مسعود مفتی اور سانحہ مشرقی پاکستان!
ان دنوں فون کی گھنٹی بجتی ہے تو یا اللہ خیر کہہ کر فون اٹھاتا ہوں کیونکہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب
ان دنوں فون کی گھنٹی بجتی ہے تو یا اللہ خیر کہہ کر فون اٹھاتا ہوں کیونکہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب
ہماری تہذیب میں ڈاکٹر کو مسیحا کہتے ہیں اور یہ ہماری تہذیب کا وہ رخ ہے کہ جو عالمی تہذیب میں اور کہیں نظر نہیں
چسکہ فروشی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ہمارے میڈیا نے مگر مقبولیت یا Ratings کی ہوس میں اسے مریضانہ علت کی طرح اپنالیا ہے۔ہمارے
سردار کیلے کے چھلکے پر سے صرف دو بار پھسلا تھا۔ پہلے دن اس نے چھلکا دیکھا نہیں تھا۔ پاؤں اچانک چھلکے پر جا پڑا۔
حضرت داغ کے دور میں یہ میڈیا نہیں تھامگر ‘یاروں‘ سے ان کو وہی شکایت تھی جو آج کل کچھ عوام کو میڈیا سے ہے:
آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہے تیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سے اپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسے مشعلِ خواب
میں جلسے جلوسوں میں کبھی بڑے شوق سے جایا کرتا تھا مگر اب گھٹنے اجازت نہیں دیتے، چنانچہ کئی برسوں سے میں کسی جلسے یا
16دسمبر آیا اور چلا گیا۔ اخبارات میں 16؍دسمبر 1971کو پاکستان کے دو لخت ہونے کے متعلق کچھ مضامین شائع ہوئے اور ٹی وی چینلز پر
کے پی کے نے بچوں کے سکول بیگز کا وزن متعین کیا ہے، جو کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ایک بل کی صورت میں
2014 میں الجزیرہ سمیت کئی عالمی نشریاتی اداروں نے بلغاریہ میں طبی عملے اور ڈاکٹرز کی معاشی اور سماجی صورتحال پر ایک رپورٹ نشر کی
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے