اسفارِ حج: قسط نمبر 3

ویتنام سے وادیِ مکہ تک: ماں کی محبت اور غیب کے فیصلے

کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ دل کو سینے سے نکال کر حضور ﷺ کے روضے پہ رکھ کر چھوڑ آؤں یا پھر امام حسین علیہ السلام کے دربار پر۔

بھتیجا سید خیبر شاہ کل سے حرمِ پاک کی تصویریں شیئر کر رہا ہے۔ وہ سعودی عرب میں میرا بہت ہی خوبصورت اور توانا دوست بن کر میرے ساتھ رہا، بلکہ میں اس کے ساتھ عمرے کی سعادتیں حاصل کرتا رہا ہوں۔ اب پھر سے دل مچل رہا ہے، تڑپ رہا ہے۔ وہ شعر کا ایک مصرع یاد آتا ہے کہ بندہ روضہِ رسول ﷺ پہ جا پڑھے:

میں غمزدہ ہوں میری طرف مسکرائیے

میں گر رہا ہوں تھام لیں، آ کر سنبھالیے

گزشتہ کالم میں والدہ کے حج سے بات چلی تھی، وہیں سے شروع کرتے ہیں۔

انسان کا کوئی خیر کا کام رایگاں نہیں جاتا۔ ایک دن آفس میں بیٹھا تھا کہ جنابِ ڈپٹی اسپیکر صاحب کا حکم ہوا: "رحیم شاہ! ویتنام میں کانفرنس ہے، آپ تیاری پکڑیں اور ڈاکٹر عباد صاحب جو کہ آج کل خیبر پختونخوا میں اپوزیشن لیڈر ہیں وہ بھی ساتھ جائیں گے۔”

میں سچ کہوں تو پھر بکرا عید کے دن قریب تھے اور میں والدہ صاحبہ کے لیے کسی طرح سے حج کے بلاوے کا منتظر تھا۔ اچانک ویتنام کا یہ وزٹ جیسے میری رگوں میں اضطراب برپا کر گیا۔ جنابِ ڈپٹی اسپیکر اکثر اپنے خرچے پر خود بھی اور ساتھ دو چار ضرورت مندوں کو حج پر لے کر جاتے۔ میں نے سوچا، بھائی! اس سال تو اپنا حج کا پروگرام کینسل ہی لگے ہیں۔ بہرحال، حکم کی تعمیل ضروری تھی۔

کانفرنس کے دن بھی ذوالحجہ کی تاریخوں سے متصل تھے۔ ہم ٹھہرے مسافر، صاحب کا حکم تھا، چل پڑے ویتنام۔ غالباً براستہ بینکاک ہم ہو چی منہ سٹی (Ho Chi Minh City) اترے۔

کانفرنس کے دوران ہی پاکستان کے سفیرِ محترم بھی وہاں آن پہنچے۔ چونکہ سفیر صاحب جنابِ ڈپٹی اسپیکر کے گاؤں یا علاقے سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے دونوں کی گفتگو سے شناسائی کا عنصر معلوم ہوا۔ اور اچانک ڈپٹی اسپیکر صاحب نے کہا کہ "ایکسلینس! ویتنام میں سعودی سفارت خانے سے کورٹسی (Courtesy) حج ویزا کے لیے بات کی جائے۔”

یکایک پروگرام بنا، کالز چلیں اور مجھے حکم ہوا کہ اسی دن فلائٹ پکڑ کر سیدھا ہنوئی (Hanoi) کیپیٹل سٹی جا پہنچوں۔ رات کے پہر وہاں پہنچا۔ وہاں سفارت خانے کے عملے کے ایک دوست کے گھر میں قیام کیا۔ ذوالحجہ شروع ہو چکا تھا۔ وجود اور روح میں اچانک "لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں اور میرے پاس واپسی کے لیے صرف ایک ہی دن تھا، کیونکہ جنابِ ڈپٹی اسپیکر صاحب نے واپس پاکستان آنا تھا۔

ویتنام میں پاکستانی ایمبیسی کے ایک ویتنامی نیشنل (مقامی ملازم) نے بہت ساتھ دیا۔ خود بھی بارہا سعودی سفارت خانے کے چکر لگائے اور جب امیدیں دم توڑتی ہوئی محسوس ہوئیں، تو دو رکعت پڑھ کر میں نے اس سے گزارش کی کہ مجھے بھی ساتھ لے جائے سعودی ایمبیسی، شاید اللہ کچھ خیر کا فیصلہ کر دے۔

دن کے کسی پہر ہم سفارت خانے میں داخل ہوئے اور انتظار میں بیٹھ گئے۔ اچانک ایک سعودی صاحب آئے اور پاسپورٹ پکڑا دیا، جس پر پروانہِ حج لگا ہوا تھا۔

ماں کے لیے حج کی دعائیں اور پچھلے حج میں ایک ماں کو اپنے بیٹے سے ملانے کا اجر اللہ نے ویتنام میں دیا۔ میں قسم کھاتا ہوں، میری خوشی سے آنکھیں سفارت خانے میں بھر آئیں، کیونکہ یہ ناچیز اپنی قسمت پر حیران بھی تھا، خوش بھی تھا اور اپنے گناہوں پر شرمندہ بھی۔

اگلی فلائٹ واپس ہنوئی کی پکڑی، وہاں سے سیدھا ہو چی منہ اور پھر واپس براستہ بینکاک پاکستان پہنچے۔ آفس میں چھٹی کی درخواست دی اور سیدھا براستہ بحرین مکہ کی وادی میں پہنچ گیا۔

میں نے سوچا ہوا تھا کہ والدہ صاحبہ کے لیے "حجِ قران” کروں گا، جو کہ رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا تھا، جس میں احرام کا پہنے رکھنا لازم ہوتا ہے اور مکہ میں ہی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ یقین جانیے، اس دفعہ نہ تو خیمے کی فیس کے پیسے تھے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست۔ مگر جب اللہ بلائے اور وہ بھی ماں کے حج کے لیے، تو نہ تو خیموں کے لیے پیسے جمع کرانے پڑتے ہیں اور نہ ہی رہائش کی فکر ہوتی ہے۔ مجھے واپسی پر جنابِ ڈاکٹر عباد صاحب نے ساتھ لیا، جو ایک درویش صفت آدمی ہیں، اور ہم چلے گئے عزیزہ میں ان کے اور مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب کے دوست ناصر قریشی کے ہوٹل میں۔

اللہ ان کو خوش رکھے۔ حج کے لیے مخصوص ہوٹل میں نیچے ایک بیسمنٹ ہے جہاں وہ خود رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے اپنے بستر پر رہنے کے لیے جگہ دی، اور میں اور ڈاکٹر عباد صاحب وہاں ذوالحجہ کی 6، 7 اور 8 کی صبح تک رہائش پذیر رہے۔ لوگ سیاستدانوں کو اکثر برا بھلا کہتے ہیں، لیکن ڈاکٹر عباد صاحب جیسے ملنگ بھی اس دنیا میں سیاست کرتے ہیں۔ نہ پروٹوکول کی فکر، نہ بستر کی پرواہ؛ بس عمرے اور حج کے شوق میں جہاں جگہ ملی، جیسے جگہ ملی، ڈیرے لگا لیے۔

اب تو ناصر قریشی سے دوستی سے بڑھ کر بھائیوں والا رشتہ بنا ہے۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جس نے پتہ نہیں کتنے حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کو مکہ میں پناہ دی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر مانسہرہ میں ہیرے کی کوئی کان ہوتی، تو وہاں ناصر قریشی ایک نایاب ہیرا ہوتا، بلکہ اس سے بھی زیادہ بیش قیمت۔ اللہ ان کی زندگی میں امن، سکون اور عافیت کی بہاریں تا قیامت اور اس کے بعد بھی جاری رکھے۔ دل ان کا مٹی کا ہے مگر خوبیاں ہیرے جواہرات والی ہیں۔ مجال ہے جو ان 15 سالوں میں کبھی انہوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ کہا ہو۔ البتہ اپنے گاؤں کے حوالے سے بہت فکر مند رہتے ہیں۔ جتنے نشیب و فراز ناصر نے سعودیہ میں دیکھے ہیں، شاید ہی کسی نے دیکھے ہوں۔

انہیں کے در سے میں روانہ ہوا اپنی والدہ کے حج کے لیے۔ میں بہت خوش تھا، والدہ آنکھوں کے سامنے تھیں۔ ان کے نام کا احرام پہنا ہوا تھا اور چہرے پر انہی کی روحانیت نے جگہ لی ہوئی تھی۔ میں بارہا آسمان کو دیکھ کر اپنی والدہ کو یاد کر رہا تھا؛ کبھی لبیک، کبھی "بیبی”۔ وہ جب کہتیں "قربان!” تو میں مکمل ہو جاتا۔ شاید وہ جنت میں میرے لبیک کی آواز سن رہی ہوں گی۔

عرفات میں کھڑے لوگ اپنی حاجتیں مانگ رہے تھے اور میں اپنی بیبی کو والہانہ انداز میں یاد کر رہا تھا۔ وہ تو گویا میرے ساتھ تھیں!

کبھی سوچتا ہوں تو خود پر حیرت ہوتی ہے کہ مجھ جیسا ناقص آدمی اس قابل کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ حج نہیں، ایک خوبصورت خواب تھا، ہے اور رہے گا اور میں ایسے خواب سے ہزاروں لاکھوں سال بعد بھی اٹھنا نہیں چاہوں گا۔

حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے لختِ جگر اسماعیل علیہ السلام کے لیے انہی مکہ کے پیاسے پہاڑوں میں دوڑی تھیں، اور آج ایک بیٹا اپنی ماں کے لیے مکہ مدینہ میں دیوانہ وار، خوشی سے لبریز، آنکھوں میں آنسو لیے اپنی بیبی کے لیے دوڑ رہا تھا۔

میرا یقین جانیے، میری بیبی کو اس حج کی ضرورت شاید نہ ہو، مجھے تھی۔ میں اپنے نامہِ اعمال میں رسول اللہ ﷺ والی سنت کے ساتھ حجِ قران کرتے ہوئے کچھ نیکیاں رکھنے کی جستجو میں تھا۔ مجھے یہ لالچ دنیائے فانی کی ہر اعلیٰ ترین شہرت اور دولت سے بڑھ کر لگتا ہے۔

کیسے گزرے وہ عرفات و مِنی کے دن اور مزدلفہ کی رات، یہ میں بیان نہ کر پاؤں گا۔ میرے علم کی ڈکشنری میں اتنی سکت نہیں اور نہ میرے پاس ایسے لفظ اور جملے ہیں جو ان ساعتوں کا احاطہ کر پائیں۔ بس یہی کہوں گا: الحمد للہ ثم الحمد للہ۔

ایک موقع پر سعی کے دوران تو ایسا لگا جیسے بیبی نے ہاتھ سے تھام لیا ہو۔ کعبے کا فرش اکثر اے سی کی وجہ سے بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور پیروں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ بیبی کے حج کا خیال آتے ہی میرے پیر پھر سے اس درد کے لیے تڑپنا شروع ہو جاتے ہیں۔

حجِ قران میں قربانی حضرت سرکارِ دو جہاں محمد ﷺ کی طرح خود کرنے کا اشتیاق تھا، دعائیں مانگیں اور اللہ نے اس کا سبب ناصر قریشی کو بنایا۔ وہ کریم ذات پھر پہلے سے لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے۔ آہ! شکریہ میرے رب، شکریہ ناصر قریشی! میں تو مکہ کے شہر میں تمہارے احسانات گن بھی نہ پاؤں۔

قربانی کی، اللہ نے والدہ کے لیے حج کا فریضہ سرانجام دیا اور جب واپسی پر گھر آیا، تو ایسا والہانہ استقبال ہوا کہ گاؤں میں والدہ کی بہنیں چمٹ کر پہلے روئیں، پھر ایک فخر دیکھا ان کی آنکھوں میں۔

اللہ میری ماں کو اور سب ماؤں کو جنت میں اس جگہ پہ بسائے جو تجھے اچھی لگتی ہے، میرے رب!

طالبِ دعا: بیبی تمہارا رحیم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے