داتا گنج بخشؒ: علم اور محبت کا لازوال سفر

لاہور کی تاریخ اور پہچان حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے، جنہیں دنیا عقیدت سے”داتا گنج بخش“ کہتی ہے۔ آپ کی شخصیت صرف ایک بزرگ کی نہیں تھی، بلکہ آپ ایک عظیم استاد اور رہنما تھے جنہوں نے برصغیر کے لوگوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے غزنی سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی لاکھوں انسانوں کے دلوں کو روشن کر رہا ہے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ کی پیدائش چوتھی صدی ہجری کے آخری سالوں (تقریباً 990ءیا 1009ء) میں افغانستان کے شہر غزنی کے ایک محلے”ہجویر“ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے تھا۔ آپ کا شجرہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والدین بہت نیک اور دیندار تھے، اسی لیے آپ کی تربیت بہت اچھے اور علمی ماحول میں ہوئی۔

داتا صاحبؒ نے بچپن ہی سے دین کا علم حاصل کرنا شروع کیا۔ آپ نے قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم مکمل کی اور پھر روحانی علم کے لیے اپنے استاد حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلیؒ کے مرید بنے۔ اپنے مرشد کے حکم پر آپ نے علم کی پیاس بجھانے کے لیے بہت سے ملکوں کا سفر کیا۔ آپ شام، عراق، بغداد، نیشاپور اور خراسان جیسے علاقوں میں گئے۔ ان طویل سفروں کے دوران آپ نے اس وقت کے بڑے بڑے عالموں اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں اور علم حاصل کیا۔داتا علی ہجویریؒ کا لاہور آنا ایک خاص مقصد کے تحت تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب آپ کے مرشد نے آپ کو لاہور جانے کا حکم دیا، تو آپ نے عرض کیا کہ وہاں تو پہلے ہی ہمارے ایک پیر بھائی حضرت شیخ حسین زنجانیؒ موجود ہیں، پھر مجھے کیوں بھیجا جا رہا ہے؟ مرشد نے فرمایا: ”تم جاو¿، تمہیں وہاں پہنچ کر جواب مل جائے گا۔“

چنانچہ 1039ءمیں آپ لاہور پہنچے۔ جس رات آپ لاہور آئے، اسی رات حضرت شیخ حسین زنجانیؒکا انتقال ہو گیا۔ اگلی صبح داتا صاحبؒ نے ہی ان کا جنازہ پڑھایا۔ اس طرح آپ کو اپنے مرشد کی بات سمجھ آگئی۔ اس دور کا لاہور اجڑا ہوا تھا اور یہاں کے لوگ جہالت، خوف اور ذات پات کے سخت نظام میں جکڑے ہوئے تھے۔لاہور پہنچ کر آپ نے بھاٹی دروازے کے پاس قیام کیا اور سب سے پہلے ایک سادہ سی مسجد اور خانقاہ بنائی۔ جب مسجد بن رہی تھی تو کچھ غیر مسلموں نے اعتراض کیا کہ اس کا رخ درست نہیں ہے۔ داتا صاحب ؒنے مسجد کی دیوار مکمل ہونے پر لوگوں کو بلایا اور فرمایا کہ مہراب کی طرف دیکھو۔ جب انہوں نے دیکھا تو ان کی آنکھوں کے سامنے سے پردے ہٹ گئے اور انہیں براہِ راست مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ نظر آنے لگا۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔

اسی زمانے میں لاہور کا ایک مشہور ہندو جوگی”رائے راجو“ لوگوں کو اپنے جادو سے ڈرا کر لوٹتا تھا۔ اس نے داتا صاحبؒ کی مقبولیت دیکھ کر آپ کو چیلنج کیا۔ داتا صاحبؒ نے اپنی سچائی، اچھے اخلاق اور روحانی طاقت سے اس کا جادو ختم کر دیا۔ رائے راجو آپ کے اخلاق سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنے ساتھیوں سمیت مسلمان ہو گیا۔ داتا صاحبؒ نے اس کا نام”شیخ ہندی“ رکھا اور ان کی قبر آج بھی داتا دربار کے اندر موجود ہے۔آپ کو”گنج بخش“ (خزانے بانٹنے والا) کا لقب آپ کی وفات کے بہت بعد ملا۔ آپ کے وصال کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد برصغیر کے ایک اور مشہور بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ (غریب نواز) لاہور آئے۔ انہوں نے داتا صاحبؒ کے مزار پر چلہ کاٹا اور عبادت کی۔ وہاں سے جاتے ہوئے انہوں نے عقیدت میں یہ مشہور شعر پڑھا:

گنج بخش فیضِ عالم، مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما

(یعنی داتا صاحب پوری دنیا کے لیے خزانے بانٹنے والے اور خدا کے نور کی نشانی ہیں۔ کم علم لوگوں کے لیے پورے استاد اور کامل لوگوں کے رہنما ہیں)۔ اس دن کے بعد سے آپ کا نام داتا گنج بخش مشہور ہو گیا۔داتا صاحبؒ صرف دین پھیلاتے ہی نہیں تھے بلکہ آپ ایک بہترین لکھاری بھی تھے۔ آپ کی لکھی ہوئی کتاب ”کشف المحجوب“ (جس کا مطلب ہے چھپی ہوئی حقیقتوں کو کھولنا) فارسی زبان میں صوفی ازم پر لکھی گئی دنیا کی پہلی کتاب ہے۔

اس کتاب کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ”اگر کسی کا کوئی استاد یا مرشد نہ ہو، تو وہ کشف المحجوب پڑھ لے، یہ کتاب اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کے لیے کافی ہے“۔حضرت داتا گنج بخشؒ نے اپنی زندگی کے آخری 34 سال لاہور میں گزارے اور یہیں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کا مزار آج بھی لاہور کے دل میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں لوگ بغیر کسی فرق کے آتے ہیں، لنگر کھاتے ہیں اور سکون پاتے ہیں۔ داتا صاحبؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے کو طاقت یا تلوار سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق، عاجزی اور محبت سے جیتا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے