ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی دو کتابوں کی تقریبِ رونمائی

چند روز قبل اسلام آباد کلب میں ایک ادبی نشست کے دوران بعض دانشوروں نے مجھ سے سوال کیا: "کیا خیبر پختونخوا میں ادبی تنظیمیں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو دہشت گردی کی روک تھام اور سماجی شعور کی بیداری کے لیے انہوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟”

میں نے جواب میں عرض کیا کہ ایک روسی دانشور نے پختون اہلِ قلم کے بارے میں نہایت بامعنی بات کہی ہے کہ:

"پختون لکھاری طوفانوں میں اڑنے اور پھلنے والے پرندوں کی مانند ہوتے ہیں۔”

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ پختون ادب کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ معلوم تاریخ سے آج تک پختون شعراء اور ادباء نے ظلم، جبر، ناانصافی اور ہر قسم کے استحصالی نظام کے خلاف مزاحمت کا پرچم بلند رکھا ہے۔

گزشتہ تقریباً نصف صدی سے پختون معاشرہ جنگ، دہشت گردی اور بدامنی کے تلخ حالات سے دوچار رہا ہے، لیکن ان کٹھن حالات کے باوجود معیاری ادب کی تخلیق کا سفر کبھی نہیں رکا۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ادب کے فروغ، ترویج اور ترقی کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں سے لے کر قصبوں اور دیہات تک ادبی تنظیمیں نہایت سرگرمی سے مختلف نوعیت کی تقریبات منعقد کرتی رہتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی دن متعدد شہروں میں کئی ادبی پروگرام منعقد ہو رہے ہوتے ہیں، جن میں تمام شعراء، ادباء اور دانشوروں کی شرکت ممکن نہیں رہتی۔ ایسے مواقع پر اہلِ قلم مختلف تقریبات میں تقسیم ہو کر اپنی شرکت یقینی بناتے ہیں تاکہ ہر ادبی سرگرمی کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

اسی سلسلے کی ایک نہایت اہم ادبی تقریب 5 جولائی 2026ء کو سوات ادبی ملگری کے زیرِ اہتمام جہانزیب کالج (نیو کیمپس)، سیدو شریف میں منعقد ہوئی، جس میں معروف شاعر، ادیب، محقق اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی دو کتابوں، شعری مجموعہ "لپہ لونگ” اور تحقیقی و تنقیدی تصنیف "اقبال حسین افکار: فن اور ادبی خدمات” کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی۔

تقریب کی پہلی نشست کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر آباسین یوسف زئی نے کی، جبکہ سابق صوبائی وزیر واجد علی خان مہمانِ خصوصی تھے۔ اس نشست کے پریزیڈیم میں سابق سینیٹر مولانا راحت حسین، معروف صحافی فیاض ظفر، اقبال حسین افکار، ڈاکٹر حیدر یوسف زئی، ڈاکٹر عثمان اولس یار، محمد جمیل خان کاچوخیل، ڈاکٹر نورالبصر امن، ڈاکٹر اقبال شاکر اور دیگر ممتاز شخصیات شریک تھیں۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد سوات ادبی ملگری کے صدر نذیر احمد نذیر نے مہمانوں اور شرکائے محفل کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام اداروں اور شخصیات، بالخصوص جہانزیب کالج، میڈیا نمائندگان اور دور دراز علاقوں سے تشریف لانے والے شعراء و ادباء کا شکریہ ادا کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی تحقیقی و تنقیدی کتاب "اقبال حسین افکار: فن اور ادبی خدمات” کی باوقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں شریف الرحمٰن شریف، بریال یوسف زئی، ڈاکٹر اقبال شاکر، مولانا راحت حسین، فیاض ظفر اور دیگر مقررین نے کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصنف کی علمی و تحقیقی کاوش کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔

مقررین نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ ایک متحرک اور فعال ادیب کی حیات ہی میں اس کی ادبی، فکری اور عملی خدمات کو تحقیقی انداز میں قلم بند کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ روایت نہ صرف ادبی دنیا کے لیے باعثِ مسرت ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی علمی سرمایہ ثابت ہوگی۔
جناب ظفر علی ناز، نسیم علی نسیم اور الیاس ثاقب نے منظوم کلام کے ذریعے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد سے نوازا۔

مہمانِ خصوصی واجد علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال حسین افکار ہمارے عہد کے ترقی پسند اور روشن فکر شاعر و ادیب ہیں، جنہوں نے ظلم، جبر، طبقاتی استحصال، مساوات اور سماجی انصاف جیسے موضوعات کو نہایت جمالیاتی انداز میں اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا۔ انہوں نے صرف قلمی خدمات ہی انجام نہیں دیں بلکہ ادب کے فروغ، ترویج اور ارتقا کے لیے عملی سطح پر بھی گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔ ایسے لوگ جو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اپنی زبان، ادب اور تہذیب کی خدمت کرتے ہیں، قدرت ان کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتی۔ انہوں نے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے عہد کے ایک فعال اور متحرک ادیب کی ادبی و فکری خدمات کو تحقیقی و تنقیدی انداز میں محفوظ کرکے آئندہ نسلوں پر بڑا احسان کیا ہے۔

صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر آباسین یوسف زئی نے سوات ادبی ملگری کی اس قابلِ قدر کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ شاعر انسانی دل کو متاثر کرتا ہے، جبکہ نثر نگار ذہن کی آبیاری کرتا ہے، اور ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء اپنی شاعری اور تحقیق، دونوں کے ذریعے بیک وقت روحانی اور فکری توانائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عطاء کے تین شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جنہیں ادبی اور عوامی حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وہ ہمارے عہد کے ایک رومان پرور ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پسند شاعر بھی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے تحقیق و تنقید کے میدان میں پہلے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، تاہم "اقبال حسین افکار: فن اور ادبی خدمات” کی اشاعت کے ذریعے انہوں نے ایک نئی علمی روایت کی بنیاد رکھی ہے، جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اس موقع پر اقبال حسین افکار نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پشتو ادب میں تخلیق اور تحقیق کے میدان میں جدید رجحانات کو فروغ دینے والی شخصیات بہت کم ہیں، اور ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء ان معدودے چند اہلِ قلم میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پانچ رپورتاژ مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، لیکن پہلی مرتبہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء نے ان کی ادبی خدمات، خصوصاً روداد، رپورتاژ اور صحافتی تحریروں کو باقاعدہ تحقیقی مطالعے کا موضوع بنایا ہے، جس سے آئندہ آنے والے محققین اور نوجوان لکھنے والوں کے لیے نئی راہیں متعین ہوں گی۔

انہوں نے ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ غنی خان کی شہرۂ آفاق انگریزی کتاب پہلی مرتبہ پاکستان میں ان کی نگرانی میں شائع ہوئی تھی۔ جب وہ اس کا پہلا نسخہ غنی خان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو غنی خان نے اس پر یہ الفاظ تحریر کیے:

"یہ کتاب میں اپنے بھائی افکار خان کے نام پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب کی اشاعت نے مجھے جتنی خوشی دی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے بھی بڑھ کر بے شمار خوشیوں سے نوازے۔”

اقبال حسین افکار نے کہا کہ آج وہی دعا وہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کے لیے بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی علمی و ادبی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں مزید عزت، وقار اور کامیابیوں سے نوازے۔

تقریب کی دوسری نشست کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل نے کی، جبکہ ڈاکٹر نورالبصر امن اور عوامی شاعر منیر بونیری مہمانانِ خصوصی تھے۔ اس نشست میں ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کے شعری مجموعے "لپہ لونگ” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر احسان یوسف زئی، ارشاد یوسف زئی اور ڈاکٹر نورالبصر امن نے کتاب پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے، جبکہ حنیف قیس نے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی نذر ایک خوب صورت مسدس پیش کیا۔

عوامی شاعر منیر بونیری نے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور بعد ازاں اپنے کلام سے محفل کو گرما دیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء نے سوات ادبی ملگری، جہانزیب کالج کی انتظامیہ، بالخصوص ڈائریکٹر نعمت اللہ خان، تمام معاونین، میڈیا نمائندگان اور دور دراز سے تشریف لانے والے شعراء و ادباء کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی روز مینگورہ میں عوامی احتجاج بھی جاری تھا اور ایک سیاسی رہنما کے گھر دہشت گردی کا افسوس ناک واقعہ بھی پیش آیا تھا، اس کے باوجود مقامی صحافیوں نے تمام مصروفیات کے باوجود تقریب کی بھرپور کوریج کی، جس پر وہ ان کے تہہ دل سے ممنون ہیں۔

صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل نے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک منجھے ہوئے شاعر، محقق اور نقاد ہیں، جن کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتیں مسلمہ حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ الپوری کی شخصیت اور فن پر ان کی تحقیقی کاوش، جو اکادمی ادبیات پاکستان کے حوالے سے ہے، جلد منظرِ عام پر آئے گی۔ اسی طرح عبدالرحیم روغانی کی شاعری میں رومانیت، پشتو ٹپہ اور پشتون ولی، سوات کی ادبی تنظیموں کی خدمات، سوات کی خواتین شعراء اور دیگر اہم موضوعات پر ان کی تحقیقی تصانیف نہایت وقیع علمی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء کا پی ایچ ڈی تحقیقی مقالہ "طاہر آفریدی کے افسانوں میں حقیقت نگاری” بھی پشتو تحقیق میں ایک اہم اضافہ ہے۔ زیرِ بحث کتاب خود اقبال حسین افکار کے لیے بھی اعزاز ہے اور سوات ادبی ملگری بھی اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارک باد کی مستحق ہے۔

انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء نے جہانزیب کالج کے شعبۂ پشتو میں اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے دوران پشتو ادب کی متعدد اہم شخصیات پر بی ایس سطح کے تحقیقی مقالات کی رہنمائی کی، جنہیں دیگر اداروں نے نظر انداز کیا تھا۔ ان کے بقول ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء محض ایک شاعر نہیں بلکہ استاد شاعر ہیں، اور ان کی علمی و تحقیقی خدمات اس امر کی متقاضی ہیں کہ جامعات میں ان کے فن اور شخصیت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر مزید تحقیقی کام کیا جائے۔

تقریب کی دونوں نشستوں کی نظامت معروف شعراء سمیع اللہ گران، عدنان سہیل گل اور نور حسین خادم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ حنیف قیس نے عدنان سہیل گل کے تعاون سے حاضرین کو کتابیں خریدنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں متعدد شرکاء نے موقع ہی پر کتابیں خریدیں۔ اس دوران بخت تاجہ نامی ایک بچی اور ایک بچے نے بھی اپنی جیب خرچ سے پندرہ، پندرہ سو روپے مالیت کی کتابیں خریدیں۔ یہ منظر دیکھ کر معروف سینئر صحافی فیاض ظفر نے منتظمین سے کہا کہ ان دونوں بچوں کی کتابوں کی قیمت وہ خود ادا کریں گے۔ ان کے اس جذبے کو حاضرین نے بے حد سراہا۔

تقریب، جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، نہایت کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ آخر میں شرکائے محفل کی چائے اور بسکٹ سے تواضع کی گئی۔

بعد ازاں عشائیے کا بھی اہتمام تھا۔ جناب فیاض ظفر نے خصوصی دعوت دی تھی اور ڈاکٹر عثمان اولس یار عارضۂ قلب کے باوجود رات گئے تک منتظر رہے، لیکن اسی دوران چند شاعر دوست مجھے اور ڈاکٹر حنیف خلیل کو محبت بھرے انداز میں مرغزار کی حسین وادی کی سیر کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں پُرفضا ماحول میں عشائیہ ہوا، تھکن بھی دور ہوئی اور اس کے بعد ایک خوب صورت غیر رسمی شعری نشست سج گئی، جس میں نعمت اللہ فیض، عمران تراوت، عالم زیب حشمت، نور حسین خادم، شوکت خزان، ڈاکٹر احسان یوسف زئی، ڈاکٹر عطاء الرحمٰن عطاء، ڈاکٹر حنیف خلیل اور راقم اقبال حسین افکار نے شرکت کی۔ یوں یہ یادگار ادبی دن خوش گوار یادوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے