 کا ،جس کے بعد ان کی مدد کیلئے ٹیمیں پہنچیں اور ان کے ساتھیوں کو بھی بچا لیا۔

شدید برفانی طوفان، بھوک، کمزوری اور بیماریوں کے باعث 29 لوگوں میں سے صرف 16 لوگ زندہ بچے جبکہ 13 لوگ حادثے کے بعد ہلاک ہوئے۔

یہ 16 لوگ آج بھی دنیا بھر میں بہت مشہور ہیں۔ دنیا بھر میں اس واقع کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بقاء کی کہانی کہا جاتا ہے۔

Alivکے نام پر 1993 میں اس پر فلم بھی بنائی گئی تھی ، نیٹ فلکس نے بھی اس پر فلم بنائی ہے جبکہ ایک کتاب ‘ برف کے قیدی’ بھی اس پر لکھی جا چکی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے