پلیز ہوش کا دامن تھامیں!
کیا اچھا ’’ویلا‘‘ تھا جب یار لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوتے، سیاست پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی، اختلاف رائے بھی ہوتا، کبھی کبھار ہلکی پھلکی
کیا اچھا ’’ویلا‘‘ تھا جب یار لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوتے، سیاست پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی، اختلاف رائے بھی ہوتا، کبھی کبھار ہلکی پھلکی
حال ہی میں امریکہ کے سپریم کورٹ کے جج کااسکینڈل سامنے آیا ہے ۔جج صاحب کانام کلیرنس تھامس ہے اور اُن پر الزام ہے کہ
مفتی غلام مصطفیٰ صاحب نوراللہ مرقدہ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں بوبر سے تھا۔ مگر ان کی عمر لاہور میں گزری
آج آپ کو ایک جنگل کی کہانی کیوں نہ سنائی جائے:یہ ایک شیر اور لومڑی کی کہانی ہے، ظاہر ہے شیر بہت طاقتور تھا اور
سوال یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران ، چین کی قیادت میں اس حسین اور قابلِ تحسین یوٹرن پر کیوں مجبور ہوئے؟ اس کے
میں سگریٹ نوشی سے عاجز آ چکا ہوں اور خود کو تسلی دینے کے لئے اس حوالے سے سگریٹ نوشوں نے جو لطیفے گھڑے ہوئے
اپنی اپنی انا کے اسیر سیاست دان اور جج تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔سیاست دانوں کی نااہلی کے باعث جب جب سیاسی تنازعات
شاہد خاقان عباسی کی قصہ گوئی عروج پر تھی‘ وہ سرد آواز میں بولے ’’مسجد سے واپسی پر ہم نے سراجیوو میں بربادی دیکھی‘ عمارتیں
میں اپنا مقدمہ ریکارڈ پہ لے آیا ہوں ۔ اب جون ایلیاء چیپٹر میری طرف سے کلوز ہی سمجھیں تا وقتیکہ کسی نے مزید وضاحت
محنت امریکہ نے کی تھی لیکن پھل چین نے اپنی جھولی میں سمیٹ لیا ۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ امریکہ کی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے