بجٹ تقریر میں غلطیاں
پارلیمان میں کہا ہر فقرہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ ریکارڈ ہوئے ہر لفظ کو بعدازاں تحریری صورت میں ڈھال کر تاریخی دستاویز کا حصہ بھی بنایا جاتا ہے۔اس تناظرمیں اہم ترین وہ تقریر ہوتی ہے جو ہر سال کے مالیاتی سال کے آغاز میں وزیر خزانہ قومی آمدنی کے اعدادوشمار عیاں کرنے کو پڑھتے ہیں۔قومی خزانے […]
ایسی پارلیمان کو عوام سنجیدگی سے کیوں لیں
عارفہ نورمیری بہت عزیز دوست ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد بنائی اپنی رائے کے بارے میں مستقل مزاج ہے مگر اس کی فطرت میں منکسرالمزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اسی باعث خود کو ہمیشہ چوکس مدیر کے بجائے ’’ذات کی سب ایڈیٹر‘‘ کہلوانے کو ترجیح دیتی ہے۔عرصہ ہوا پرنٹ سے ٹی وی کو […]
سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی
چند دن قبل کالے موتیا نے میری آنکھوں میں نقب لگانے کی کوشش کی تو پکڑا گیا۔اس کی پیش بندی کے لئے تشخیص کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔مرض تو قابو میں آگیا۔میرے لئے تاہم اہم ترین یہ اطلاع تھی کہ رضا کارانہ اختیار کردہ گوشہ نشینی اس مرض کا بنیادی سبب ہوا کرتی ہے۔آنکھوں […]
سیاسی میدان میں نظر نہ آتی ’’حرکت‘‘
اس کالم کے مستقل قارئین میں سے چند نے ذاتی پیغامات کے ذریعے گلہ کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے میں نے ملکی سیاست کے بارے میں لکھنا چھوڑ رکھا ہے۔ میری لاتعلقی کو انہوں نے دانستہ طورپر اپنائی مصلحت آمیز خاموشی تصور کیا۔ یہ فرض کرتے ہوئے کئی مہربانوں نے ’’شیر بن شیر‘‘ […]
’’پرنم‘‘ آنکھ ، جاندار زندگی کی علامت
لفظ ’’سائنس‘‘ کو ہم لاہور کی گلیوں میں ’’بھینس‘‘ کے ہم قافیہ کی صورت ادا کیا کرتے تھے۔یہ لفظ بولتے ہوئے اکثر یہ بھی کہا جاتا کہ اس علم نے بہت ترقی کرلی ہے۔گزشتہ تین روز سے مجھے یہ فقرہ بہت یاد آرہا ہے۔ صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کے بعد اپنے بستر پر […]
سچ بیان نہ کرنے کا ٹھوس جواز
کتابوں کے کبھی ’’قلمی نسخے‘‘ ہی ہوا کرتے تھے۔کئی مہینوں کی مشقت سے تیار ہوئے ’’مخطوطے‘‘ بادشاہوں،نوابوں اور رئیسوںہی کومیسر ہوتے۔خلق خدا تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔غریب گھرانوں کے طالب علم بہت تگ ودو کے بعد ان تک رسائی حاصل کرتے تو کتابوں میں لکھی باتوں کو محض یاد رکھنا ہوتا تھا۔استادوں کی […]
چودھری نثار کے سر پر ’’ہما‘‘ بٹھانے کی ناکام کوششیں
’’صحافت‘‘ کے نام پر ان دنوں ہمارے ہاں یاوہ گوئی کا جو شور برپا ہے اس میں حصہ ڈالنا میرے بس کی بات نہیں۔پرانی وضع کا رپورٹر رہا ہوں۔ہمارے سینئر نہایت شفقت سے ہمیشہ سمجھاتے رہے کہ ’’خبر‘‘ برسرزمین ہوتی ہے۔اسے بہت لگن سے ڈھونڈنا ہوتا ہے۔گھر بیٹھے قیاس آرائی کا شوق لاحق ہے تو […]
ترین کے حامی اور یہی تنخواہ
جوانی میں جماعتِ اسلامی کے وفادار رہے عظیم چودھری صحافت میں آئے تو ’’لہوری گرڈ‘‘ کی وجہ سے میرے عزیز ترین دوستوں میں بھی شامل ہوگئے۔ مجھ سے کئی دہائیاں قبل مگر انہوں نے دریافت کرلیا کہ کل وقتی صحافت وطن عزیز میں معاشی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔اخبارات اگرچہ آج […]
بلھے شاہ کا ’’آئی صورت‘‘ سچا رہنے کا فلسفہ
بلّھے شاہ مصر رہے کہ ’’ربّ‘‘ کا ذکر ضروری نہیں۔خالق کائنات اپنی ستائش کی بابت بے نیاز ہے۔ انسان کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ ’’آئی صورتوں‘‘ سچارہے۔ ’’آئی صورت‘‘ کا مناسب مترادف اردو زبان میں غالباََ ’’لمحہ موجود‘‘ ہوسکتا ہے۔اسے ذہن میں رکھیں تو بلّھے شاہ کا پیغام یہ ہے کہ جس موضوع کا […]
’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کے تقاضے
’’حساس‘‘ موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی سیاستدان یا ریاستی نمائندہ اسے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ٹھہرادے تو مجھ ایسے پرانی وضع کے صحافی اس کی فرمائش کا کامل احترام کرتے ہیں۔ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو تاہم ون آن ون یا دو افراد کے مابین ہی ممکن ہے۔بسااوقات صحافیوں کے مختصر ترین گروپ کو بلواکر ’’بریفنگ‘‘ […]