زندگی کی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں نے بہت سے تماشے دیکھے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ وقت نے مجھے خودبھی تماشائی بنا دیا ہے۔ میں اکثر شام کے سائے ڈھلتے ہی شہر کے کسی روایتی چائے کے ڈھابے پر جا بیٹھتا ہوں۔ ان ڈھابوں پر سلگتے کوئلوں اور ابلتی چائے کی خوشبو کے درمیان میں کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ اکثر میرے ساتھ علم و دانش کا پیکر، سینئر صحافی، کالم نگار اور استادِ محترم عبداللطیف بیگ صاحب ہوتے ہیں، کبھی اپنی مسحور کن آواز کا جادو جگانے والے معروف صداکار، کالم نگار اور صحافی عامر سہیل مٹو رونقِ محفل بنتے ہیں،کبھی پنجابی ادبی کونسل کے جنرل سیکرٹری واجد سلیم صاحب اپنی گفتگو سے رس گھولتے ہیں
اور کبھی میرے انتہائی مخلص، باوفا اور سچے ساتھی شاہد جٹ صاحب میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان مخلص اور پیارے دوستوں کے درمیان رہ کر اور ان سے بات چیت کر کے ہم سب دوست بہت ہنستے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے ہنستے مسکراتے، زندہ دل لوگ بہت پسند ہیں۔ چائے کی پیالیوں سے اٹھتے دھویں کے سنگ، میں ان تمام احباب کے سامنے اپنے دل کی باتیں کھل کر رکھتا ہوں،وہ باتیں جو ہماری دم توڑتی ثقافت، اپنے سیدھے سادھے لوگوں اور ہمارے اردگرد کے بدلتے ہوئے صحافتی امور سے جڑی ہوتی ہیں۔
ایسی ہی ایک محفل میں ہماری گفتگو کا محور وہ روایتی کھیل اور تماشے بنے جو کبھی پنجاب کی اس زرخیز دھرتی کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ وہ دور زیادہ پرانا نہیں جب شام ہوتے ہی دیہات اور شہروں کے محلوں کی گلیاں بچوں کے شور، قہقہوں اور کھیل کود سے گونج اٹھتی تھیں۔ لیکن افسوس، آج ڈیجیٹل دور کی چکا چوند اور موبائل اسکرینوں نے ہماری ان خوبصورت اور زندہ دل رونقوں کو ہم سے چھین کر ہمیں تنہائی کا قیدی بنا دیا ہے۔آج ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے پنجاب کے ان کھیلوں کی سیر کرتے ہیں جو کبھی ہمارے وجود کا حصہ تھے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں ”پٹھو گول گرم“ کی جسے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔ یہ کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ توجہ، پھرتی اور نشانہ بازی کا بہترین امتحان تھا۔ مٹی کے گھڑے کے ٹوٹے ہوئے سات ٹکڑے جنہیں ٹھیکریاں بھی کہتے ہیں یا چپٹے پتھر ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر ایک چھوٹا سا مینار بنایا جاتا تھا۔ دو ٹیمیں آمنے سامنے ہوتیں اور ایک گیند سے اس مینار کو گرانے کی کوشش کی جاتی۔ جیسے ہی گیند پتھروں کو لگتی، پورا مینار بکھر جاتا اور اصل تماشا شروع ہوتا۔ گیند مارنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کی دوڑ لگ جاتی کہ وہ کسی طرح مخالف ٹیم کی گیند سے بچتے ہوئے ان پتھروں کو دوبارہ ترتیب دے کر مینار مکمل کریں۔ اس کھیل میں جو سسپنس، بھاگ دوڑ اور جوش و خروش ہوتا تھا، وہ آج کے مہنگے ترین ویڈیو گیمز میں بھی ممکن نہیں۔
اسی طرح لڑکیوں اور بچوں کا ایک اور ہر دلعزیز کھیل”کڈمس“ تھا جسے بہت سے علاقوں میں”سٹاپو“بھی کہا جاتا ہے۔ تپتی دوپہروں میں یا شام کے سائے ڈھلتے ہی گھر کے صحن یا گلی کے کسی کونے میں کوئلے یا چاک سے زمین پر خانے بنائے جاتے۔ ایک چپٹا پتھر پہلے خانے میں پھینکا جاتا اور پھر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کرلنگڑی چال چلتے ہوئے اس پتھر کو خانوں کی لائنوں پر پاؤں رکھے بغیر باہر نکالنا ہوتا تھا۔ یہ کھیل بظاہر سادہ لگتا تھا، لیکن یہ بچوں کو جسمانی توازن، صبر اور زندگی میں نپے تلے قدم اٹھانے کا فن سکھاتا تھا۔
پنجاب کے ان روایتی کھیلوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔”گلی ڈنڈا“ جسے دیہات کا کرکٹ کہا جا سکتا ہے، اور پھر”باندر کلا“ کا تماشاجہاں ایک کلے سے رسی باندھ کر دائرے میں رکھی جوتیاں چوری ہونے سے بچائی جاتی تھیں، اور جوتیاں چراتے ہوئے بچوں کی ہنسی اور بھاگ دوڑ پورے ماحول کو زندہ دل بنا دیتی تھی۔ شام کے اندھیرے میں کھیلی جانے والی”لوکن میٹی“ تو ہر بچے کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی، جہاں دیواروں کے پیچھے چھپ کر باری دینے والے کو تنگ کرنے کا اپنا ہی ایک الگ مزہ تھا۔
یہ کھیل تو معصوم بچوں کے تھے جو مٹی سے جڑے تھے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں ایسے کھیل شروع ہو چکے ہیں جو بالغ اور پڑھے لکھے لوگ اپنے ہی اداروں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ مٹی کے ان روایتی تماشوں کا نوحہ لکھتے لکھتے مجھے اپنے ہی شعبے کا ایک اور ”تماشا“ یاد آ گیا ہے۔ بچوں کے کھیل تو وقت کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں، لیکن اداروں میں”من مرضی کے کھیلوں“ کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی کھیل گزشتہ کچھ عرصے سے ”صحافتی گھر“ میں کھیلا جا رہا ہے، جہاں کلب کے آئین اور ضوابط کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔
ادارے کسی ایک فرد کی جاگیر یا پسند و ناپسند کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ یہ اصولوں اور باہمی مشاورت سے چلتے ہیں۔ گزشتہ سال جب مجھے میرے مخلص ساتھی شاہد جٹ صاحب اس ”گھر“ میں لائے تھے، تو ہمارا واحد مقصد اور عزم یہ تھا کہ ہم سب مل کر اس”گھر“ کی بہتری اور صحافیوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔ لیکن افسوس کہ حالیہ دنوں میں ”گھر“کے آئین کو بالائے طاق رکھ کر یکطرفہ اور من مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ایک منتخب ایگزیکٹو باڈی موجود ہے، لیکن اس کے عہدیداران کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ کسی فیصلے میں منتخب نمائندوں سے مشاورت کی زحمت تک نہیں کی جاتی اور انہیں بالکل ایک سائیڈ پر لگا دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے باصلاحیت اور سنجیدہ صحافی دلبرداشتہ ہو گئے۔
میں یہاں یہ بات بالکل واضح اور دوٹوک انداز میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ چونکہ اب میں نے اس ”صحافتی گھر“ سے اپنا راستہ مکمل طور پر الگ کر لیا ہے، اس لیے اب میں اس کا حصہ نہیں ہوں؛ اور مجھ سمیت جو دوست میرے ہم خیال ہیں، وہ بھی اب سے اس ”صحافتی گھر“ کا حصہ نہیں رہیں گے۔ میں بتاتا چلوں کہ جب اس ”صحافتی گھر“ کا آئین لکھا گیا اور اس پر طویل بحث و مباحثہ ہوا، تو اس عمل میں کم و بیش تین سے چار ماہ کا وقت لگا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آئین پر چلنا ہی نہیں تھا، اس کی پاسداری ہی نہیں کرنی تھی، تو پھر آئین سازی کے اس کھیل کا ڈرامہ اور تماشا کیوں لگایا گیا تھا؟ کیوں اتنا وقت اور توانائیاں ضائع کی گئیں؟
بچوں کے کھیل جیسے پٹھو گول گرم یا کبڈی تو تفریح دیتے ہیں، لیکن آئین اور قانون سے کھیلے جانے والے یہ سنگین تماشے معتبر اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ ذاتی انا کی نذر ہو جائے تو وہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔اس ”صحافتی گھر“ کو کسی کی ذاتی جاگیر بننے سے بچاکراسے دوبارہ ایک معتبر ادارہ بنایا جائے جہاں ہر فیصلے میں مشاورت ہو اور ایگزیکٹو باڈی کو اس کا جائز آئینی مقام ملے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سادگی اور مٹی کی خوشبو بھی روٹھ رہی ہے اور اداروں سے اخلاقیات بھی ختم ہو رہی ہیں۔ہمیں چاہیئے کہ ہم جہاں اپنے بچوں کو روایتی کھیلوں کی طرف واپس لائیں، وہاں اپنے بڑوں کو بھی یاد دلائیں کہ ادارے انا اور ذاتی مفادات سے نہیں، بلکہ آئین، قانون اور باہمی احترام سے چلتے ہیں۔