پارس جہانزیب کا شکریہ بھی اور مبارکباد بھی!
شکریہ اس لیے کہ انہوں نے جواد احمد کا انٹرویو کرکے مدتوں بعد دل کھول کر ہنسنے کا موقع فراہم کیا، اور مبارکباد اس لیے کہ کرنٹ افیئرز کے سنجیدہ پروگرام کرتے کرتے بالآخر انہوں نے جواد احمد کا انٹرویو کر کے مزاحیہ شوز کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا!
اور دوران انٹرویو ہنسی روکنے کی جو جہد مسلسل پارس جہانزیب نے ایک منجھے ہوئے اینکر کی طرح کی، وہ واقعی داد کے قابل ہے۔ یہ انٹرویو دیکھنے کے بعد میرا بھی دل چاہا کہ دوستوں کو کچھ ہنسنے کا موقع دوں، سو میں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر برابری پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ محض تفنن طبع کے لیے، سچ مچ نہیں!
ایک بزرگ خاتون محترمہ ڈاکٹر شہناز خان، جو خود کو وائس چیئرپرسن برابری تحریک لکھتی ہیں، فرماتی ہیں کہ یہ پارٹی طبقاتی نظام کا خاتمہ کرے گی۔ مگر میری ناقص رائے میں، اس نام نہاد "برابری پارٹی” کے بانی، جواد احمد کا لب و لہجہ تو خود طبقاتی فرق کو اتنا نمایاں کر دیتا ہے کہ بندہ امیر غریب کی تفریق بھول کر "تمیز یافتہ” اور "بدتمیز” کا فرق سمجھنے لگتا ہے۔
مثلاً ان کی گفتگو کچھ ایسے ہوتی ہے:
"اب یہ ایک اور بکواس کرنے آیا ہے!”
"بکواس نہ کرو، فراڈیے!”
"تو آ گیا اپنی اصلیت پر، غلیظ آدمی!”
"تو بے غیرت اور منافق ہے!”
"تو جاہل ہے!”
یہ وہ جملے ہیں جو جواد احمد کی گفتگو میں اتنی باقاعدگی سے آتے ہیں کہ بندہ شک کرنے لگتا ہے کہ کہیں یہ ان کا پارٹی نعرہ تو نہیں؟
بقول غالب:
"تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟”
جواد احمد کو کوئی سمجھائے کہ بھائی، ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں! گالم گلوچ، دشنام طرازی اور تلخ لہجے سے آپ صرف لوگوں کو توڑ سکتے ہیں، جوڑ نہیں سکتے۔ کوئی بھی پڑھا لکھا، تمیزدار آدمی ایسی جماعت کی حمایت کیوں کرے گا جس کا بانی خود اخلاقیات سے نابلد ہو؟ کل کو اگر کسی کا بیٹا پوچھ بیٹھے کہ "ابو، آپ اس بندے کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں جو ہر دوسرے بندے کو گالی دیتا ہے؟” تو والد صاحب کیا جواب دیں گے؟
اگر جواد احمد واقعی سیاست میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو انہیں کوئی ٹھوس منشور، کوئی قابلِ عمل پلان دینا ہوگا۔ صرف دوسروں کو کوسنے اور برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ملے گا، یہ غلطی عمران خان بھی کر چکے ہیں۔
ویکی پیڈیا کے مطابق جواد احمد کی عمر 54 سال ہے، اللہ ان کی عمر دراز کرے (اور اگر ممکن ہو تو صبر اور شائستگی بھی عطا کرے)۔ لیکن مجال ہے کہ ان کے رویے اور گفتگو میں ذرا سی بھی بزرگی جھلکتی ہو!موصوف ٹوئٹر پر ایسے لوگوں سے بھی الجھتے ہیں جو عمر میں ان سے بڑے ہیں، جیسے کہ بس ہر اختلاف کرنے والے کو "غلیظ آدمی” کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا ان کا قومی فریضہ ہو۔
اب مستقبل میں جواد احمد کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر فی الحال، میرے نزدیک وہ اور چاہت فتح علی خان (جو راگِ چاھت کے موجد ہیں) اور طاہر شاہ (جنہوں نے ہمیں "آئی ٹو آئی” جیسی شاہکار کمپوزیشن دی) ایک ہی کیٹیگری کے فنکار ہیں۔
چاھت فتح علی خان کے راگ، اور جواد احمد کا یہ دعویٰ کہ "میں بہت زیادہ مشہور آدمی ہوں اور پاکستان کی آخری امید ہوں” – دونوں ہی برابر کا لطف دیتے ہیں!
تو، دوستو، ہنسیے، مسکرائیے اور انجوائے کیجیے! دعا ہے کہ یہ لوگ سلامت رہیں اور یوں ہی پریشان حال عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں!