اے آئی انسانیت کے لیے

مصنوعی ذہانت کو کبھی مستقبل کی ٹیکنالوجی کہا جاتا تھا، لیکن اب یہ مستقبل نہیں، ہماری موجودہ دنیا کا حصہ ہے۔ ایک طالب علم کی تعلیم، ڈاکٹر کی تشخیص، کسان کے کھیت، فیکٹری کی پیداوار، موسم کی پیش گوئی اور کاروباری فیصلوں تک، اے آئی انسانی زندگی کے ایسے شعبوں میں داخل ہو چکی ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے تک بنیادی کردار انسانی تجربے اور فیصلے کا تھا۔

چین میں اس تبدیلی کی رفتار خاص طور پر نمایاں ہے۔ چائنا انٹرنیٹ نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر کے مطابق دسمبر 2025 تک چین میں جنریٹو اے آئی استعمال کرنے والوں کی تعداد 602 ملین ہو چکی تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 141.7 فیصد زیادہ ہے۔ جنریٹو اے آئی کی قومی شرحِ استعمال 42.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی بنیادی اے آئی صنعت کا حجم 1.2 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا تھا اور ملک میں اے آئی سے متعلق کمپنیوں کی تعداد 6,200 سے زیادہ ہو گئی تھی۔

یہ اعداد صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں دکھاتے، بلکہ اس تبدیلی کے انسانی پیمانے کو بھی واضح کرتے ہیں۔ اے آئی ایک مریض کو بیماری کی بروقت شناخت میں مدد دے سکتی ہے، طالب علم کو ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کر سکتی ہے، کسان کو موسم اور فصل سے متعلق بہتر معلومات دے سکتی ہے اور صنعتی کارکن کے لیے بعض خطرناک کاموں کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔

لیکن اسی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے: اے آئی کتنی طاقتور ہوگی، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات پر عالمی سطح پر بحث بھی تیز ہوئی ہے۔ جعلی اور گمراہ کن مواد، ڈیپ فیک، بچوں کے تحفظ، پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، ملازمتوں کی نوعیت میں تبدیلی اور ایسے فیصلوں میں انسانی نگرانی جہاں لوگوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، ان موضوعات پر حکومتیں، ماہرین اور عالمی ادارے غور کر رہے ہیں۔

2026 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ Global Dialogue on AI Governance کا انعقاد کیا۔ جنیوا میں ہونے والے اس اجلاس میں اے آئی کے مواقع کے ساتھ اس کے سماجی، معاشی، اخلاقی، تکنیکی اور انسانی حقوق سے متعلق اثرات پر گفتگو ہوئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خصوصاً بچوں کے تحفظ، انسانی نگرانی اور عالمی سطح پر مشترکہ حفاظتی اصولوں کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ تشویش محض نظری نہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سے بننے والا جعلی اور نقصان دہ مواد بچوں کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ زیادہ طاقتور اے آئی نظاموں کے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر سکیورٹی، معلومات کی درستگی اور انسانی حقوق جیسے مسائل بھی زیادہ اہم ہو رہے ہیں۔ اسی لیے اقوام متحدہ نے اے آئی کے لیے سائنسی جائزے اور عالمی گورننس کے مستقل نظام کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے۔

لیکن خطرات کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر اے آئی کو مناسب اصولوں، انسانی نگرانی اور عالمی تعاون کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی صحت، تعلیم، زراعت، موسمیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

چین اسی تناظر میں اے آئی کی ترقی کے ساتھ عالمی تعاون اور گورننس پر بھی زور دے رہا ہے۔ جولائی 2026 میں شنگھائی میں ہونے والی World Artificial Intelligence Conference کے موقع پر چین نے World Artificial Intelligence Cooperation Organization کے قیام کا اعلان کیا۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اے آئی کو انسان مرکز رکھنے، عالمی تعاون بڑھانے اور اس کے فوائد کو زیادہ وسیع بنانے پر زور دیا۔

چین نے ترقی پذیر ممالک کے لیے اگلے پانچ برس میں اے آئی سے متعلق 5,000 تربیتی مواقع فراہم کرنے، مختلف خطوں کے ساتھ بین الاقوامی اے آئی ایپلی کیشن تعاون مراکز قائم کرنے اور 30 ممالک میں اے آئی پر مبنی موسمیاتی انتباہی نظام کے استعمال میں تعاون کا اعلان بھی کیا۔

یہاں چین اور امریکہ کے درمیان اے آئی تعاون کا سوال بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک دنیا کے بڑے اے آئی مراکز میں شامل ہیں۔ ستمبر 2026 میں چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں اے آئی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اے آئی کے خطرات اور فوائد پر بات چیت جاری رکھنے، اس کے غلط استعمال اور ناجائز استعمال کو روکنے اور اے آئی کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔

اس ملاقات کا ایک عملی نتیجہ چین-امریکہ AI Dialogue کے قیام پر اتفاق تھا۔ دونوں ممالک اے آئی سے متعلق خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کریں گے اور اے آئی سے متعلق واقعات کے لیے ایک دوطرفہ رابطہ چینل بھی قائم کریں گے۔ اگلا مکالمہ نومبر 2026 میں ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ اے آئی کے بارے میں چین اور امریکہ کے درمیان مقابلے کے ساتھ تعاون کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اے آئی کے بنیادی سائنسی مسائل، حفاظتی معیارات، خطرات کی تشخیص، ذمہ داری کے اصول اور بعض عالمی چیلنجز ایسے موضوعات ہیں جن پر براہِ راست رابطہ غلط فہمیوں کو کم کرنے اور مشترکہ اصول تشکیل دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم اس تعاون کا مستقبل مسلسل مکالمے، عملی اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تعلقات کی سمت سے بھی جڑا ہوگا۔

چین نے 2023 میں Global AI Governance Initiative پیش کیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ نے 2026 میں عالمی اے آئی گورننس کے لیے باقاعدہ مکالمے کا آغاز کیا۔ یوں ایک طرف قومی سطح پر اے آئی کی صنعت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف عالمی سطح پر یہ سوال بھی اہم ہو رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ اصول کیسے بنائے جائیں۔

اصل چیلنج شاید یہی ہے کہ اے آئی چند طاقتور کمپنیوں یا محدود تعداد میں ممالک کی صلاحیت بن کر نہ رہ جائے۔ اقوام متحدہ نے بھی نشاندہی کی ہے کہ کمپیوٹنگ، ڈیٹا، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں میں موجود عالمی فرق اے آئی کے فوائد تک رسائی میں عدم مساوات پیدا کر سکتا ہے۔

آخرکار مصنوعی ذہانت انسان نے بنائی ہے، اس لیے اس کی سمت کا تعین بھی انسان ہی کو کرنا ہوگا۔ مشین تیزی سے حساب کر سکتی ہے، وسیع مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتی ہے اور بہت سے کاموں میں انسانی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ کہ ٹیکنالوجی کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، اس کے نقصانات کی ذمہ داری کون لے اور انسانی وقار، حقوق اور سلامتی کو کیسے محفوظ رکھا جائے، یہ سوال بدستور انسانوں کے سامنے ہے۔اے آئی انسانیت کے لیے صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک سوال ہے اور اس سوال کا جواب آنے والی ٹیکنالوجی نہیں، آج کے انسانی فیصلے دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے