عقل مند لوگو! معیشت ہی میں راہ نجات ہے
مارچ 1971 ءکے دن تھے جب قائد اعظم کے پاکستان کی بنیاد کھودی جا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میں شفیع الاعظم چیف سیکرٹری تھے جنہیں عملی طور پر حکومت اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے خانہ جنگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش […]
شارق جمال خان کی خرد پسندی
پطرس کے مضامین ہم سب نے پڑھ رکھے ہیں۔ اردو مزاح کی یہ کلاسیک تصنیف 1927 ءمیں شائع ہوئی جب پطرس کیمبرج سے انگریزی ادبیات میں ٹرائی پوز مکمل کر کے لاہور لوٹ آئے تھے۔ یہ بات قدرے کم معروف ہے کہ برطانیہ میں قیام کے دوران پطرس بچوں کے منفرد رسالے پھول کے لئے […]
سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟
نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے […]
سیاست اور سیاست دان کو برا کہنے کی روایت
اگر آپ نے مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: ’ہمیں سیاست سے […]
ابرار احمد: قصباتی لڑکا واپس چلا گیا
عدم اور وجود کے کھیل سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ موت وہ فسطائی فرمان ہے جو مکالمے کا روادار نہیں۔ نامعلوم کی نیند کے ایک لامتناہی سلسلے میں بیداری اور غفلت کے جلتے بجھتے روز و شب کا ایک مختصر وقفہ، فرد کی زندگی یہی ہے۔ گزشتہ نسل جگہ خالی کرے گی تو زمین […]
مکھوٹے، موکھے اور محافظ کی سیاست
سند باد جہازی جولائی 2018کے بعد سے احباب کو خبر کیے بغیر ایک نامعلوم سفر پر نکل گیا تھا۔ آپ سے کیا پردہ، گیا کہیں نہیں تھا، یہیں گھر کے عقبی دالان میں در و دیوار لپیٹے پڑا تھا۔ کالم لکھنے کا دن آتا تو آنکھ پر مصلحت کی پٹی باندھ کر دست لرزیدہ سے […]
نکولائی گوگول کی ’مردہ روحیں‘ اور ہماری سیاست
دل ایسے آزاد پرندے کی اڑان کے کیا کہنے! یہ محض نیلے آسمان اور بادل کی دھانی ٹکڑیوں کے بیچ مرتعش ہواؤں پر وارفتہ پرواز کا مضمون نہیں، اس میں پرانے پیڑوں، آشنا گلی کوچوں اور وہاں بسنے والوں سے رشتے کی پابستگی کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ میرؔ سے خوش نوا پرندے کا یہ […]
سانحہ لاہور اور روشن خیالی کی گرہیں
آج سے 82 برس پہلے 23 اگست 1939 کو سوویت یونین نے نازی جرمنی کے ساتھ امن معاہدہ کر کے دنیا بھر کے روشن خیال اور امن پسند انسانوں کو گنگ کر دیا تھا۔ دس روز بعد جرمن افواج مشرق میں پولینڈ اور مغرب میں بلجیم کے راستے فرانس پر حملہ آور ہو رہی تھیں […]
فزکس کے اینٹی میٹر سے سیاست میں اینٹی اسٹیٹ تک
درویش سمیت ہم میں سے بیشتر احباب جدید سائنس کی باریکیوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اتنا بہرصورت معلوم ہے کہ بیسویں صدی میں نظری اور عملی سائنس میں ایسے نئے تصورات سامنے آئے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے سائنسی نظریات پیش پا افتادہ نظر آنے لگے۔ فزکس ہی کو لیجئے۔ آئن […]
آزادیٔ موہوم
وقت کا ظلم اس بے نیازی سے دلوں پر پائوں دھرتا آگے بڑھتا ہے کہ دھوپ ڈھلنے کی خبر نہیں ہوتی۔ فرد آخر سرراہ کھڑے پیڑ پر ایک پتہ ہی تو ہے، ایک طرف شاہراہ پر دھول اڑاتا پرشور ہجوم اور دوسری طرف فنا کی گہری ندی کا سکوت۔ برگ سبز کو زرد پتے میں […]