میں نے حب الوطنی سیکھ لی

میرے کچھ مہربان دوستوں کو شدید اعتراض ہے کہ ہر وقت اپنے وطن پر تنقید کرتا ہوں۔ کچھ دوست تو میری عدم موجودگی میں مجھے یوگنڈا ، منگولیا ، یوراگوئے اور قبرص وغیرہ جیسی عالمی طاقتوں کا درپردہ ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ پاکستان پر اندھا دھند تنقید کرنے سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے۔ سرمایہ کار ہمارے ملک کا نام سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ دنیاوی عیش و عشرت کے رسیا افریقہ میں ہاتھیوں ، گینڈوں ، تیندووں اور دوسرے خطرناک جانوروں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہیں مگر پاکستان میں مدینتہ الاولیا ملتان کا رخ نہیں کرتے جہاں کے سوہن حلوے کی کوئی دوسری برانچ نہیں ہے، نیز زیر زمین روحانی آثار ملتے ہیں۔ حتیٰ کہ پشاور کی مہتاب خان مسجد کی زیارت کرنے بھی نہیں آتے جہاں ننگی آنکھ سے قمری مہینے کا ایسا نیا چاند دیکھ لیا جاتا ہے جو جدید ترین رصد گاہوں میں نصب سائنسی آلات سے بھی نظر نہیں آتا۔

احباب کی اس دلیل میں بھی وزن ہے کہ میرے جیسے غیر ذمہ دار قلم فروشوں اور دریدہ دہن نقارچیوں کے شوروغوغا سے ہمارے ملک کے سیاسی رہنمائوں بالخصوص سفارت کاروں کے کام میں مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ جب ہمارے لوگ بچیوں کی تعلیم کےلئے غیر ملکی امداد کی استدعا کرتے ہیں تو میز کی مخالف سمت میں نشستہ وفد صرف ملالہ یوسف زئی کی تصویر ہی نہیں دکھاتا، سوشل میڈیا پر ان ہزاروں فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹس کا ذکر بھی کرتا ہے جہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے ’میں ملالہ نہیں ہوں‘۔ہم سیلاب کی تباہ کاریاں بیان کر کے اعانت کے طلب گار ہوتے ہیں تو ہمیں سندھ کے اس بھوتار سائیں کی تصویر دکھا دی جاتی ہے جو سیلابی پانی میں گھری چارپائی پر بیٹھا نوکروں سے منرل واٹر کی بوتل سے پائوں دھلواتا ہے۔ ہم جنوبی پنجاب میں سیلابی تباہ کاریوں کے بعد بیج اور کھاد کے طلب گار ہوتے ہیں تو سوال ہوتا ہے کہ پاکستان کے کارخانوں میں تیار ہونے والی ڈھائی ہزار روپے کی کھاد کی بوری ہمسایہ ملک میں پندرہ ہزار روپے میں فروخت ہونے کیسے پہنچ جاتی ہے۔ اپنے خوش عقیدہ دوستوں کی مسلسل تنقید سے تنگ آکر خود مجھے بھی اپنی حب الوطنی پر شک ہونے لگا ہے۔ سردست میں نے کچھ بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے ہیں۔

(1) تاریخ ہمیشہ نصابی کتابوں سے پڑھوں گا۔ منظور شدہ موقف سے ہٹ کر لکھی گئی کتابوں کو نذرآتش کر دوں گا۔

(2) ایسے گمراہ دوستوں کی صحبت سے اجتناب کروں گا جو اعداد و شمار، حقائق اور شواہد وغیرہ کی مدد سے دنیا کے دوسرے ملکوں کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے وطن عزیز سے محبت کمزور پڑنے لگتی ہے نیز اغیار سے مغلوب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ مجھے کسی کا ذہنی غلام ہونا قبول نہیں رہا۔ آج کے بعد میرا ایک ہی نعرہ ہو گا ’میرا وطن بہترین ہے‘ اور اس پر تنقید کرنے والے ملک دشمن ہیں۔

(3) اگرچہ عدلیہ کا احترام میری قانونی ذمہ داری ہے تاہم آج کے بعد میں اس قانونی ذمہ داری کو نظریہ ضرورت کے ساتھ ملا کر پڑھوں گا۔ یہ پوچھنے کی جسارت ہرگز نہیں کروں گا کہ سیاسی رہنمائوں کی بدکاریاں اس وقت ہی کیوں سامنے آتی ہیں جب وہ حزب اختلاف میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی نہیں اٹھائوں گا کہ سزائے موت پانے والے ملزموں کی اکثریت اس قدر غریب کیوں ہوتی ہے کہ وہ وکیل کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ ماتحت عدالتوں سے سزا پانے والوں اور اعلیٰ عدالتوں سے بری ہونے والوں کی شرح میں خوفناک خلیج کیوں ہے۔

(4) میں نے حتمی فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ملک میں ہر حادثے، سانحے، ناکامی اور کوتاہی کی ذمہ داری ان دشمن ممالک پر ڈالوں گا جو ہمہ وقت ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ہمارے عوام کی ایک بڑی تعداد کو قائل کرنے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔ اگرچہ دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد پراسرار طور پر روپوش ہو چکے ہیں۔ تاہم میں قومی سلامتی اور ریاستی مفاد جیسے عظیم مقاصد کو چند گمنام شہریوں کی آزادی وغیرہ پر ترجیح دوں گا۔ میں ایسے سوالات اٹھانے سے گریز کروں گا جن سے متعلقہ حکام کو جواب دہی میں چند در چند مشکل پیش آتی ہو۔ ایک طویل عرصہ گمراہ رہنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خود کو قوم پرست کہلانے والے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے حقیقی خیر خواہ وہی نیک افراد ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان میں حب الوطنی کے جوہر دکھائے اور ان دنوں بلوچستان وغیرہ میں سر ہتھیلی پرلئے پھر رہے ہیں۔ اگرچہ ان معاملات میں کبھی کبھار ذاتی عناد کے زاویے بھی سیدھے کر دیے جاتے ہیں لیکن ایسے واقعات قومی سلامتی کے عظیم مقصد کی ذیلی قیمت ہیں۔

(5) میرے خیر خواہ دوستوں کی پیہم مساعی سے میرے دل کا اندھیرا دور ہو گیا ہے۔ میں اب پاکستان کے دستور کو ایک کاغذی دستاویز سمجھتا ہوں اور مجھے پختہ یقین ہے کہ قومی سلامتی کے لئے وہی فیصلے بہترین ہوتے ہیں جن کی عوام کو ہوا نہ لگے اور جن سے حاصل ہونے والے ممکنہ معاشی مفاد کو بے بنیاد افواہ قرار دیا جا سکے۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری مسلح افواج نے دن رات آتش و آہن کی بارش میں وطن کی حفاظت کی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا کہ ہم اپنے گھروں کی محفوظ چار دیواری میں چین کی نیند سو سکیں۔ میں جس زمانے میں بدعقیدہ تھا، لاہور میں ہر دوسری گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ایک لفظ لکھا نظر آتا تھا ’الباکستان‘۔

آج کل یہ لفظ ڈھونڈے سے بھی نظر نہیں آتا۔ البتہ کچھ ہفتوں سے خم دار سینگوں والے ایک چوپائے کا خاکہ گاڑیوں کے عقبی شیشے پر نمودار ہونا شروع ہو گیا ہے۔ واللہ مجھے الباکستان کا مطلب معلوم تھا اور نہ میں خوفناک سینگوں والے اس خاکے کا مطلب سمجھتا ہوں۔ مجھے تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہر صبح محب وطن ذرائع ابلاغ کی مدد سے یہ معلوم کرتا رہوں کہ ان دنوں صورت بربادی یاراں کیا ہے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے