ہاتھی اڑ سکتا ہے

آج کل بہت گرمی ہے۔ ایسی گرمی میں کسی سے بات کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا ہے۔ مجبوراً ہی بات کرنی پڑتی ہے۔ بس میں سفر کی تھکان اور پسینے کی بدبو آدمی کو پریشان کر دیتی ہے اور وہ بھی اگر دوسرے کی ہو تو جینا حرام کر دیتی ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ اگر ایسے میں کوئی آدمی بحث کرنے لگے تو گرمی کے ساتھ لو لگنے کا احساس بھی ہونے لگتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں دوسرے کی بات کو نہ ماننے کا ایک مستند ٹرینڈ بن چکا ہے۔ ایسے لوگ جو دوسرے کی بات نہیں مانتے ہیں ان پر حبیب جالب کا مصرعہ فٹ بیٹھتا ہے کہ

میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

پچھلے دنوں بس میں ایک صاحب مل گئے۔ فرمانے لگے موبائل فون اچھی چیز نہیں ہے۔ میں نے بھی ان کے احترام میں گردن ہلا دی۔ پھر گویا ہوئے کہ نوجوان نسل موبائل کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے۔ میں نے کہا درست فرمایا آپ نے۔ فوراً مجھے گھور کر دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کر کہنے لگے۔ اب بچارے کریں بھی تو کیا کریں۔ ہمارے نوجوانوں کے پاس کوئی اور مشغلہ بھی تو نہیں ہے۔

ابھی میں کچھ کہنا ہی چاہ رہا تھا تو بولے کہ آپ اداس لگ رہے ہیں۔ میں نے کہا نہیں بس تھک گیا ہوں۔ کہنے لگے یار منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے۔ جیب سے اچھا سا اسمارٹ فون نکال کر کہنے لگے کہ کبھی کبھی موبائل پر ریل بھی دیکھ لیا کرو۔ غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

وہ صاحب میری ہر بات کو رد کر رہے تھے۔ مجھے بھی غصہ آگیا۔ میں نے کہا کہ یہ غالب کا نہیں بلکہ ناسخ کا شعر ہے۔ انھوں نے مجھے پھر گھور کر دیکھا اور کہنے لگے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ برخوردار میں نے ایم اے اردو کیا ہوا ہے۔ شعرو شاعری آج کل کے نوجوانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا جناب مجھے معلوم ہے۔ یہ شعر ناسخ کا ہے۔ وہ ایکدم کھڑے ہوگئے۔ تھوڑی دیر کو تو مجھے یوں لگا کہ مجھ پر چڑھ دوڑیں گے۔ کہنے لگے میرا اسٹاپ آگیا ہے ورنہ پورا دیوان۔ غالب سنا دیتا لیکن یہ غالب کا ہی شعر ہے۔ میں نے بھی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وہ صاحب بس سے اتر گئے۔

سمجھ میں نہیں آتا ہےکہ ہر آدمی بلا وجہ بحث کرنے اور پھر اس بحث کو جیتنے کی کوشش میں کیوں لگا رہتا ہے۔ رکشے والا ہو یا کوئی افسر ڈاکٹر ہو یا فلم پروڈیوسر ہر آدمی خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہوا ہیں۔

مجھے ایک اور پرانہ واقعہ بھی یاد آرہا ہے۔ کراچی کی بسوں میں اس طرح کے عجیب و غریب واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک انکل بس میں چڑھے اور کچھ نوجوانوں کو مخاطب کرکے چیخنے چلانے لگے کہ آج کل کے نوجونوں کو کیا ہوگیا ہے۔ نہ کسی کام کے بلکہ دشمن اناج کے ۔ہر وقت بیٹھے اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتے رہیں۔ نوجوان ہنسنے لگے۔ انھوں نے انکل کی بات کو نظر انداز کردیا۔ اگر آج کا دور ہوتا تو بحث بڑھ جاتی اور ممکن ہے وہ انکل کا آخری دن ہوتا۔ کچھ دنوں بعد میرا اسی بس میں دوبارہ بیٹھنا ہوا۔ تو بس کی دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ نوجوان نسل کی سب سے بڑی دشمن مادھوری ڈکشٹ۔مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کارنامہ انھی انکل کا ہوگا جو نوجونوں کو برا بھلا کہ رہے تھے مگر خود مادھوری ڈکشٹ کے فین تھے۔

سادہ لوگوں کا بھی بڑا المیہ ہے۔ دنیا انھیں پسند کرتی ہے مگر اس وقت تک جب تک وہ معاشرے کے خلاف نہیں جاتے۔جس دن انھوں نے سامنے والے سے ذرا سا بھی اختلاف کرلیا لوگ دشمنی پر اتر آتے ہیں۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ اسکول ,کالج ,یونیورسٹی, تعلیمی ادارے, ادبی محفلوں مشاعروں اور ایوان بلکہ ہر جگہ لوگ بحث کرتے ہیں۔ ہماری سوسائیٹی جس کی لاٹھی اس کی بھینس Might Is Right پر چل رہی ہے۔ جو بحث کرتا ہے یا کرسکتا ہے وہی محفل کی جان ہوتا ہے۔ لوگ اسی سے ڈرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سامنے والے کی بات کو ماننے کا رواج ہی نہیں ہے۔بس ہر آدمی اپنی بات کو ہی منوانا چاہتا ہے۔

سادہ لوگوں کا یہ بھی مسئلہ ہے کہ ان پر گھر کا دباؤ بھی بہت ہوتا ہے۔ گھر سے باہر ان کی کوئی سنتا نہیں ہے اور گھر والے کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کو جواب کیوں نہیں دیتے ۔ وہ ایک سنائیں تو آپ دس سنائیں۔ وہ ہاتھ اٹھائے تو آپ ہاتھ ہی توڑ دیں۔ اب گھر والوں کو یہ کون سمجھائے کہ ہر آدمی کا ہاتھ سنی دیول کی طرح ڈھائی کلو کا نہیں ہوتا جو سامنے والے کا بھرتا ہی بنادے ۔ہمارے ایک دوست نے اسمارٹ بننے کی کوشش میں یہی غلطی کی اور گھر والوں کے پریشر میں آکر ایک آدمی سے لڑ لیے اور اپنا ہاتھ ہی تڑوا بیٹھے۔ گھر والوں نے ماجرا سنا تو بجائے ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے کہنے لگے ہائے ہائے کیا ضرورت تھی لڑنے جھگڑنے کی غنڈے موالیوں سے۔اب جائیں تو جائیں کہاں۔؟ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر کٹنا تو خربوزے کی قسمت میں ہی لکھا ہے۔

پچھلے دنوں بمبئی کی ایک لوکل ٹرین میں ایک حادثے کی خبر سنی۔جو بعد میں سوشل میڈیا پر دیکھی ۔ ایک نوجوان خوبصورت لڑکا ٹرین میں چڑھا۔ وہاں ایک اور آدمی پہلے سے ٹرین کے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ نوجوان نے اس سے کہا کہ دروازہ بند کرو۔ بارش کا پانی اندر آرہا ہے۔ اس آدمی نے انکار کردیا اور اس بات پر بحث شروع ہوگئی۔ بات اتنی بڑھی کہ آدمی نے اپنے بیگ سے چاقو نکالا اور لڑکے کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ ٹرین کے ڈبے میں خون پھیل گیا اور اس بحث و تکرار کی وجہ سے ایک معصوم نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔

لوگوں میں برداشت ختم ہوتی جارہی ہے۔آئے دن سوشل میڈیا پر لڑائی جھگڑوں کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔ امیر ہو یا غریب سب کا یہی حال ہے۔ ایک دوسرے کو تنگ کرنا۔ مذاق اڑانا محفلوں میں ٹارگٹ کرنا عام سی بات ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر کسی کا مذاق اڑایا جائے گا۔اسے بلا وجہ تنگ کیا جائے گا تو اس کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔ بردشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔آدمی کسی پریشانی میں ہو اور کسی دن غصے میں آکر وہ کسی کی گردن ہی اڑادے تو پھر کوئی کیا کرلے گا ؟ آپ کا ہنسی مذاق آپ کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ دفاتر شاپنگ مال یا دیگر محکموں میں کسی کو تنگ کرنے کے حوالے سے کوئی قانون ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا ہے۔

اگر آپ ڈرپوک ہیں۔ کسی سے لڑنے کی ہمت نہیں رکھتے تو آج کل کے دور میں یہ بھی ایک پلس پوائنٹ ہے ۔کیوں کہ ذرا سی دیر میں لڑائی جھگڑے سے نکلنے والی چنگاری کب خوفناک آگ میں تبدیل ہو جائے یہ کسی کو نہیں معلوم ۔اس لیے بہتر ہے کہ اگر کوئی آپ سے بحث کرے تو آپ پتلی گلی سے نکلنے کی کریں۔ جان ہے تو جہان ہے ۔آپ ہیں تو آپ کے بچے بھی ہیں۔ بلا وجہ سپر مین اور ٹارزن بننے کی کوشش نہ کریں۔

کامیڈین کپل شرما نے بڑی خوبی صورت بات کہی ہے کہ کسی آدمی سے بحث نہیں کرنا چاہیےکوئ آدمی آپ سے کہے کہ ہاتھی اڑتا ہے تو الٹا اسے بولیے کہ ہاں آج صبح اڑ کر ہماری کھڑکی پر بیٹھا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے