بلوچستان میں بھٹکتے ہوئے تاجر کا قتل

کراچی کا ایک تاجر، علی جمیل، اپنی بیوی اور دو چھوٹی بچیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے واپس کراچی جانےکیلئے نکلا۔ اُس کا خیال تھا کہ اپنا ملک ہے، اپنی شاہراہیں ہیں، اپنے لوگ ہیں، اِس سے اچھا سفر بھلا کیا ہوگا۔ بلوچستان میں تو ویسے بھی مہمانوں کو سر پر بٹھایا جاتا ہے اور بچیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اسی قسم کے ’ملحدانہ‘ خیالات ذہن میں رکھ کر اُس نے اپنی گاڑی کراچی جانے والی شاہراہ پر چڑھا دی۔ شومئی قسمت کہ راستہ بھٹک گیا۔ رات کا وقت تھا۔ گوگل میپ انہیں ادھر ادھر بھگاتا رہا اور پھر وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے جہاں نہ کسی کو مہمان سمجھا جاتا ہے اور نہ بیٹیوں کو سانجھا۔ چند مسلح افراد اُس کی گاڑی کو روکتے ہیں۔

اپنی بندوقوں کے دہانے کھولتے ہیں اور اُس کی روتی پیٹتی بیوی اور خوف سے کانپتی ہوئی دو ننھی بچیوں کے سامنے اُسے گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ کچھ گولیاں اُس کی بے بس بیوی کے جسم کو بھی چیر کر نکل جاتی ہیں جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتی ہے۔ بچیاں البتہ زندہ بچ جاتی ہیں مگر ایسی کہ مُردوں سے بدتر، ساری عمر کیلئےیہ خوف اُن معصوموں کے دماغ سے نہیں نکل پائیگا کہ اُنکے باپ کو اُنکی آنکھوں کے سامنے کچھ وحشی درندوں نے قتل کیا تھا۔ مقتول کا قصور؟ صرف یہ کہ وہ ’بلوچی‘ نہیں تھا بلکہ ’باہر کا بندہ‘ تھا۔ سنا ہے اس بہیمانہ قتل کی ذمہ داری بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) نے فخر سے قبول کر لی ہے۔

علی جمیل نے بھی بلوچوں کے بارے میں یقیناً وہی تمام مثبت باتیں سنی ہوں گی جو آپ اور میں بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ یہ غیور ہیں، مہمان نواز ہیں، عورتوں کی عزت کرتے ہیں…یقیناً انکی اکثریت ایسی ہی ہوگی، مگر اُس اکثریت کو اب کوئی نہیں پوچھتا۔ اب تو یہ حال ہے کہ کسی بلوچ کو بلوچی کہہ دیں تو وہ آپے سے یوں باہر ہو جاتا ہے جیسے اُس کی توہین ہو گئی ہو۔ یہ عجیب اور حیرت انگیز رویہ ہے جو اب سوشل میڈیا سے لے کر گلی کوچوں تک نظر آتا ہے۔ کوئی بندہ ہمارے اِن بہن بھائیوں کو سمجھائے کہ ہم پنجاب میں رہنے والے اور پنجابی زبان بولنے والے کو عام فہم اردو میں ’پنجابی‘ کہتے ہیں اور سندھ کے باسی کو ’سندھی‘۔ اس سادہ لسانی اور جغرافیائی شناخت میں کسی کی توہین کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔

ہم خود کو پنجابی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں تو لفظ "بلوچی” کہنے سے آپکی کون سی توہین ہو گئی؟ مگر نجانے کیوں یار لوگ اسے شناخت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات انہیں Offensive لگتی ہے۔ یہ لفظ ویسے بھی آج کل خاصا اِن ہے۔ لیکن یہاں معاملہ لسانی باریکیوں کا نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی الجھن کا ہے۔ یہ عجیب ’شناخت کا مسئلہ‘ ہے جو حل ہونے میں ہی نہیں آتا۔ اگر دنیا کا ہر قبیلہ اور قوم اپنی شناخت کا مسئلہ بندوق اٹھا کر اور دوسروں کے گلے کاٹ کر حل کرنےلگ جائے تواس زمین پر صرف جنگل کا قانون ہی باقی بچے گا۔

شناخت دلوں میں ہوتی ہے، اپنے اخلاق اور اپنے کردار میں ہوتی ہے، معصوم بچوں کے سامنے انکے باپ کو قتل کر دینے سے کوئی شناخت معتبر نہیں ہوتی بلکہ وہ تاریخ کے صفحات پر قاتل اور سفاک کے نام سے درج ہو جاتی ہے۔بلوچستان کے معاملے پر پنجابیوں کو یہ طعنہ دیا جاتا تھا/ہے کہ وہ اُن کے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کرتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان کے بارے میں پنجاب کے جینوئن دانشوروں نے ہمیشہ بلوچوں کا مقدمہ لڑا۔ میرا اپنا نقطہ نظر بھی یہی تھا کہ ہمارے بلوچ بھائی بہن ریاست سے جو بھی مطالبات کرتے ہیں وہ مِن و عن پورے کرنے چاہئیں، آخر کوئی شوقیہ تو بندوق نہیں اٹھاتا۔ مگر اب میرے خیالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ لاپتا افراد کا ہے، نہ وسائل کی کمی اور نہ احساس محرومی کا۔ یہ کھلی اور ننگی دہشت گردی ہے، اسکے سوا اور کچھ نہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر بی ایل اے جیسا گروہ ہو جو حریت پسندی کے نام پر یوں کھلے عام شہریوں کا قتل عام کرے، ٹرینیں اغوا کرے، شاہراہوں پر گاڑیاں روکے اوراُن میں سوار لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں گولیاں مارے، شہروںمیںاندھا دھند بم دھماکے کرے،تو اُس ملک کی ریاست ایسے گروہ کو نشانِ عبرت بنا دے گی۔

دنیا میں کوئی اسے آزادی کی جنگ کہہ کر قبول نہیں کرئیگا۔ کیا انسانی حقوق کی تحریکیں اتنی بانجھ اور سفاک ہوتی ہیں کہ وہ معصوم بچیوں کے سامنے اُنکے باپ کا بھیجا اڑانے والوں کو سرمچار کہہ کر عظمت کے مینار پر بٹھا دیں ؟ یہ حقوق کی جنگ نہیں ہے، یہ خالص، ننگی اور بھیانک دہشت گردی ہے۔ جب کوئی گروہ اپنے سیاسی مطالبات اور نظریاتی جنگ کی آڑ میں عام شہریوں، مزدوروں، تاجروں،بیگناہ عورتوں اور بچوں کو صرف انکی زبان اور نسل کی بنیاد پر قتل کرنا شروع کر دیتا ہے تو اُسکی تحریک کا اخلاقی اور سیاسی جواز اُسی لمحے دفن ہو جاتا ہے۔

نام نہاد بی ایل اے نے اس تاجر کو شہید کر کے دراصل بلوچستان کے مقدمے کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا ہے۔ اُس نے اُن تمام ہمدردوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے جو اسلام آباد، لاہور یا کراچی میں بیٹھ کر انکے حقوق کی بات کرتے تھے۔ سیاسی اور عسکری حقوق کی جنگیں دنیا میں بہت سی لڑی گئیں، نیلسن منڈیلا نے بھی مسلح جدوجہد کی لیکن اُس نے کبھی کسی گوری چمڑی والے بیگناہ تاجر کو اسکے بچوں کے سامنے گولی مارنے کا حکم نہیں دیا۔

تحریکیں جب اخلاقیات سے عاری ہو جائیں تو وہ دہشت گردی کا غلاف اوڑھ لیتی ہیں۔ اِس سانحے میں بچیاں زندہ تو بچ گئی مگر اُن کی کائنات لٹ گئی۔ وہ بچیاں اب زندگی بھر جب بھی کوئٹہ کاذکر سنیں گی یا کسی بلوچی کا نام اُن کے کانوں میں پڑئیگا، اوہ معاف کیجیے گا، بلوچی نہیں بلوچ، تو انکے ذہنوں میں حقوق کی کسی تحریک کا خاکہ نہیں ابھرے گا بلکہ خون آلود سڑک اور بندوق پکڑے وہ مکروہ چہرے ابھریں گے جنہوں نے اُنکا باپ چھین لیا تھا۔

فرانسیسی انقلاب کے دوران جب روبسپیئر (Robespierre) نے عدل و انصاف کے نام پر پیرس کی سڑکوں پر عام شہریوں کے سر قلم کرنا شروع کیے تو وہ تحریک آزادی کی جنگ نہیں رہی تھی بلکہ وہ عہدِ دہشت (Reign of Terror) بن گئی تھی۔ نتیجتاً وہی عوام جو انقلاب کے نعرے لگاتے تھے انہوں نے خود روبسپیئر کو اسی گلاٹین پر چڑھا دیا جہاں وہ دوسروں کے سر کاٹتا تھا۔ اگر بی ایل اے کے نام نہاد ’سرمچاروں‘ کایہ خیال ہے کہ معصوموں کی لاشیں گرا کر وہ انقلاب برپا کر دیں گے تو یہ اُنکی خام خیالی ہے۔ چند ہزار مسلح درندے غیور اور مہمان نواز بلوچ قوم کے نمائندے ہرگز نہیں ہو سکتے۔ انکے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو نہروان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے خارجیوں کے ساتھ کیا تھا۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے