بھائی عبدالودود دھوتی والے
بھائی عبدالودود دھوتی والے کا آبائی شہر سہارنپور ہے۔ 1947ء میں ہجرت کر کے لاہور آئے تو انہیں یہاں کی عوامی دھوتی بہت پسند آئی جو ہوا دار ہوتی ہے بلکہ گرمیوں میں تو یہ بالکل ایئر کنڈیشنڈ بن جاتی ہے بس اتنا ہے کہ اس لباس میں ہر لمحہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔ بھائی […]
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے!
سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ مرحوم، مغفور سے ملاقات اور ان سے گفتگو کا موقع جن احباب کو ملا ہے، اس کی لذت سے صرف وہی واقف ہو سکتے ہیں، وہ میرے ’’گرائیں‘‘ تھے اور صدر پاکستان کی حیثیت میں بھی جب دو ایک بار ان سے ملاقات ہوئی، ان کی بےتکلفی، خوش طبعی، شعر […]
ایک تھا’’ سگریٹ‘‘….!
گزشتہ کئی برسوں سے میں خاصا ہرجائی ہو گیا ہوں۔ یہ بات خود میں نے بھی محسوس کی ہے اور میرے دوست بھی یہ بات میرے نوٹس میں لائے ہیں۔ اس ہرجائی پن کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ میں اپنا برانڈ مستقل تبدیل کرنے میں لگا ہوا ہوں اور ظاہر ہے کہ اس […]
رانا خدا بخش اور ان کے حاسدین!
میں تو خیر سادھو سا آدھی ہوں، مجھے کیا پتہ یہ مَن وتُو کے سلسلے کیا ہوتے ہیں مگر میرے ایک دوست بڑی مقبول شخصیت ہیں۔ ان کی عمر اگرچہ اس وقت ستر بہتر برس کے درمیان ہے مگر ان کے نام قیامت کے نامے آتے ہیں، وہ خوشبو میں بسے ہوئے یہ خطوط اپنی […]
عطاء الرحمٰن… پھر ملیں گے اگر خدالایا؟
کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی ہم سفر کے قافلے سے بچھڑ جانے کی خبر سننے کو نہ ملتی ہو، میرا دیرینہ قلمی ہم سفر رفیق ڈوگر اس ہفتے مجھ سے جدا ہو گیا۔ پیارا دوست اور خوبصورت شاعر روحی کنجاہی بھی ہمیں چھوڑ کر عدم کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ بائیں بازو […]
یہ عذیر احمد کون ہے؟
کیا آپ عذیر احمد کو جانتے ہیں، اگر نہیں جانتے تو پھر کیا جانتے ہیں؟ آپ کو اپنا جنرل نالج امپروو کرنا چاہیے۔ عذیر ایک درمیانے درجے کی کاروباری شخصیت ہے، گڑھی شاہو لاہور میں اس کی جوس کی شاپ ہے اور ’’کل عالم‘‘ میں اس کا نام ہے، ابھی گزشتہ دنوں وائس آف جرمنی […]
تھینک یو موبائل فون!
موبائل فون کی آمد سے پہلے پی ٹی سی ایل کی ’’حکومت‘‘ ہوتی تھی، جس کے سستے اور مہنگے سیٹ گھروں میں ڈیکوریشن پیس کے طور پر اور دکانوں میں تالے لگا کر رکھے ہوتے تھے۔یہ ٹیلی فون سیٹ جو عموماً کالے رنگ کے ہوتے تھے، بہت نایاب چیز تھے۔ اِس کا کنکشن حاصل کرنا […]
’’کردار کش‘‘ آرڈی ننس!
گزشتہ چند روز سے وہ حکومتی آرڈی ننس بڑے شدومد سے اخباری ہیڈلائنز اور تبصروں کا محور بنا ہوا ہے جس میں وزیراعظم اور حکومتی شخصیات کی کردار کشی کے حوالے سے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، ظاہر ہے کہ کردار کشی کے زمرے میں عام لوگ بھی آتے ہوں گے، تجزیہ کار مگر […]
جائیں تو جائیں کہاں؟
اب میں کیا کروں، بہت سی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر ہر دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، مثلاً جب میں اپنے قریب سے لبالب گنّوں سے بھری اور اچھی طرح پیک کی ہوئی کوئی ٹرالی گزرتے دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہےکہ گاڑی روک کر ٹرالی میں سے ایک […]
تماشا ختم ہونے کو ہے !
جوانی میں کچھ اور مشاغل تھے، ادھیڑ عمری کے شوق کچھ اور تھے اور اب لے دے کہ نیوز چینلز اور سیاسی پیش گوئیاں کرنے والے ای لاگ اور بلوگ رہ گئے تھے مگر ان سے بھی جی اچاٹ ہوگیا ہے۔ مجھے یہ فکر نہیں کہ اب سیاسی کھیل تماشہ دیکھنے کی خواہش بھی میرے […]