نظامِ زندگی کے بگاڑ کی اصل وجہ

چند دن پہلے ہمارے گھر کی پانی کی مشین خراب ہوگئی۔ مستری نے تو اسے ٹھیک کیا، لیکن اگلی صبح وہ پھر بھی نہ چلی۔ الیکٹریشن کو بلایا تو پتہ چلا کہ رات کو کسی نے مشین کا فیز نکال کر تاروں کو غلط جگہوں پر جوڑ دیا تھا۔ اس نے اصل ترتیب بحال کی تو مشین فوراً چل پڑی۔

یہ معمولی واقعہ ایک بڑی حقیقت کا آئینہ ہے: کسی بھی نظام کی درست کارکردگی کا دارومدار ہر جز کے اپنی متعین جگہ پر موجود ہونے پر ہے۔ ایک معمولی سی غلط ترتیب پورے نظام کو معطل کر دیتی ہے، اور بحالی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب ہر پرزہ اپنی اصل جگہ پر واپس آجائے۔ اور یہ ترتیب مشین خود نہیں، بلکہ اس کا بنانے والا انجینئر متعین کرتا ہے۔

یہی اصول انسانی زندگی پر بھی پورا اترتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی زوال، معاشی بے چینی، خاندانی انتشار، عدالتی کمزوریاں، سیاسی عدم استحکام اور نفسیاتی اضطراب یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ نظامِ حیات کے بنیادی اجزاء اپنی اصل ترتیب سے ہٹ چکے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے: انسان کا حقیقی مقام کیا ہے؟ دولت، اقتدار، خواہشات، علم اور کائنات کی نعمتوں کی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ ترتیب کون متعین کرے گا؟

عقل یہی کہتی ہے کہ جس ہستی نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا، وہی ان کے مقامات کا درست تعین کر سکتی ہے۔ جیسے مشین کا انجینئر، ویسے ہی خالقِ کائنات ہر جز کا صحیح مقام جانتا ہے۔ اور اس نے اپنی ہدایت وحی کے ذریعے ہم تک پہنچائی ہے۔ قرآن و سنت ہی وہ مستند مآخذ ہیں جو انسان کو اس کا مقام، ذمہ داری اور کائنات سے صحیح تعلق سکھاتے ہیں۔

قرآن انسان کو محض ایک جز نہیں، بلکہ زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار دیتا ہے: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ (البقرہ: ۳۰)۔ خلافت ذمہ داری کا منصب ہے انسان کو اختیار تو دیا گیا، مگر عدل، امانت اور تقویٰ کے ساتھ۔ وہ حاکم ہے، لیکن اللہ کی شریعت کا پابند حاکم۔

یہی انسان کی امامت ہے، یعنی وہ عقل، وحی اور اخلاق کی روشنی میں زندگی اور کائنات کے وسائل کو صحیح رخ دے۔ دولت، اقتدار، علم، ٹیکنالوجی اور خواہشات انسان کے تابع ہونے چاہئیں، نہ کہ انسان ان کا غلام بن جائے۔

لیکن موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ یہ ترتیب الٹ گئی ہے۔ انسان، جو رہنما تھا، خود تابع بن بیٹھا ہے اور مادہ، جو تابع تھا، رہنما بن گیا ہے۔

اب دولت طے کرتی ہے کہ کون معزز ہے اور کون حقیر؛ اقتدار فیصلہ کرتا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؛ مفاد متعین کرتا ہے کہ کس سے تعلق رکھنا ہے اور کس سے قطع تعلق۔

جب انسان اپنی قیادت چھوڑ کر مادے کو امام بنا لیتا ہے تو مادے کی فطرت — جو نہ رحم جانتی ہے، نہ عدل، نہ ایثار اس کے کردار پر غالب آجاتی ہے۔ نتیجتاً اخلاق کا معیار مفاد بن جاتا ہے، سچ وہی سمجھا جاتا ہے جس سے فائدہ ہو، اور جھوٹ بھی قابلِ قبول ہو جاتا ہے اگر اس سے مادی منفعت ملتی ہو۔ دیانت و اخلاص کی جگہ چالاکی اور موقع پرستی کو کامیابی سمجھا جانے لگا ہے۔ رشتوں کی قدر بھی محبت اور وفاداری کی بجائے دولت اور سماجی حیثیت سے متعین ہوتی ہے، حتیٰ کہ خونیں رشتے بھی مالی مفادات کے سامنے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

یہ تمام خرابیاں الگ الگ بیماریاں نہیں، بلکہ ایک ہی بنیادی خرابی کے مظاہر ہیں: انسان نے خلافت کا منصب چھوڑ کر مادیت کو اپنی زندگی کا امام بنا لیا ہے۔ جب امام بدل جائے تو مقتدیوں کی سمت بھی بدل جاتی ہے۔ اسی لیے آج سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت، میڈیا، خاندان اور سماجی اقدار سب اسی فکری بحران کا شکار ہیں۔

اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو جزوی مسائل سے پہلے اس بنیادی ترتیب کو درست کرنا ہوگا۔ انسان کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لانا ہوگا تاکہ دولت، طاقت اور خواہشات دوبارہ اس کے تابع ہوں، نہ کہ وہ ان کے تابع۔ یہی حقیقی اصلاح کا نقطۂ آغاز ہے۔

اور یہ ترتیب کہاں سے معلوم ہوگی؟ عقل کہتی ہے کہ اس ہستی سے، جس نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور رسول ﷺ کو اس کی عملی تشریح کے لیے بھیجا۔ قرآن و سنت صرف عبادات کی تعلیم نہیں دیتے، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ترجیحات اور عدل و توازن کا راستہ بھی بتاتے ہیں۔

چنانچہ قرآن فرماتا ہے: ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ۝ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾ (طٰہٰ: ۱۲۳-۱۲۴)۔ یعنی جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بدبخت، اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔

انسانی خوش حالی اور اجتماعی اصلاح کا راز صرف مسائل کے علاج میں نہیں، بلکہ زندگی کی بنیادی ترتیب کو پہچاننے اور اسے بحال کرنے میں ہے۔ جب انسان دوبارہ اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اپنا مقام پا لے گا، تو اس کا انفرادی اور اجتماعی نظام خود بخود توازن اور سکون کی طرف گامزن ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے