دیر آید۔۔۔۔۔ درست آید

وطن عزیز میں دہشتگردی کیخلاف جنگ اپنے فیصلے کن مراحل میں داخل ہوچکی ہے، پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کی راہ میں رکاوٹ بننے والی اپنے اپنے وقت پر قانون کے شکنجے میں آرہے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کا سب سے بڑا محرک پراکسی وار ہے، جو کہ ہمارے پڑوسی ممالک کی کارستانیاں ہیں، جس میں سب سے زیادہ ہمارا روایتی حریف بھارت اور ہمارا دوست نما دشمن پڑوسی ایران شامل ہیں، پاکستان میں بھارتی پراکسی وار اور دہشتگردی کے فروغ میں ایران نے برابر کا ساتھ دیا ،

خمینی انقلاب کے بعد ایران نے پاکستان میں منظم سازش کا آغاز کیا، وہ آج پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے تک پہنچ چکی ہے، فرقہ وارانہ قتل و غارت کا آغاز ہی ایرانی سپانسرڈ دہشتگردوں نے کیا، 2014 کے اواخر میں بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے بعد جس طرح دہشتگردی کا قلع قمع کیا گیا ہے، یقیناً یہ ریاست کی شاندار کامیابی ہے، بھارتی امداد ملک میں دہشتگردی کرنے والوں کا بنیادی ڈھانچہ توڑنے کے بعد ایرانی کرائے کے دہشتگردوں پر بھی ہاتھ ڈال دیا گیا ہے، پاکستان میں شیعہ سنی فسادات میں ملوث سیاسی اور سماجی جماعتوں کی چھتری تلے چھپے دہشتگردوں پر سیکیورٹی اداروں نے ہاتھ ڈال کر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے، جو کہ انتہائی قابلِ تحسین ہے۔

کراچی میں امن و امان کی صورحال کو بحال کرنے میں پاک رینجرز کا انتہائی اہم کردار رہا ہے، جنہوں نے بلا تفریق شہر دہشتگردوں اور ان کے ہمنواؤں یا سرپرستوں کی سرکوبی کی ہے، پاکستان میں شیعہ سنی فسادات، قتل و غارت اور فسادات میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ” برادر اسلامی ملک "ٹکڑوں میں پلے چند ضمیر فروش ہیں، جنہوں نے سیاست اور سماجی خدمات کے نام پر پاکستان میں فرقہ وارانہ جنگ کا آغاز کیا، اسے فروغ دیا اور عروج تک پہنچایا،

کراچی میں سب سے بڑا نیٹ ورک کالعدم سپاہ محمد کا ہے، جو شیعہ سنی فسادات میں اہم کردار ادا کررہی ہے، کالعدم سپاہ محمد دراصل پاکستان کی غیراعلانیہ حزب اللہ ہے، جس کی سربراہی، سرپرستی اور نگرانی فیصل رضا عابدی و دیگر کررہے ہیں، فیصل رضا عابدی ایوان اور میڈیا کے میدان میں کھل کر دہشتگردی کی دعوت اور اسے قبول کرچکا ہے، ایرانی مفادات کے لئے شام و عراق کی جانب پاکستان سے بھرتی کرکے بھیجے جانے والے شیعہ جنگجوؤں کو باہر بھیجنے کے اہتمام میں بھی فیصل رضا عابدی شامل رہے، حال ہی میں کراچی میں ایک ہی دن میں اہلسنت والجماعت کے چھ کارکنوں کے دن دیہاڑے قتل کے واقعے کے بعد رینجرز نے فیصل رضا عابدی اور آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے علامہ مرزا یوسف حسین کو بھی گرفتار کرلیا ہے،

ابتدائی تحقیقات کے مطابق فیصل رضا عابدی پٹیل پاڑہ میں ہونے والے دو قتل میں ملوث پائے گئے، فیصل رضا عابدی کے گھر سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور کئی لیپ ٹاپ بھی برآمد ہوئے، جس میں اہم ڈیٹا کی توقع کی جارہی ہے، ایک جانب اہلسنت کا قتل دوسری جانب شیعوں کے قتل میں ملوث یہ تخریبی گروپ دراصل پاکستان اور کراچی کا دشمن ہے، جو بیرونی ایماء پر یہاں کسی طور امن و امان کی صورحال نہیں دیکھنا چاہتا، اگرچہ ایرانی فنڈنگ سے دہشتگردی یا فرقہ واریت پھیلانے والوں کو دیگر دہشتگردوں سمیت بہت پہلے قانون کے شکنجے میں لینا چاہیئے تھا مگر۔۔۔ دیر آید ۔۔۔۔ درست آید کے مصداق تاخیر سہی لیکن اب ان کا قلع قمع کرنا اور ملک سے ہر طرح کی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنا وطن عزیز میں دیر پا امن کے قیام کے لئے ناگزیر ہے، اب وقت ہے کہ کراچی سمیت ملک کے ہر حصے میں موجود بیرونی آلہ کار دہشتگردوں اور ان کے ہمدردوں سے سختی سے نمٹا جائے، بالخصوص کراچی کو فرقہ وارانہ فسادات اور دہشتگردی کی آگ سے نکالنے کیلئے حتمی بنیادوں پر فیصلوں اور کارروائیوں کی ضروت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے