تاریخ کے چیمبر میں پھنسی گولی

پاکستان میں تاریخ ان دنوں سبک قدم ہو رہی ہے۔ حزبِ اختلاف نے وزیراعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کر رکھی ہے ۔ پارلیمانی طرز حکومت میں تحریک عدم اعتماد دستوری معمول کا حصہ ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دینے والا وزیراعظم اپنے ساتھیوں سمیت اسپیکر کے بائیں ہاتھ والی نشستوں پر آ بیٹھتا […]

کیا عمران خان فسطائی ہیں؟

درویش کو ہرگز علم کا دعویٰ نہیں بلکہ میری رائے میں ایسا دعویٰ بذاتِ خود اپنی ہی تردید کے مترادف ہے۔ سچ کی جستجو، اسے بیان کرنے اور پھر اس پر قائم رہنے کے لیے جس استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، دوسروں میں اس کے آثار دیکھ کر رشک ضرور آتا ہے لیکن اپنی محرومی […]

ٹینس کورٹ اجلاس اور اسپیکر کی کرسی

موسمی طوفان ہو، وبائی آفت ہو یا سیاسی منظر تلپٹ ہونے کا امکان ہو، کالم نگار بھی خلقت شہر کی طرح کہنے کو فسانے مانگتا ہے۔ سیاست دان اور فیصلہ ساز تو اپنے ارادے کھول کے بیان نہیں کرتے مگر تجزیہ کار کو یہ جانتے ہوئے بھی رائے دینا ہوتی ہے کہ مستقبل کا خاکہ […]

لوح وقت پر حرف فریب کی ایک اور ناکامی

دھوپ کا شیشہ گلی میں کندھے سے کندھا ملائے مکانوں کی دیواریں چڑھتا، چوباروں کی کھڑکیاں پھلانگتا اور آرزو بھری چھتوں کی کائی زدہ منڈیروں سے گزرتا بستی کے عقب میں اترچکا تھا۔ اب شام ہو رہی تھی۔ حیرت بھری آنکھوں والے ننھے بچے، اوڑھنی سے بے نیاز بچیاں اور قد نکالتے لڑکے بالے ایک […]

صحافت وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے

مولوی محمد سعید کا نام اس ملک کے صحافیوں کے لیے مرشد باصفات اور گفتہ شیریں مقال کی تاثیر رکھتا ہے۔ ڈان اور سول ایند ملٹری گزٹ جیسے اخبارات سے مدتوں وابستہ رہے۔ پاکستان ٹائمز کے مدیر کے منصب سے پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام کیا۔ اس صحافی کی عظمت میں کیا کلام جسے خالد […]

درویش کے دانتوں کی مجلس شوریٰ

چودہویں صدی عیسوی میں دو نادرِروزگار شاعر پیدا ہوئے، حافظ شیراز اور جیفری چاسر۔ عمر خیام بارہویں صدی میں رخصت ہو چکے تھے۔ اب نہ اصفہان میں رصدگاہ کی جستجو تھی اور نہ صراحی سے چھلکتی چہار سطری رباعیات کی موج ہائے طرب آمیز کا ہنگام تھا۔حافظ شمس الدین شیرازی کو ایران پر تیموری یلغار […]

ہائبرڈ بندوبست ناکام کیوں ہوتا ہے؟

ہماری تاریخ کا ہر صفحہ گرد آلود اور ہر باب سیاہ پوش ہے۔ آج سات مارچ ہے۔ 45 برس قبل 7 مارچ 1977 کو کسی منتخب حکومت کی نگرانی میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ یہ انتخابی مشق اکتوبر 1976میں آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل غلام جیلانی کی ایک […]

بزرگ صحافی اور تاریخ کا امتحانی پرچہ

میر صاحب 1810ء میں رخصت ہوئے تھے۔ اس دوران فلک نے کیسا کیسا انقلاب دیکھا، اجداد پہ کیا گزری اور خود ہماری محضر پر کیسا کیسا نوشتہ مْہر کیا گیا۔ خدائے سخن کے نشتر کی کاٹ مگر بدستور حقیقت کی پرتیں وا کئے جاتی ہے۔ فرمایا، ’عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے […]

خالص زبان میں لکھا گیا ایک کالم

اس فقیر پْرتقصیر کے پڑھنے والے بھلے (ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے) تسلیم کرنے سے انکاری ہوں، خلوص اور موانست کا رشتہ تو ان سے طے پا چکا۔ کچھ مہینے ہوئے، غالباً گزشتہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ تھا، ایک کالم لکھا تھا، ’درویش کے دانت سویلین ہو گئے‘۔ سیدھے سیدھے بتا […]

ڈاکٹر مہدی بہاراں پہ خاک ڈال گئے

23 فروری کی دوپہر عین اس گھڑی جب اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان میں اظہار کی آزادی پر تازہ ترین ریاستی حملے پیکا (PECA) کے سیکشن 20 پر عمل درآمد روک رہی تھی، لاہور کی ایک نواحی بستی میں صحافت کی آزادی کے ایک بہادر سپاہی ڈاکٹر مہدی حسن نیند کے عالم میں بغیر آہٹ […]