سیاست کابنیادی ہتھیار ریاستی قوت نہیں، دلیل
عمران خان صاحب نے اکتوبر2011ء میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہوئے جلسے کے بعد جو اندازِ سیاست اپنایا اس کے بارے میں میرے
عمران خان صاحب نے اکتوبر2011ء میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہوئے جلسے کے بعد جو اندازِ سیاست اپنایا اس کے بارے میں میرے
اگر آپ کو ایک سوال نامہ دیا جائے جس میں پوچھا گیاہو کہ کیا افغانستان میں اسلامی نظام نافذ ہے، ہاں یا ناں میں جواب
پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنےاور عمران خان کو مسیحا اور متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے کا پروجیکٹ پورے زوروشور سے
زندگی تدبیر کی کارفرمائی ہے۔اس کے سوا کچھ نہیں۔استثنا آفاقی صداقتوں کو ہے،ورنہ ہر دور اپنی تاریخ خود لکھتا ہے۔ماضی کا ہر نقش لازم نہیں
موجودہ وفاقی حکومت اقتصادی ابتری کے رسے سے جھول رہی ہے اور جب تک پاؤں ہوا میں ہیں، کوئی بھی بیانیہ یا دعویٰ اس کی
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ مذاق پسند نہیں کرتے۔یہ چاہتے ہیں کہ ان سے بس سنجیدہ بات کی جائے، اور جب آپ
جس زمانے میں، میں ابھی طالب علم اور زیرتربیت صحافی تھا تو انگریزی زبان کے جس ایک مصنف کو اخبارات میں باقاعدگی سے پڑھا کرتا
گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ملک میں سیاسی گرما گرمی کا بھی آغاز ہوچکا تھا۔جو کہ ابھی بھی عروج پر ہی ہے۔اس گرمی کے
شہباز شریف صاحب کا وزیر اعظم پاکستان بن جانا سچل سرمت کی بیان کردہ ’’بے اختیاری‘‘ میں نہیں ہوا۔ عمران خان صاحب کو تحریک عدم
میری والدہ نے مجھے کہا تھا کہ عارف تم فکشن پڑھنا چھوڑ کر فلسفہ پڑھو، یہ کہہ کر انہوں نے ہیرولڈ روبن کا ناول دی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے