منقش مرغ اور اونی بھیڑ کی حکایت

غریب قلم مزدوروں کی کیا بضاعت ہے۔ سیٹھ صاحب اور ان کے موروثی پرچہ نویسوں کی نگہ نیم باز کے اشارے پر رکھے چراغ ہیں۔ اک پل کی پلک پر دنیا ہے۔ صاحبان محرم راز نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو روٹیوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فیض صاحب جیل گئے […]

دست عطا کی حنا کاری میں نقوش خطا

بہت دن سے تشویش تھی کہ ممتاز قومی سائنس دان، جمہوریت دشمنی کے علمبردار اور ٹیکنوکریٹ بندوبست کے داعی محترم ڈاکٹر عطاالرحمن کا نسخہ اجل مدت سے نظر نواز نہیں ہوا۔ خاکم بدہن، ڈاکٹر عطا الرحمٰن دیانت دار، غیر سیاسی اور ٹیکنو کریٹ صاحبان علم کے دست اعجاز سے مایوس تو نہیں ہو گئے۔ 12دسمبر […]

جھانسی کی رانی اور جنرل بخت خان

کوچہ سیاست کے بدلتے رنگ دیکھتے نصف صدی ہونے کو آئی۔ چھتیس برس اخبار کے صفحات پر بدلتے لب و لہجے میں حسن طلب کی باس سے آشنائی ہو چکی۔ ہمیں خبر کے واقعاتی حقائق دیکھنا ہوتے ہیں۔ کسی درجہ دوم کے اہلکارسے ’اندر کی خبر‘ جاننے کی خواہش یا ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ […]

یہ غروب عصر کا وقت ہے

یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ خالد احمد کی موت وقت کا ظلم ہے، آمریت کا بانجھ پت جھڑ ہے یا ایک پسماندہ معاشرے کی بے ہنگم افراتفری کے پس پردہ دبے پائوں بڑھتی بے خبری۔ یہ ہماری یاد کی رحم دلی ہے جو ہمیں دکھ کی تیز آنچ کا احساس نہیں ہونے […]

مزاحمت، تخلیق اور سیاسی شعور میں تعلق

کچھ حلقوں میں ان دنوں مزاحمتی ادب کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ غالباً تقاضا یہ ہے کہ ان احباب کے حالیہ سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کی جائے۔ گویا تخلیقی عمل بھی کسی خانہ ساز لیڈر کی میز پر رکھی نیلی پیلی پنسلوں کا فرومایہ ڈھیر ہے جو کسی کاٹھ کے ارطغرل کی خواہش […]

محل سرا خاموش مگر قبریں بولتی ہیں

ہمارے ملک میں شرمناک انکشافات کا موسم ہے۔ انکشاف مگر گزرے دنوں اور سابق اقتدار کے غبار میں اوجھل ہونے والوں کے بارے میں ہیں۔ اب کیا ہو رہا ہے؟ کوئی نہیں بتا رہا اور بتائے گا بھی نہیں۔ 25فروری 1956ءکو بیسویں کمیونسٹ کانگریس میں خروشچیف کی نام نہاد ’خفیہ تقریر‘ سے پہلے کوئی اسٹالن […]

ہمارے نوجوان پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہتے؟

کچھ روز ہوئے، آپ کے نیاز مند نے عرض کی تھی کہ اس نے جوانی میں پاکستان کیوں نہیں چھوڑا اور اب بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اخبار کا صفحہ ذاتی مکتوب نہیں ہوتا نیز یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ممکنہ حد تک متنازع نکات سے گریز کیا جائے۔ اس احتیاط سے مراد سچائی […]

رندان قدح خوار پھر جیت گئے

دسمبر کے آخری دن آن لگے۔ مٹھیوں سے پھسلتی لمحوں کی ریت کے لئے زیاں کی چبھن تو اب واقعہ نہیں، طبیعت ہو چلی ہے۔ کیوں نہ ہو، ہمیں تاریخ ِانسانی کا ایسا زرخیز منطقہ میسر آیا جس میں دنیا نے منزلوں پر منزلیں سر کیں۔ جولائی 1969 میں چاند پر قدم رکھنا تو محض […]

میں نے حب الوطنی سیکھ لی

میرے کچھ مہربان دوستوں کو شدید اعتراض ہے کہ ہر وقت اپنے وطن پر تنقید کرتا ہوں۔ کچھ دوست تو میری عدم موجودگی میں مجھے یوگنڈا ، منگولیا ، یوراگوئے اور قبرص وغیرہ جیسی عالمی طاقتوں کا درپردہ ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ پاکستان پر اندھا دھند تنقید کرنے […]

دوست کے اتباع میں

ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوئوں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامنِ دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر […]