سندھ اسمبلی کی طرف سے بہاریوں کی قربانیوں پر سولہ دسمبر ۲۰۲۵ کو ایک قرارداد: ایک تاریخی اعتراف

قربانیوں کا تسلیم کرنا کسی کے وطن سے محبت یا حب الوطنی کی مقابلہ آرائی نہیں۔ قربانیوں کا اعتراف مغالطہ آرائی بھی نہیں، بلکہ محض ایک تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے: پاکستانی بہاری کمیونٹی، جو سابقہ مشرقی پاکستان میں تھی، انہوں نے اپنے ملک کی محبت میں ناقابلِ بیان قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ۱۹۴۶ سے لے کر اب تک بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد پر میں نے کسی قدر سکون کا سانس لیا گو کہ یہ ایک اخلاقی اور تاریخی قرض تھا جو کافی تاخیر سے ہی سہی، مگر خیر ہے، ادا تو کیا گیا۔ اسی لیے میں دل کی گہرائیوں سے ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جن کی بدولت یہ ممکن ہوا۔

بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، مگر ایک اہم قدم ہے جس نے بہاری کمیونٹی کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا۔ یہ کھوئی ہوئی محبت کی واپسی، متروکہ پاکستانیوں کو اپنانے اور تعصبات کے خاتمے کا آغاز بن سکتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ذمہ داری صرف سندھ یا کسی ایک صوبے کی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کا قومی مسئلہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سب پاکستانی پارلیمانیں، منسلک ادارے اور افراد اس معاملے سے سبق لیں اور اس پر توجہ دیں۔

سولہ دسمبر ۱۹۷۱ کے تناظر میں یہ واحد تعمیری اور ٹھوس کام ہوا ہے۔ ورنہ تو شاعروں کے اس دیس میں سب نصیر ترابی کی غزل جو ٹی وی ڈرامے کے ساؤنڈ ٹریک کی وجہ سے مقبول ہوئی بنا سمجھے پڑھتے رہے، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہے، یہاں تک کہ انگریزی دان لکھاری بھی انگریزی مضامین میں اسے کوٹ کرتے رہے، اور ہم وطن پرستوں کے زخموں کو ہرا کرتے رہے؛ نمک پاشی ہوتی رہی۔ ہم جو مکتی باہنی یعنی غدارِ پاکستان کی نفرت کا شکار بنے، جو اپنے گھروں کو مقتل بنتے دیکھتے رہے؛ قتل ہوئے، وطن میں ہی جلا وطن ہوئے، بے گھر ہوئے، بے در ہوئے، دھتکارے گئے، بھلا دیے گئے۔ ہم جن کے لاشے بے گور رہے؛ ہم جن کی عصمتوں کی نیلامی سرکاری آرکائیوز کا حصہ نہ بن سکی۔ اسی طرح با ذوق کہلانے کے لیے فیض کی ڈھاکہ سے واپسی والی نظم کو بھی مزید وائرل کیا گیا۔

یاد رکھیں کہ خون کے دھبّے برساتوں سے نہیں دھلتے۔ یاد رکھیں کہ سلیکٹو میموری ناانصافی ہے۔

جناب! بنگالیوں سے دوستی ضرور کریں، مگر مکتی باہنی اور عام بنگالی/بنگلہ دیشی کے فرق کو جان کر۔ اب بھی ان کی ایک بڑی اکثریت پاکستان کے ٹوٹنے کو لبریشن سمجھتی ہے، اور حسینہ واجد کی برساختگی کو سیکنڈ لبریشن۔

میڈیا، سوشل میڈیا اور عام گفتگو میں ہماری بربادی کا ذکر اگر تھا تو میں ڈھونڈنے سے قاصر ہوں۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ آج بھی تقریباً ۳ لاکھ ۲۴ ہزار بہاری بنگلہ دیش کے گھیٹوز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی واپسی، بحالی اور دوبارہ آبادکاری ہونی چاہیے، چاہے وہ پاکستان واپس آئیں یا بنگلہ دیش میں رہ کر اپنی زندگی بہتر بنانا چاہیں۔ ان کی مشکلات کو تسلیم کرنا، ان کی عزت بحال کرنا اور ان کے انسانی وقار کی بحالی ہمارا فرض ہے۔ چونکہ ان کی نسل کشی ہوئی اور اس فراموش شدہ جینوسائیڈ کے اثرات آج بھی موجود ہیں، لہٰذا کانفیڈنس بلڈنگ اقدامات سنجیدگی سے اور جلد از جلد کیے جانے چاہئیں۔

میں یہاں اپنے ۲۰۱۸ میں ڈیلی ٹائمز میں شائع شدہ انگریزی مضمون سے ایک اقتباس اردو میں پیش کرنا چاہوں گی:

"میرا ملک پاکستان ابھی تک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قدم نہیں اٹھا سکا، اور سب سے زیادہ معزز انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والوں نے بھی (کئی نے انکار کیا) اس حاشیہ نشین بہاری کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی نہیں دکھائی، جن کے بنیادی انسانی حقوق بھی محدود ہیں۔ مختلف سیاسی کارکنوں، سول اور فوجی بیوروکریٹس اور دیگر اثر انداز کرنے والوں سے ملاقاتوں میں میں نے اس غیر حل شدہ مسئلے کے تئیں واضح بے حسی اور لاتعلقی دیکھی ہے۔

بہاری جو مشرقی پاکستان میں رہائش پذیر تھے (اور یہ بھی ان کا انتخاب نہیں تھا، بلکہ ۱۹۴۶ میں بہار میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ایک قدرتی منزل تھی) اور بنگالی زبان میں مہارت رکھتے تھے، وہ پاکستان سے محبت کرنے سے باز نہیں آئے، اور اسی وجہ سے اپنے پڑوسیوں یا دوستوں بنگالیوں کے ساتھ جو بلا شبہ محرومیوں اور ناانصافیوں کا شکار رہے ان کی آزادی کی جنگ (یعنی ملک پاکستان توڑنے کی جنگ) میں شامل نہ ہو سکے۔

پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنی فوج کی حمایت کرنا قابلِ معافی ہے (میرا خیال ہے)، اور اگر نہیں بھی، تو کم از کم ان کی اگلی نسلیں اس ناکردہ یا ناقابلِ معافی خطا یا جرم کی سزا نہ بھگتیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ کبھی کوئی پاکستانی حکومت ان پاکستانی بہاریوں کی واپسی کے لیے بہادری دکھائے۔ مجھے امید ہے کہ کسی جمہوری حکومت سے بھی پہلے ہماری بہادر فوج ایک شائستہ اختتام (کلوزر) کے لیے فیصلہ کرے گی۔ یا میری فوج کم از کم اتنا تو کر سکتی ہے کہ راولپنڈی کے فوجی میوزیم میں ایک چھوٹی سی تختی پاکستانی بہاری وفاداروں کے لیے لگائے، تاکہ زائرین پاکستانی قربانی کی اصل قیمت کو جان سکیں۔”

پاکستان ہمیشہ زندہ باد! پاکستان کھپے پاڪستان هميشه زنده باد پاکستان ہمیشہ زندہ باد
بشکریہ ہم سب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے