جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ کی پرچی میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ اعتماد متزلزل ہونے لگے تو انتخابی عمل اپنی تمام تر چہل پہل کے باوجود محض ایک رسمی کارروائی محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی کیفیت 27 جولائی کو آزاد کشمیر کی میرپور ڈویژن میں منعقد ہونے والے انتخابات کے دوران بھی دکھائی دی، جہاں 130 نشستوں پر پولنگ تو ہوئی، مگر عوامی جوش و خروش وہ نہ تھا جو کسی زندہ اور متحرک جمہوری معاشرے کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے، نتائج بھی سامنے آگئے، مگر ان نتائج سے زیادہ بحث اس خاموشی نے سمیٹی جو پولنگ اسٹیشنوں کے باہر نظر آئی۔ مختلف ذرائع نے ٹرن آؤٹ 35 سے 40 فیصد یا اس سے بھی کم بتایا۔ اگر ایسا ہے تو یہ صرف ایک انتخابی عدد نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی پیغام ہے۔ یہ اس بڑھتی ہوئی مایوسی کی علامت ہے جو عوام کے دلوں میں برسوں سے کیے گئے وعدوں، ادھورے منصوبوں اور حل طلب مسائل کے باعث جنم لے چکی ہے۔
عوام نے صرف ووٹ نہیں روکا، بلکہ شاید اپنے اعتماد کا اظہار بھی روک لیا۔ جب لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا ووٹ ان کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا رہا تو خاموشی بھی احتجاج کی ایک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی خاموش احتجاج شاید اس انتخاب کا سب سے بڑا نتیجہ ہے۔
انتخابی عمل کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھی گردش کرتی رہیں جن میں بعض پولنگ اسٹیشنوں کے حوالے سے بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے۔ ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ شفافیت پر معمولی سا شبہ بھی عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ جمہوریت کا حسن صرف نتائج میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہوتا ہے کہ ہر ووٹ آزادانہ طور پر ڈالا گیا اور دیانت داری سے شمار کیا گیا۔
لیکن انتخابات سے بھی بڑا سوال وہ خون ہے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران آزاد کشمیر کی سرزمین پر بہا۔ راولاکوٹ، میرپور اور دیگر علاقوں میں احتجاجی تحریک کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ نوجوان نہ کسی اقتدار کی جنگ لڑ رہے تھے اور نہ ہی کسی ذاتی مفاد کے اسیر تھے۔ وہ عام گھروں کے بیٹے تھے، جن کے خواب بھی عام لوگوں جیسے تھے؛ روزگار، عزت، بہتر مستقبل اور بنیادی حقوق۔
کسی بھی ریاست کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے کہ اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے حالات ایسے کیوں بنے کہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اگر ان واقعات میں کہیں قانون سے تجاوز ہوا یا طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا گیا تو اس کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داری کا تعین ہو اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔
9 جولائی سے اب تک جو کچھ ہوا، اس نے ایک بنیادی سوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ کیا عوام کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا گیا؟ اگر ریاستی وسائل اور انتظامی توانائیاں سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل کے حل، مذاکرات اور اعتماد سازی پر صرف کی جاتیں تو شاید حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ طاقت وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف انصاف اور مکالمے سے ہی قائم ہوتا ہے۔
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ عام آدمی آج یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ فیصلے آخر کون کر رہا ہے؟ کیا منتخب حکومت واقعی بااختیار ہے یا ریاستی معاملات کہیں اور سے طے ہوتے ہیں؟ جب عوام کے ذہنوں میں ایسے سوالات جنم لینے لگیں تو یہ کسی بھی جمہوری نظام کے لیے لمحۂ تشویش ہونا چاہیے، کیونکہ اداروں کی مضبوطی صرف اختیارات سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ ہتھیار سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں، مگر دلوں کو فتح نہیں کر سکتے۔ عوام کو خاموش کرایا جا سکتا ہے، مگر ان کے سوال ختم نہیں کیے جا سکتے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اگر اسے جمہوریت کا حسن تسلیم کیا جائے تو بہت سے بحران جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام ایک دوسرے کو مخالف نہیں بلکہ ایک ہی ریاست کے شریکِ سفر سمجھیں۔ طاقت کا ہر استعمال قانون کے تابع ہو، ہر الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے اور ہر آواز کو سنا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نفرت کو اعتماد اور بے چینی کو استحکام میں بدل سکتا ہے۔
آخر میں ایک سوال تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ جب کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی باپ کا سہارا چھن جاتا ہے اور کسی بہن یا بچے کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں تو تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ کون مرا؛ وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ اس موت کو روکا کیوں نہ جا سکا؟
وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، اقتدار کے ایوان نئے چہرے دیکھ لیتے ہیں، مگر شہید ہونے والوں کی ماؤں کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو اور عوام کے دلوں میں اٹھنے والے سوال نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔ اس لیے آج بھی سب سے اہم سوال یہی ہے:
آخر تاریخ خون کے یہ دھبے کس کے ہاتھوں پر تلاش کرے گی؟