جہیز کے خلاف جنگ اب بھی جاری ہے

تین دہائیوں سے زائد عرصے سے میں پاکستان میں قانون سازی اور کمیونٹی ایڈووکیسی کے شعبے میں کام کر رہی ہوں۔ حال ہی میں The News میں شائع ہونے والے میرے مضمون “Bill Fails, Voices Rise” پر سوشل میڈیا پر خاصا مثبت ردِعمل سامنے آیا۔ ایک قاری نے تبصرہ کیا کہ “جب تک اسلام کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک جزوی اصلاحات کارگر ثابت نہیں ہوں گی” اور جہیز کو ہندو رسم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام عورت کو وراثت کا حق دیتا ہے اور شوہر پر مکمل معاشی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

یہ نکتہ اہم ہے، مگر اس پر وضاحت ناگزیر ہے۔

اسلامی تعلیمات: نظریہ اور عمل کا فرق

یہ حقیقت ہے کہ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں۔ اس کے برعکس حقِ مہر شوہر کی ذمہ داری ہے جو عورت کا غیر مشروط اور مستقل حق ہے۔ اسلام سادگی، اعتدال اور دولت کی نمائش سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی طرح عورت کو وراثت میں واضح حصہ دیا گیا ہے اور خاندان کی معاشی کفالت مرد پر فرض کی گئی ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ اسلامی اصول عملی صورت اختیار نہیں کر پاتے۔ لڑکیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے، جبکہ جہیز کو “رواج”، “ضرورت” اور حتیٰ کہ “حق” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جس سے نمٹنا ناگزیر ہے.محض مذہبی حوالہ دے کر آنکھیں بند کر لینا کافی نہیں۔

قانون سازی بمقابلہ رویّوں کی تبدیلی

میں برسوں سے یہ مؤقف رکھتی آئی ہوں کہ قانون سازی اور رویّوں کی تبدیلی،دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ تاہم میرا عملی تجربہ بتاتا ہے کہ صرف سماجی مکالمے پر انحصار کرنے سے نتائج آنے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ مضبوط قانون سازی کم از کم قابلِ قبول اور ناقابلِ قبول رویّوں کی حد متعین کرتی ہے۔

بدقسمتی سے جہیز کے خلاف قانون سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود قانون سازوں کا ایلیٹسٹ کنسنسس رہا ہے۔ اسی لیے میں قانون پر زور دیتی ہوں کیونکہ قانون کم از کم ظاہری رویّوں (observable behaviours) میں تبدیلی لا سکتا ہے، اور یہی آگے چل کر سماجی شعور کی بنیاد بنتی ہے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ میں صرف قانون کو کافی سمجھتی ہوں۔ درحقیقت، قانون سازی، اسلامی تعلیمات کی درست تشریح کی تشہیر، پارلیمان اور نوجوانوں کی مسلسل آگاہی،یہ تینوں ایک ساتھ چلنا چاہییں۔

تنقید سے پہلے ذاتی احتساب

اکثر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ “جب تک قانون نافذ نہیں ہوگا، کیا جہیز ختم ہو سکتا ہے؟” اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تشدد کو “رواج” اور “روایت” جیسے خوب صورت نام دے کر جائز بناتے رہیں گے؟

کسی کارکن یا ایکٹوسٹ کے جذبے پر تنقید کرنا آسان ہے، مگر ہر فرد کو سب سے پہلے خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے:

کیا میں ذاتی طور پر جہیز کی رسم کو مسترد کرتا/کرتی ہوں؟

میرے اپنے خاندان میں اس حوالے سے کیا رویّہ ہے؟

کیا میں مہنگی اور نمائشی شادیوں کا بائیکاٹ کرتا/کرتی ہوں؟

اور سب سے اہم: کیا میں اس وقت آواز اٹھاتا/اٹھاتی ہوں جب لوگ سوشل میڈیا پر جہیز کے لیے برتن، فرنیچر، زیورات، بارات اور ولیمے کے لیے کھلے یا مبہم انداز میں مدد کی اپیل کرتے ہیں؟

تبدیلی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، یہ محض نعرہ نہیں، ایک عملی حقیقت ہے۔

نوجوانوں کی آگاہی: تبدیلی کی کنجی

2000ء میں میں نے "جہیز کے خلاف جنگ” کے عنوان سے تعلیمی مواد تیار کیا اور ملک بھر میں کالجوں، یونیورسٹیوں اور کمیونٹیز میں نوجوانوں سے مکالمہ کیا۔ میرا یقین تھا اور آج بھی ہے کہ نوجوانوں کی مسلسل اور سنجیدہ شمولیت کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

میں نے نوجوانوں کو واضح الفاظ میں بتایا کہ جہیز کیا ہے:

یہ محض سامان نہیں، بلکہ سماجی تشدد کی ایک منظم شکل ہے۔

یہ لڑکیوں کو تعلیم چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہ بیٹی کی پیدائش کو بوجھ بنا دیتا ہے۔

یہ شادی نہ ہونے کے خوف کو خودکشی تک لے جاتا ہے۔

یہ عورت کو باعزت نہیں، بلکہ مزید کمزور کرتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، جہیز کا مطالبہ مردانگی کی نفی ہے.جس سے نوجوان مردوں کو انکار کرنا چاہیے۔

آگے کا راستہ

تین دہائیاں ایک طویل عرصہ ہے۔ میں نے اس سفر میں ناکامیاں بھی دیکھیں اور چھوٹی مگر معنی خیز کامیابیاں بھی۔ لیکن ایک بات واضح ہے:

اگر نوجوان اس تشدد کو پہچان لیں، اگر وہ اپنے گھروں میں اس کا بائیکاٹ کریں، تو پاکستان جہیز جیسے سماجی تشدد سے کہیں زیادہ تیزی سے نجات پا سکتا ہے۔

یاد رکھیے، یہ صرف ایک رسم نہیں،یہ ایک ایسا نظامی تشدد ہے جو خاندانوں کو معاشی تباہی، مردوں کو ذہنی دباؤ اور بعض اوقات جرم یا ناجائز آمدن کی طرف دھکیلتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دکھاوے اور ضرورت میں فرق سمجھا جائے، شادی کو سادہ بنایا جائے، اور سادگی کے ساتھ خوش رہنے کا شعور اپنایا جائے۔

قانون سازی ضروری ہے۔

درست اسلامی تشریح کی تشہیر ضروری ہے۔

نوجوانوں کی مسلسل آگاہی ضروری ہے۔

لیکن سب سے بڑھ کر ضروری ہے ہر فرد کا اپنا عملی کردار۔

سوال یہ نہیں کہ کوئی کارکن کیا کر رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے: آپ کیا کر رہے ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے