گدلا پانی کرونا کی ویکسین نہیں بلکہ خود ایک خطرہ ہے

یوسف حسین کا تعلق گلگت مجینی محلہ سے ہے۔ کرونا کے آغاز کے دنوں میں وہ گلگت میں قیام پذیر تھے، وباء زدہ علاقے میں رشتہ داری زیادہ ہونے اور میڈیا میں بار بار کرونا کے متعلق خبریں سامنے آنے پر وہ بھی اس معاملے میں بڑے محتاط ہوگئے۔ یوسف حسین کہتے ہیں کہ ٹیلی ویژن میں بار بار کرونا کی خبریں، ہلاکت کی اطلاعات اور لاک ڈاؤن جیسی اصطلاحات کو دیکھتے ہوئے میں بہت پریشان ہوا، اور محلے کی دوکان سے 2 ڈبے ماسک کے خرید کر لایا جو کہ مجھے اس وقت ایک ہزار روپے کے پڑے اور تقریباً دو مہینے تک اپنے بچوں اور گھر والوں کے ہمراہ سختی سے ان کا استعمال کرتا رہا، بعد ازاں گھبراہٹ اور واویلا والی کیفیت کم ہوگئی اور ساتھ ساتھ اردگرد سے عجیب و غریب خبروں کی آمد شروع ہوگئی، جیسے جس کو کرونا تھا وہ زندہ ہے اور جس کو کرونا نہیں تھا وہ مرگیا، ہر مرنے والے کو کرونا میں شامل کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یوسف حسین کا کہنا ہے سوشل میڈیا کی اس طرح کی خبروں کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کا سلسلہ کم ہوا تاہم بعد ازاں لوگوں کی بڑھتی ہوئی ریکوریٗ کی شرح پر یہ افواہ کہ ہم گدلا پانی پیتے ہیں اس کی وجہ سے پہلے سے ہی مدافعتی نظام بہت زیادہ مضبوط ہے، نے بے احتیاطی کو مزید دوام بخشا۔

گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام میں بطور منیجر نیچرل ریسورس خدمات سرانجام دینے والے منظور احمد کہتے ہیں کہ اس قسم کی افواہیں اور بے تکی باتیں ایک وقت میں معمول کی باتیں بن گئیں تھیں۔ لوگوں میں اس طرح کی افواہوں اور بے تکی باتوں نے بہت اثر کیا۔ اگر میڈیا کا کردار نہیں ہوتا تو شاید احتیاطی تدابیر بہت پہلے ہی ختم ہوچکی ہوتی۔ گدلا پانی پینے کی وجہ سے کرونا نہ ہونے کی افواہ یا تھیوری بنیادی طور پر نہ صرف کرونا کے متعلق غیر سجیدگی کی علامت ہے بلکہ صاف پانی نہ ملنے کو بھی ایک غنیمت سمجھا جاتا ہے جو کہ کسی بھی صورت درست نہیں ہے بلکہ خطرناک ترین ہے۔

منظور احمد مزید کہتے ہیں کہ کچھ برس پہلے تک گلگت کی ندیاں اور واٹر چینلز اتنے صاف شفاف پانی سے لبریز ہوتے کہ چلتا راہگیر اس سے پانی پی سکتا تھا اور متعدد مرتبہ ہم نے خود بھی یہ عمل دہرایا ہے لیکن پانی کے معیار کو کرونا وائرس سے جوڑنا کسی صورت دانشمندی نہیں ہے۔ گدلا پانی کرونا کا علاج تو نہیں ہے لیکن بذات خود ایک بیماری اور بیماریوں کا سبب ضرور ہے جس سے آگاہی لینے اور شعور پھیلانے کی ضرورت ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات میں بحیثیت ڈپٹی ڈائریکٹر اپنی خدمات سرانجام دینے والے خادم حسین بھی ایسی افواہوں کو انتہائی مایوس کن اور جہالت کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پانی صاف نہیں ہوگا تو انسان کی طہارت بھی نہیں ہوتی ہے جس پر تمام عبادات کا دارومدار ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن کر رہ گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا ہے کہ گدلا پانی پینے والا کرونا کا شکار نہیں ہوتا یا نہیں ہوسکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں 22 مارچ 2022 تک 191 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوکر اس دنیا سے چل بسے ہیں جبکہ اس کا شکار ہونے والے مجموعی افراد کی تعداد ساڑھے 11637 ہے جن میں سے 36 افراد اب بھی کرونا مثبت ہونے کی وجہ سے زیر علاج ہیں یا پھر احتیاطی تدابیر پر گھروں کو منتقل کردیا گیا ہے جن میں سے 15 خواتین بھی شامل ہیں ۔ محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر خادم حسین ان افراد کا زکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تمام افراد بھی تو یہی گدلا پانی پیتے تھے لیکن وہ سارے کرونا کا شکار ہوگئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی افواہوں کا بنیادی مقصد لوگوں میں گمراہی پھیلانا ہے۔ اس طرح کی افواہوں سے لوگ بے احتیاطی کا شکار ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ ایسی افواہیں سن کر، ان پر یقین کرکے سینکڑوں لوگ اس مرض کا ہی مبتلا ہوگئے ہوں گے جن کے پاس بعد ازاں سوائے افسوس کے کوئی اور راستہ بھی نہیں رہا ہوگا۔ ایسی افواہیں پھیلانے والے دین دنیا دونوں کے لئے خطرناک ہوتے ہیں اور ان کی باتوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے اندھیرے راستے کے مسافر بن جاتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے