ہر تخلیق کی بنیاد ایک تصور ہوتا ہے. یہ تصور پہلے پہل تخلیق کار کے ذہن میں جنم لیتا ہے اور پھر کسی نا کسی ظاہری شکل میں نمودار ہو کر تخلیقی شاہکار کہلاتا ہے . یہ تصور رنگوں کی صورت ظہور پذیر ہو تو مصوری کہلاتا ہے، سُر اور تال کی صورت میں نمودار ہو تو موسیقی کہلاتا ہے، لفظوں کی صورت میں قرطاس پر بکھرے تو ادب کہلاتا ہے.
ہر تصور اپنی نمود کے لئے بے تاب ہوتا ہے، ہر حقیقت لباس مجاز میں آنے کے لئے پیکر اضطراب ہوتی ہے. ہر نقش اپنے ابھرنے کے لئے پیچ و تاب کھاتا ہے ،ہر جلوہ اپنے نکھرنے کے لئے برق در آغوش ہوتا ہے، ہر سبز پوش سر بام آنے کے لئے سیماب پا ہوتا ہے یعنی ہر قوت خاموش ذوق نمود و لذت تخلیق سے عمل بیدار بننے کے ہمہ تن شوق ہوتی ہے.
یہی بے تابی اور اضطراب، تخلیق کار کو اپنے فن کا جادو جگانے پر اُکساتا ہے اور اُس کے نتیجے میں شاہکار وجود میں آتے ہیں. جب کوئی بھی تصور، کسی خاص تخلیق کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو تخلیق کار سکون محسوس کرتا ہے. کیونکہ تصور کا وہ بوجھ جو اس کے ذہن پر سوار تھا، اُسے اُس نے ایک متعین شکل دے کر، ذہن کی قید سے آزاد کر دیا ہے. اس کے بعد تخلیق کار کے دل میں یہ خواہش جنم لیتی ہے، کہ کوئی تو ہو جو میری تخلیق کی داد ،دے. کوئی تو ہو جو میرے فن کو سرا، دے، کوئی تو ہو جو میرے اس فن پارے کی قدر کرے. اگر ایسا نہ ہو سکے تو تخلیق کار کو اپنا ہر شاہکار بے کیف، بے رنگ، بے سوز، بے نور اور بےکار لگنے لگتا ہے. پھر تخلیق کار داد سمیٹنے کے مختلف حربے اختیار کرتا ہے. لوگوں کی توجہ اپنی تخلیق اپنے فن کی جانب کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور بعض انتہائی دلچسپ حربے اختیار کرتا ہے. مثلاً
خالد مسعود مزاحیہ شاعر اور کالم نگار ہیں. ایک مرتبہ بیوروکریٹس کے ہاں مشاعرہ پڑھنے گئے،دیگر مزاحیہ شعراء بھی موجود تھے. خالد مسعود کہتے ہیں کہ مجھ سے پہلے جو شعراء اپنی شاعری پڑھ رہے تھے، شرکاء کوئی خاص توجہ اور داد نہیں دے رہے تھے. وہ ایسے ہی اکڑ کر بیٹھے تھے جیسے اپنے دفتر میں بیٹھتے ہیں. یعنی انہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی. ان کے چہروں پر کوئی تاثرات نہیں تھے.جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ میرے تجربے میں یہ بات شامل تھی کہ ایک تو فیصل آباد کے لوگوں کو ہنسانا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ خود جگت باز ہوتے ہیں اور دوسرا میراثیوں کو ہنسانا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ اُن کا اپنا کام بھی یہی ہے. آج تیسرا تجربہ آپ سے مل گیا ہے کہ بیوروکریٹس کو ہنسانا بھی آسان کام نہیں ہے. لہٰذا مہربانی فرما کر اپنی ٹائیاں زرا ڈھیلی کریں تاکہ آپ کو سانس لینے میں دشواری نہ ہو سکے اور پھر خالد مسعود صاحب نے خوب داد سمیٹی.
اس وقت مجھے ایک ڈرامے کا سین یاد آ رہا ہے. ایک بدمعاش موسیقار گھرانے کے پلاٹ پر قبضے کر لیتا ہے. بڑے خان صاحب (سہیل احمد عزیزی) اپنے دونوں بیٹوں اور شاگرد کے ساتھ قبضہ چھڑوانے جاتے ہیں . بدمعاش شرط رکھتا ہے کہ مجھے چھتیس نان سٹاپ جگتیں لگاؤ. اگر میرا ایک بھی آدمی ہنسا تو میں تمہیں اس پلاٹ کی رقم دے دوں گا. لیکن اگر کوئی بھی نہ ہنسا تو اسی پلاٹ میں تم سب کی قبریں بناؤں گا. پھر اپنے آدمیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ہنسا تو یہ تو بچ جائیں گے، تمہاری خیر نہیں. خان صاحب نے جگتیں شروع کیں. جب چونتیس جگتوں تک کوئی نہیں ہنسا تو خان صاحب کے بیٹوں نے ڈر اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ، اپنے مخصوص انداز میں بدمعاش کے آدمیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ انداز، چھتیس جگتوں سے زیادہ مزاحیہ تھا.
ایک مرتبہ منصور ملنگی کسی قصبے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے گئے. وہاں سٹیج کے بلکل سامنے بیٹھے مجمعے میں ایسے لوگ موجود تھے، جن کا حلیہ شرعی تھا. منصور ملنگی گاتے رہے مگر داد کوئی نہیں دے رہا تھا. آخر کار منصور ملنگی کہنے لگے کہ سائیں تساں محفل موسیقی وچ آئے او یا کسے مذہبی اجتماع تے؟
مجمع پھر بھی خاموش!
اس کے بعد انہوں نے ایسا دوہڑا سنایا کہ مجمع نہ صرف بھڑک اٹھا بلکہ محفل چھوڑ کر چلے گئے. وہ دوہڑا درج ذیل ہے؛
کیتے سفر جہازاں تے……….
سجنڑاں نوں لٹ لٹ کے دینا زور نمازاں تے
ایک بات اور یاد رکھئیے گا. فنکاروں اور تخلیق کاروں کو داد بھی خالص ہی چاہیے ہوتی ہے. میں کپل شرما کے شو میں راحت اندروہی صاحب کی زبانی سنا کہ ایک مرتبہ احمد ندیم قاسمی صاحب مشاعرہ پڑھ رہے تھے. قاسمی صاحب ابھی پہلا مصرعہ شروع ہی کرتے کہ صاحب زور زور سے کہنے لگتے؛ سبحان اللہ سبحان اللہ! آخر کار قاسمی صاحب کہنے لگے؛ میاں آپ اتنا زور سے اللہ کو یاد کر رہے ہیں، اگر اللہ نے آپ کو دھیرے سے بھی یاد کر لیا نا…….!