خط مہمل

خطاطی میں بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ دوسرے بہت سے علوم وفنون کے علاوہ بھی میں ایک بلند مقام پر فائز ہوں۔ میں تو اپنے لکھے ہوئے لفظوں پر خود عاشق ہوں ۔ میں جب اپنی تحریر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے یہ لفظ نہیں ہیں بلکہ کسی نے موتی پروئے ہیں۔ چنانچہ جب میرا کالم اخبار کے کمپوزر کے پاس جاتا ہے تو خاص اسلوب میں لکھے ہوئے لفظ دیکھ کر غالباً خوشی سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ وہ ان لمحوں میں اتنا ایکسائٹڈ ہوتا ہے اور وہ لفظوں کے حسن میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اس کیلئے یہ لفظ پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ دوسرے کمپوزروں کو مدد کیلئےطلب کرتا ہے اور یوں ایک بورڈ تشکیل پاتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے جو لفظ "ہاں” ہے لکھا ہے وہ ”باں“ ہے، "ناں” ہے یا "ماں "ہے۔ کیونکہ ایک عام نظر رکھنے والا اسے تینوں طرح پڑھ سکتا ہے۔

جس طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک بڑا شاعر وہ ہوتا ہے جس کے ایک شعر کی کئی کئی پرتیں اور جہتیں ہوں ۔ اسی طرح میرے نزدیک ایک بڑے خطاط کی نشانی بھی یہ ہے کہ اس کا لکھا ہوا کوئی لفظ کئی طرح پڑھا جا سکے اور یوں میرا شمار اصولاً بڑے خطاطوں میں ہونا چاہیے تھا مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں پی آر کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ چنانچہ جہاں خط نستعلیق ، خط نسخ، خط رقعہ اور خط کوفی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے وہاں میری خطاطی کے اسلوب کو یکسر نظر انداز کیا گیا حالانکہ میں بھی ایک خط کا اگر موجد نہیں تو کم از کم اس کے اہم لوگوں میں ضرور شمار ہوتا ہوں۔ میرے کچھ دوست جو خطاطی کے فن کو سمجھنے والے ہیں اور حاسد بھی نہیں ہیں، انہوں نے میرے خط کو خط”مہمل“ کا نام دیا ہے اور میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی ابتدا ہے کیونکہ ابتدا میں غالب کے کلام کو بھی مہمل ہی قرار دیا گیا تھا۔

ہمارے ہاں ایسے بہت سے صاحبان علم وفن ہیں جن کا شاعری، افسانے ، سفرنامے اور کالم میں جہاں بہت نام ہے وہاں خط مہمل میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں مگر انہوں نے بوجہ انکسار اس فن کے حوالے سے کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ فی الوقت جن مشاہیر کے نام مجھے یاد آ رہے ہیں ان میں سر فہرست بزرگوار جمیل الدین عالی ہیں۔ میرے پاس ان کے کچھ مکتوب گرامی محفوظ ہیں اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ خود میں بھی انہیں پڑھنے میں آج تک کامیاب نہیں ہو سکا ( استاد آخر استاد ہوتا ہے )۔ اسی طرح برادرم سلیم اختر کا شمار بھی خط مہمل کی تحریک کے بنیادی ارکان میں ہوتا ہے۔ وہ جب کبھی اپنا کوئی افسانہ یا مقالہ کسی رسالے کے مدیر کو ارسال کرتے تھے، وہ ان کے لکھے پر اتنا اعتبار کرتا تھا کہ بغیر پڑھے کمپوزر کے سپرد کر دیتا تھا۔رسالے کے مدیر صاحبان ڈاکٹر صاحب کے علم و فضل کے اتنے قائل ہیں کہ وہ کمپوزر کو ڈاکٹر صاحب کی تحریر کمپوز کرنے کا دو گنا معاوضہ دیتے تھےکہ ان کے نزدیک یہ تحریر کوئی عام تحریر نہیں کہ اس کا معاوضہ دوسری تحریروں کے مساوی دیا جائے ۔ بے شک :

یہ رتبہ ء بلند ملا جس کو مل گیا

خط مہمل کو عروج پر پہنچانے والوں میں بہت سے اور جید لوگ بھی شامل ہیں مگر تفصیل میں جانے سے ان مرحومین کی حق تلفی کا امکان ہے جنہوں نے اس فن کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی ۔ ان میں ایک نام مرزا ادیب مرحوم کا بھی ہے۔ مرزا صاحب کا خط دیکھنے میں انتہائی خوبصورت تھا ، ایسے لگتا تھا جیسے کتابت ہوا ہو مگر وہ اپنے فن کا مظاہرہ لفظوں کی خاص بنت سے کرتے تھے جس سے خط مہمل کی ایک اور پرت سامنے آئی ۔ میں جس زمانے میں ایک معاصر اخبار کا ادبی ایڈیشن مرتب کرتا تھا میرا سامنا مرزا صاحب کے کالموں سے ہوتا تھا۔ میں ان کے عالی شان ادبی کارناموں کا تو پہلے سے قائل تھا۔ خط مہمل میں لکھے ہوئے ان کے کالم پڑھ کر میں ان کے اس اعجاز کا بھی قائل ہو گیا ۔ اسی طرح محمد خالد اختر مرحوم کی بہت سی تحریریں میرے پاس محفوظ ہیں ۔ انہوں نے جو کچھ بھی لکھنا ہوتا تھا وہ مختلف اداروں کی طرح سے شائع شدہ ڈائریوں پر لکھتے تھے ۔ جو احمد ندیم قاسمی ان کے لیے جمع کر کے رکھتے تھے ۔ خالد صاحب نے خط مہمل میں جو اختراع کی وہ یہ تھی کہ وہ لفظوں پر نقطے نہیں لگاتے تھے یعنی بے نقط لکھتے ۔ دس بارہ سطروں کے بعد جب طبیعت نقطے ڈالنے کی طرف مائل ہوتی تو کسی ایک لفظ پر وہ سارے نقطے ڈال دیتے جو انہوں نے گزشتہ لفظوں پر نہیں ڈالے تھے۔ میرے پاس ان کا ایک مخطوطہ موجود ہے جس میں چلتے چلتے وہ اچانک ایک لفظ ” آسان‘‘پر اتنے مہربان ہوئے کہ اس کے آگے پیچھے اور اوپر نیچے دس بارہ نقطے ڈال دیے ۔ اب اگر اس کے بعد کسی پڑھنے والے کو لفظ "آسان ” بھی مشکل لگتا تھا تو اس میں خط مہمل کا کوئی قصور نہیں ۔

اگر آپ سچ پوچھیں تو خط مہمل پر اعتراض کرنے والوں پر بھی سارا الزام نہیں دھرا جا سکتا کیونکہ ہمارے درمیان کچھ ایسے مشاہیر بھی موجود ہیں جو خط مہمل کی باریکیوں کے علم سے محرومی کے باعث یہ دشوار راستہ اپنانے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے خط کو بنانے سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ خط مہمل میں مہارت تجریدی آرٹ سے لگاؤ ہی کی صورت میں پیدا کی جاسکتی ہے جو لوگ تجریدی آرٹ سے کوئی نسبت نہیں رکھتے وہ خط مہمل میں بھی کمال حاصل نہیں کر سکتے ۔ مجھے اس حوالے سے سب سے زیادہ گلہ مشتاق احمد یوسفی سے ہے۔ یوسفی صاحب تو آرٹ کی تمام پرتوں سے واقف ہیں مگر اس کے باوجود ان کا خط ، خطاطی کی کلاسیکی روایت کا عکاس ہوتا ہے۔ میں اسے فریم کرا کے گھر میں تو لگا سکتا ہوں مگر آج کی ماڈرن آرٹ گیلری میں اگر کوئی خط جگہ پائے گا تو وہ جمیل الدین عالی ، ڈاکٹر سلیم اختر اور اکابر مرحومین کے علاوہ راقم الحروف کا خط مہمل ہی ہوگا۔ دوسروں کا تو مجھے علم نہیں البتہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، میں نے اس خط کی ترویج کے لیے جہاں بہت سی قربانیاں دی ہیں وہاں اس کا پھل بھی مجھے اس صورت میں ملتا رہا ہے کہ مغرور سے مغرور محبوب بھی میرا خط ملتے ہی دوڑا چلا آتا تھا اور جھنجھلا کر پوچھتا تھا کہ تم نے اس خط میں آخر لکھا کیا ہے؟

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے