کانگڑی!

کانگڑی ۔لفظ زبان پرآتے ہی کچھ لوگوں کی بانچھیں کھل جاتی ہیں اورکان کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ پوری بات سن کر طبع کو ہنسی کا موقع فراہم کرسکیں ،اور دوسروں کی حسِ مزاح کو بھی تقویت مل سکے۔

کیوں بھئی ! کس لیے ایسا ہوتا ہے ؟
ایسا تو آپ نے بھی سوچا ہوگا ۔تو ذرا ملاحظہ فرمائیں

انتہائی نحیف و نزار ، جسم میں جان نہیں ، تیز ہوا اُڑا کر کسی درخت کی ٹہنی پر لٹکا دے

لیکن باتیں بڑی بڑی اور اکڑ فوں حد سے زیادہ ۔

ہمیشہ طاقتور سے پنگا اور خوب مرمت ہو نے کے بعد زمیں سے کپڑے جھاڑتے ہوئے اُٹھنا اور کہنا

”ہن مار کے وخا“ ۔ یعنی ہمت ہے تو اب ہاتھ لگا کر دکھاو،

ہمارے معاشرے میں یہی ہے ”کانگڑی اور پہلوان“ کی ڈیفی نیشن ( معانی)

لیکن آج کانگڑی کا ذرا تفصیلی پوسٹ مارٹم ہوجائے،

ارے !خدانخواستہ ہم کسی انسان کی نہیں بلکہ لفظ کانگڑی، اس کے استعمال اور معنوں کی بات کررہے ہیں ،
یہ لیجئے کانگڑی کا اک اور جھٹکا یا پہلوان کاپٹخا

کانگڑی پنجابی دی اک بولی اے جیڑی اتلے پنجاب تے ہماچل پردیش دے ضلع کانگڑہ چ بولی جاندی اے۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سےقبل پنجاب اک ساتھا سو بول چال کا اثر تو آنا ہی تھا،

پنجابی کے ذکر پر اک شعر یاد آگیا،

ہوا کشمیر اور پنجاب میں اب تک نہ سمجھوتہ
ادھر یہ کانگڑی مانگےادھر وہ کانگڑا مانگے

یہاں پراس پنجاب کاذکر ہے جو بھارت کاحصہ ہے اور کشمیر بھی وہ جس پر بھارت کا تسلط ہے ،

ویسے آزاد کشمیر میں بھی کانگڑی موجود ہے،

کانگڑی کے لغوی معنی مٹّی کی انگیٹھی ، بُروسی اور آتش دان بھی ہیں ،

جس پر نقش ونگاری کرکے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔

یوں کہہ لیں ،کشمیریوں کی جان اور سردیوں کی شان ۔۔۔کانگڑی

مقبوضہ کشمیر میں کڑاکے کی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے لوگ صدیوں سے کانگڑی کا استعمال کرتے آئے ہیں وادی کشمیر میں موسم سرما چار مہینوں تک اپنے جلوے دکھاتاہے اور اس دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔

اے میری آرام جاں اے میری دلبر کانگڑی
مہرانور کانگڑی ، ماہ منور کانگڑی

بید مجنون کی لچک دار ٹہنیوں کی خوبصورت بنت میں مٹی کے اک گول پیالے کو اپنے اندر سموئے یہ کانگڑی کشمیری تہذیب وتمدن کا ایک جزو لاینفک بن گیاہے۔

کانگڑی کشمیریوں کے لیے چلتا پھرتا ہیٹر ہے ، سو روپے اور ایک پاو کوئلے سے دن بھر سکون

کشمیری اسے اپنے روایتی لباس فیرن کے نیچے ساتھ لیے پھرتے ہیں ،

لیکن اب اس کانگڑی کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے ، اس کی کئی وجوہات ہیں ،

کانگڑی میں ڈالے جانے والے’’کوئلے‘‘کیلئے لکڑی کا انتظام کیا جاتا ہے ، اور اس کیلئے جنگلات سکڑ تے چلے جارہےہیں۔

محققین کے مطابق کانگڑی سینکنے سے کئی عارضوں کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

پیٹ کے ساتھ ، ٹانگوں پر رکھنے اور لگاتار ہیٹ لگنے سے جلد پرچھالے ہوجاتے ہیں ،السرکا خطرہ ہوتا ہے ۔ اسکن پگ منٹیشن کی وجہ سے کینسر بھی ہونے کاامکان ہوتا ہے ، اور اس کے دھوئیں سے سانس کی بیماری بھی لاحق ہوسکتی ہے ، اور متعدد دانوں کی شکایات بھی سننے کو ملی ہیں ،

سائنس اور ٹیکنالوجی کادوردورہ ہے،

جموں کشمیر کالج سے بی ٹیک کرنے والے ایک شخص نے شمسی توانائی سے چلنے والی کانگڑی تیار کرلی ہے۔ لال بازار سرینگرکے رہائشی نے اس جدید کانگڑی میں بیٹری، انورٹر سرکٹ اور سولر پینل اٹیچ کیا ہے۔ یہ سولر پینل آسانی سے مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔ درمیانے درجہ کی سورج کی روشنی سے کانگڑی میں نصب بیٹری میں توانائی منتقل ہوجائے گی اور بیٹری چارج ، کانگڑی میں اٹیچ انورٹر سے گرمائی پیدا ہوگی اور اس کے ذریعے 3-4گھنٹے باآسانی ہاتھ پاؤں گرم کئے جاسکتے ہیں۔

اب اسے آپ سائنس کی ترقی کہہ لیں ، یا بندے کی صلاحیتیں ،

ایک بات تو طے ہے، کہ ذہانت کسی کی میراث نہیں اور جہالت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے