ساڑھے دس بجے کیا ہوا تھا؟
ہفتہ 9 اپریل کو پوری قوم سارا دن ٹیلی ویژن اسکرینوں سے جڑ کر بیٹھی رہی اور حکومت وقت پر وقت گین کرتی رہی ‘
ہفتہ 9 اپریل کو پوری قوم سارا دن ٹیلی ویژن اسکرینوں سے جڑ کر بیٹھی رہی اور حکومت وقت پر وقت گین کرتی رہی ‘
اگست 2018ء میں عمران حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فقط دو ماہ بعد مجھے نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا۔میری صحافتی زندگی کی تین دہائیوں
صحافت ایک شب زاد پیشہ ہے، اصطلاح کی حد تک ہی نہیں، لغوی طور پر بھی صحافت میں رات جاگتی ہے تو خبر کا سراغ
سن تھا 1971ءمقام تھا مشرقی پاکستان اور وزیر اعظم تھی اندرا گاندھی ۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی تحریک زوروں پر تھی ، حکومت
جیسے تتو تھمبو کر کے وزیر اعظم بنایا تھا اسی طرح ڈنڈا ڈولی کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ سیاست ہے اور یہاں
اثر میواتی ولدبے اثر تریاقی اس وقت میرے پاس بیٹھا ہے اور اپنے طوطوں کے بارے میں بتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ
’’ایک دن گدھے اور چیتے میں بحث شروع ہوگئی کہ گھاس کا رنگ کیا ہوتا ہے ؟ گدھے نے بڑے اعتماد سے کہا،گھاس کا رنگ
میں ایک دفعہ پھر اس بات کا قائل ہو گیا ہوں بلکہ میرا یقین، یقین ِکامل میں بدل گیا ہے کہ کبھی کسی کم ظرف
گاؤں کی خو برو دوشیزہ, رات کے پچھلے پہر، اپنے چاہنے والے نوجوان کے ساتھ پڑوس کے گاؤں چلی گئی۔ ماں آہ و زاری کرتی
یوسف حسین کا تعلق گلگت مجینی محلہ سے ہے۔ کرونا کے آغاز کے دنوں میں وہ گلگت میں قیام پذیر تھے، وباء زدہ علاقے میں
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے