آسٹریلیا کے ساحلی شہر کیاما کی عوامی لائبریری میں تقریباً 150 سال بعد ایک نایاب کتاب واپس جمع کروا دی گئی جو ایک مکان کی مرمت کے دوران اینٹوں کے پیچھے رکھے صندوق سے ملی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کتاب 1858ء میں شائع ہوئی تھی اور اس کا عنوان ’ایتھنز کے آثارِ قدیمہ‘ ہے۔
لائبریری کی منتظم مشیل ہڈسن کے مطابق اگر پرانے قواعد اور مہنگائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تاخیر کا جرمانہ وصول کیا جائے تو اس کی مالیت 28 ہزار آسٹریلوی ڈالرز یعنی پاکستانی تقریباً 54 لاکھ 67 ہزار روپے بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لائبریری کی تاریخ میں اتنی پرانی کتاب پہلی بار واپس آئی ہے جبکہ عموماً 30 سے 40 سال تاخیر سے کتابیں واپس ملتی رہی ہیں۔
لائبریری کے 1870ء کی دہائی کے ریکارڈ ضائع ہو چکے ہیں، جن میں کتابیں لینے والوں کی تفصیلات درج تھیں، اس لیے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخری بار یہ کتاب کس نے حاصل کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پرانے ضوابط کے مطابق نئی کتاب لینے سے پہلے سابقہ کتاب واپس کرنا اور تمام واجبات ادا کرنا ضروری تھا۔
ایک گھرانے کو زیادہ سے زیادہ 3 کتابیں اسی صورت دی جاتی تھیں جب اس کے کم از کم 6 افراد پڑھنا جانتے ہوں جبکہ نشے کی حالت میں آنے والوں کو کتاب جاری نہیں کی جاتی تھی۔
پانی سے متاثرہ یہ کتاب لائبریری کے ابتدائی تقریباً 1,000 کتب کے ذخیرے میں 506 نمبر پر شامل تھی۔
مشیل ہڈسن کے مطابق امکان ہے کہ یہ کتاب لائبریری کے قیام کے چند سال بعد ہی گم ہو گئی تھی، اب اسے لائبریری کے مقامی تاریخی ذخیرے میں مستقل نمائش کے لیے رکھا جائے گا اور دوبارہ کسی کو جاری نہیں کیا جائے گا۔