فلاح بہبود کے نام پر نقاب میں چھپے چہرے

دوسرا حصہ
اتوار کی صبح نماز ادا کرنے کے بعد میں نے اپنے ہمسفر کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ جب وہ ناشتہ کرنے لگے تو میں نے ان کے جوتے صاف کیے، جرسی سامنے رکھ دی، کیونکہ بیگ اور کتابوں کے بنڈل پہلے ہی تیار رکھے تھے۔

تقریباً سات بجے کے قریب میں نے اپنے بیٹے کو نیند سے جگایا اور کہا کہ وہ اپنے والد کو سڑک تک چھوڑ آئے۔ ان کے جانے کے بعد میں نے گھر کے معمول کے کام نمٹائے اور سونے کی کوشش کی، مگر نیند مجھ سے بہت دور تھی۔ شاید پہلی بار میں گھر میں بالکل اکیلی رہ گئی تھی۔

میرے ذہن میں بے شمار سوالات، فکریں اور پریشانیاں گردش کر رہی تھیں۔ آخرکار نیند مجھ پر غالب آگئی۔ تقریباً گیارہ بجے میری آنکھ کھلی۔ سب سے پہلے میں نے موبائل اٹھایا اور انہیں فون کیا۔ گھنٹی بجتے ہی انہوں نے "ہیلو” کہا۔
میں نے پوچھا، "آپ پہنچ گئے ہیں؟”
انہوں نے جواب دیا، "جی ہاں، ابھی پہنچا ہی ہوں۔”
میں نے کہا، "ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے سفر میں خیر و برکت عطا فرمائے۔”
انہوں نے جواب دیا، "آمین۔”
پھر انہوں نے پوچھا، "آپ ابھی تک گھر نہیں گئیں؟”

میں نے مسکراتے ہوئے کہا، "نہیں جناب! جب آپ اجازت دیں گے، تب ہی جاؤں گی۔”
انہوں نے فرمایا، "اب گھر چلی جائیں۔ وہاں سے امی (ادی) کے ساتھ بابا جان کے پاس جانا آسان ہوگا۔”

میں نے خوشی سے کہا، "اچھا، ٹھیک ہے۔” اور فون بند کر دیا۔
یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں فوراً جانے کی تیاری میں لگ گئی۔ ناشتے میں وہ دلیہ کھایا جو جانان چھوڑ گئے تھے اور آدھا کپ چائے پی۔ پھر برتن دھوئے۔

کئی برسوں سے میری یہ عادت ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے وضو ضرور کرتی ہوں تاکہ نماز قضا نہ ہو۔ اس کے بعد میں نے کپڑے تبدیل کیے، ضروری دوائیں، موبائل چارجر اور لیپ ٹاپ ساتھ رکھا، حجاب اوڑھا، گھر کو تالا لگایا اور اسٹاپ کی طرف پیدل روانہ ہوگئی۔

مجھے اپنی ذات کے لیے کسی پر انحصار کرنا پسند نہیں۔ چاہے کوئی کام ہو یا کہیں جانا ہو، میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری خود ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
اسٹاپ پر سواری کے انتظار میں کھڑی ہو کر میں نے دعائیں پڑھنا شروع کر دیں، کیونکہ موسم میں عجیب سی شدت اور گرمی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد سواری مل گئی تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
راستے بھر یہی سوچتی رہی کہ شاید وہاں کا موسم یہاں کی نسبت بہتر ہوگا۔ انہی خیالوں میں بچوں کے لیے کچھ لینے کا ارادہ بھی ذہن سے نکل گیا۔
جب گھر پہنچی اور دروازے کی گھنٹی بجائی تو میرے ننھے بھتیجے نے اندر سے پوچھا، "کون؟”
میں نے جواب دیا، "میں ہوں۔”
وہ خوشی سے چلانے لگا، "دیدی آگئی ہیں!” اس نے دروازہ کھولا، مجھ سے ہاتھ ملایا اور خوشی خوشی میرے ساتھ اندر آگیا۔

لان میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ تینوں کمروں کے دروازے بند تھے۔ یہ منظر مجھے کچھ غیر معمولی سا محسوس ہوا۔ میں سیڑھیوں کی طرف بڑھی تاکہ اوپر اپنے کمرے میں چلی جاؤں، مگر جیسے ہی سیڑھی پر قدم رکھا، اماں (ادی) نے آواز دی:
"اوپر مت جاؤ، وہاں بہت گرمی ہے۔ میرے کمرے میں آ جاؤ، یہاں ایئر کنڈیشنر چل رہا ہے، ٹھنڈک بھی ہے۔”

ان کی آواز سن کر میں فوراً سیڑھیوں سے واپس اتری اور ادی کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ ویسے بھی وہ کئی بار فون کر کے مجھے اپنے ساتھ چلنے کے لیے بلا چکی تھیں۔

جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں۔ بات ختم کرکے انہوں نے فون رکھ دیا اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی۔ ان کی ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جانے کی وجہ سے ان کے لیے اٹھنا بیٹھنا بہت مشکل تھا۔

میں نے سلام کیا، ہاتھ ملایا اور بھتیجی سے کہا، "گرمی بہت ہے، ذرا پانی یا شربت لے آؤ۔”
ادی نے کہا،
، "مجھے پیاس نہیں لگ رہی۔ میرے پاس پانی کی بوتل ہے، راستے میں پی لی تھی۔”
ویسے بھی میری عادت ہے کہ سردی ہو یا گرمی، پانی کی بوتل ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتی ہوں۔
ادی نے دوبارہ بھتیجی سے کہا، "لیموں کا شربت بنا کر لے آؤ۔”

میں نے اپنا حجاب اتار کر بھتیجی کو دیا اور کہا، "اسے اوپر گرِل پر ڈال دو تاکہ استری خراب نہ ہو اور ساتھ ہی خشک بھی ہو جائے۔”
اس نے ویسا ہی کیا۔

پھر میں نے منہ، ہاتھ اور پاؤں دھوئے، کیونکہ یہ بھی میری مستقل عادت ہے۔ چاہے اپنی سواری میں سفر کروں یا لوکل ٹرانسپورٹ میں، گھر پہنچتے ہی تازہ ہو کر سکون محسوس کرتی ہوں۔
جاری ہے…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے