چیئرمین سینٹ رضاربانی نے کہا کہ دشمن قوتیں مسلمانوں کوایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے مسئلے پر حکومت مشاورت کے بعد اقوام متحدہ میں اپنا موقف پیش کرے ۔
نوشہرہ میں جمعیت علمائے اسلام کے تین روز ہ اجتماع سے ملکی قیادت نے خطاب کیا۔چیئرمین سینٹ رضاربانی نے کہا کہ ملک کے اندرونی وبیرونی حالات میں یہ اجتماع نہایت اہم ہے، دنیا میں اسلام کے خلاف منصوبے کے تحت سازش کی جارہی ہے۔اسلام کو بدنام اور دہشت گرد مذہب ثابت کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی قوتیں مسلم ممالک میں ابتری پیدا کرنا چاہتی ہیں، مسلم ممالک کو ایک دوسرے سےدست وگریبان کرانا چاہتی ہیں ، مغربی قوتیں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہیں، بدقسمتی سے وہ اس ساز ش میں کامیاب ہورہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اجتماع سے ایک آواز جانی چاہئے کہ مسلمان ایک ہیں اور وہ اپنے عمل سےاس سازش کوملیا میٹ کردیں گے، انہوں نے شام میں امریکا کے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت اقوام متحدہ کےسامنےسوچ سمجھ کرفیصلہ کرے۔
رضا ربانی نے کہا کہ حکومت مشاورت کرے اورپارلیمان کامشترکہ اجلاس بلائے،وہ راستہ اختیارکیا جائےجوپاکستان کی سالمیت کیلئےبہتر ہو۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شا ہ نے خطاب میں کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہےاور اس کے سیاست دانوں پر عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کا سرجوڑ کر حل نکالنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے ۔
نوشہرہ میں جمعیت علمائے اسلام کے سو سالہ عالمی اجتماع کا آج دوسرا روز ہے۔ شرکاء اور کارکنان نے بارش اور ٹھنڈ کی پرواہ کیے بغیر کھلے آسمان تلے ہی شب بسر کی۔ اجتماع اتوار تک جاری رہے گا۔
نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ اجتماع کا آج دوسرا دن ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے اجتماع میں شرکت کے لیے پہنچنے والے جمعیت کے کارکنان نے بارش اور ٹھنڈ کی پرواہ کیے بغیر کھلے آسمان تلے ہی بستر بچھاکر سونے کا انتظام کیا اور شب کو قیام کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے میڈیا ایڈوائزر کا دعویٰ ہے کہ اجتماع کے پہلے روز 25 لاکھ افراد نے اجتماع میں شرکت کی۔ تقریبات اتوار تک جاری رہیں گی۔
اجتماع کی پہلی نشست میں امام کعبہ صالح بن ابراہیم نے جمعہ کاخطبہ دیا اور کہاکہ دین میں فساد پھیلانےوالےوہی ہیں جنہوں نےدین میں انتشار پیداکیا،مسلمان اللہ کی رسی کومضبوطی سےتھامے رکھیں۔ امام کعبہ نےنماز جمعہ کی امامت بھی کی۔
اس سے پہلے سعودی وزیر برائے مذہبی امورصالح عبدالعزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب بھائی بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک سعودی اتحاد اسلام کی فتح ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہناتھاکہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے رجحانات میں اضافہ ہورہا ہے، غیرملکی ایجنڈے پرکام کرنے والی این جی اوز پر پابندی اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔
تین روزہ عالمی اجتماع کے موقع پر اضاخیل میں 2 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیےگئےہیں۔ جمعیت کےرضا کار بھی سیکورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔