18 سالہ جنگ ختم امن معاہدہ ہو گیا

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 19 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی تقریب میں افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

امریکا اورافغان حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق افغانستان سےامریکی افواج 14 ماہ میں مکمل انخلاء کریں گی اور یہ منصوبہ طالبان کی جانب سےامن معاہدےکی پاسداری سےمشروط ہوگا۔

دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہیں۔

[pullquote]امریکااورطالبان دہائیوں سےجاری تنازعات کوختم کررہےہیں، پومپیو[/pullquote]

تقریب سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکااورطالبان دہائیوں سےجاری تنازعات کوختم کررہےہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ تاریخی مذاکرات کی میزبانی پر امیرِ قطر کے شکرگزار ہیں۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن ڈیل سے افغانستان میں امن قائم ہوگا، اگر طالبان نے امن معاہدے کی پاسداری کی تو عالمی برادری کا رد عمل مثبت ہوگا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہو گا۔

دوحہ امن معاہدے سے نہ صرف امریکا اور طالبان کے درمیان انیس سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستان سمیت خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا، معاہدے کے فالو اپ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مستقل قیام امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

معاہدے سے افغانستان میں موجود 14 ہزار امریکی اور 17 ہزار نیٹو فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہو گی۔

امریکا اور طالبان کے درمیان 2018 سے جاری مذاکرات کے کئی کامباب اور ناکام ادوار ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے اور طرفین کی طرف سے امن کی خواہش کے نتیجے میں دوحہ میں افغان امن معاہدے پر امریکا اور طالبان کے دستخط در اصل معاہدے کے سہولت کار پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے جس میں پاکستان کہہ چکا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

[pullquote]طالبان رہنما کی زلمے خلیل زاد سے ملاقات[/pullquote]

قبل ازیں ممبر طالبان قطر آفس ملا شہاب الدین دلاور نے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد سے دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ملاقات کی اور ہاتھ ملایا۔

زلمے خلیل زاد نے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا جب کہ ملا شہاب کا کہنا تھا کہ آج بڑا تاریخی دن ہے، معاہدے پر دستخط کے بعد تمام غیر ملکی فوجی افغانستان سے روانہ ہو جائیں گے۔

طالبان رہنما کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلاء سے ملک میں امن آئے گا اور افغان عوام اس معاہدے سے بہت خوش ہیں۔

[pullquote]معاہدہ افغان عوام کے لیے امید اور روشنی کی ایک کرن ہو گا: شاہ محمود قریشی[/pullquote]

پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان امن کا قیام افغان قیادت کے تحت خود افغانوں نے یقینی بنانا ہے اور یہ کہ افغان امن پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے دوحہ معاہدہ امریکا کی آج تک کرہ عرض پر لڑی جانے والی طویل ترین جنگ کا خاتمہ اور افغان عوام کے لیے امید اور روشنی کی ایک کرن ہو گا۔

[pullquote]افغان عوام موقع سے فائدہ اٹھائیں: ڈونلڈ ٹرمپ[/pullquote]

اس سے قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغان عوام موقع سے فائدہ اٹھائیں، امن معاہدے سے نئے مستقبل کا موقع مل سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اُن کی ہدایات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو طالبان نمائندوں کے ساتھ سمجھوتے کی تقریب میں شامل ہوں گے، وزیر دفاع مارک ایسپر افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

[pullquote]کسی کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: ترجمان افغان طالبان[/pullquote]

دوسری جانب قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ 7 روز میں افغانستان میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ہم آگے چلیں گے۔

ترجمان افغان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ملک ہے جس سے ہمارے ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں، 40 سال سے 40 لاکھ افغان باشندے پاکستان میں تھے، اب بھی پاکستان میں 20 لاکھ افغان مہاجرین ہیں جب کہ روسی مداخلت کے وقت بھی پاکستان کا کردار رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے پُرامن حل کی حمایت کی ہے، افغان طالبان چاہتے ہیں افغانستان امن کا گہوارہ بنے اور تجارت بھی ہو، ہم پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ اچھے تعلقات سب کے مفادات میں ہیں۔

سہیل شاہین نے کہا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ افغان سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال کرے، سرحد سے باہر افغان طالبان کی کوئی پالیسی اور ایجنڈا نہیں ہے، امریکا سے معاہدے میں یہ تمام باتیں شامل ہیں جس پر وہ پُرعزم ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے