یہ رعونت وتکبر کی تربیت ؟

"صاحب میٹنگ میں ہیں۔تمہاراکام نہیں ہوسکتا۔تم کل آنا۔اوپرسےآرڈرہے۔صاحب ابھی توبہت مصروف ہیں۔بس صاحب ابھی آتےہی ہوں گےتھوڑاانتظارکریں۔آپ کاکام فلاں آفس کافلاں بندہ کرےگامیرایہ کام نہیں۔نہیں آپ انہی کےپاس جائیں وہی آپ کاکام کردیں گے۔”

یہ مختصرسےجملےہم لوگ ہرروزکسی نہ کسی سرکاری آفیسریااس کےسیکرٹری سےسنتے ہیں۔ان جملوں کی ہمیں عادت ہی پڑگئی ہے۔اب اس رویےسے ہمیں ذلت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ہم جانتےبھی ہوں کہ "صاحب”نہ مصروف ہیں نہ ہی کسی میٹنگ میں بلکہ محض عوام کو اپنی جاگیرسمجھنےکےخیال سےوہ اپنافرض سمجھتےہیں کہ انہیں ذلیل کیاجائے.مگرہم پھر بھی چوں چراں کئےبغیر”صاحب”کی خدائی کوتسلیم کرکےگردن جھکائےیہ سب کچھ سہتےو سنتےرہتےہیں۔

مسئلہ کیاہےاورکہاں ہے۔؟آخران بابو لوگوں کارویہ عوام کےساتھ ایساکیوں ہوتاہے۔؟یہ لوگ اسی معاشرےکےہی افرادہوتےہیں۔مگرجب کسی عہدےپربراجمان ہوتےہیں توان کےرویے یکسربدل کیوں جاتےہیں۔؟ایک ڈاکٹرآخرکس سبب سےتڑپتےمریض کودیکھتارہتاہےمگرعلاج کےلئےآگےنہیں بڑھتاجب تک کہ اپنا”خدائی رویہ”ظاہرنہ کرلے۔اس سب کی وجہ بہت سادہ مگرتکلیف دہ سی ہےجس پرمعذرت کےساتھ کچھروشنی ڈالنےکی جسارت کرتاہوں۔

میرےخیال میں ان کےمزاجوں میں رعونت،شخصیت میں فرعونیت کاسبب بدقسمتی سےوہ معلم ہیں جن کاکام لوگوں کوزیورِتعلیم سےآراستہ کرکےانہیں انسانیت سکھاناتھا.مگروہ اپنے اس مقصدکوپسِ پشت ڈال کراستبدادی واستحصالی نظام کی آبیاری کا”عظیم” فریضہ سرانجام دینےلگےہیں۔تعلیمی اداروں میں انتظامی عہدوں پرفائزمعلم ہوں یاپھرکلاسزمیں لکچر دینے والےمقدس اساتذہ، سب ہی طلبہ کونیچ اورکم ترسمجھتےہیں۔ان کےخیال میں ایک طالب علم جوان کےادارےمیں پڑھنےآیاہےوہ ان کاغلام ہےاس کےساتھ کسی بھی طرح کابُراسلوک کرناجائزہے۔

ذراسی لغزش پرطلبہ کوسخت ذلت آمیزی کاسامناکرناپڑتاہے۔اگرکوئی طالب علم ان سےاپنا "گناہ” پوچھتاہےتووہ”بدتمیز”کہلاتاہے۔کسی بھی بات کوذاتیات کامسئلہ بناکرطلبہ کوجتناممکن ہورگیداجاتاہے۔ایسا غیر ارادی طورپرکیاجاتاہےیاپھرارادتاََکہ طلبہ کی شخصیت میں رعونت و فرعونیت کےجذبات کوباقاعدہ تربیت کرکےابھاراجاتاہے۔؟اس سوال کاجواب ان عظیم مسندوں پر فائز لوگ ہی دےسکتےہیں۔طلبہ امتحان کےدنوں میں نصابی امتحان سےزیادہ اس امتحان کےبارے فکر مندہوتےہیں جواساتذہ سےاپنےکردہ ناکردہ "گستاخیوں” کی معافی تلافی کے سلسلےمیں در پیش ہوتاہے۔

ہم عموماََ فرنگیوں کوکوستےہیں کہ ان کابنایاہوا بابوئوں والانظام چل رہاہے۔مگرفرنگیوں کوگئےایک عرصہ بیت چکاہےاورہمارےتعلیمی اداروں سےپڑھنےوالےبابو کارویہ وہی کیوں ہے۔؟تربیت کرنےوالےاورپڑھانےوالےفرنگی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ان رویوں کوبدلنےکی ذمہ داری کس کی ہے۔؟کون آئےگاجودرسگاہوں میں بیٹھےطالب علموں کوسکھائےگاکہ اپنےملک کےعوام کوکم ازکم انسان ضرورسمجھنا۔وجہ یہی ہےکہ انتظامی عہدوں پرفائزطالب علم4،6 سال کےطویل عرصےمیں اساتذہ کےفرعونی رویوں کاعادی ہوچکاہوتاہے۔وہ کبھی وی سی صاحب کاگھنٹوں انتظارکرتاہے توکبھی ہاسٹل انچارج کا۔کبھی کسی استاذکےپائوں پکڑنےہیں توکبھی کسی کی منتیں کرنی ہیں۔

جب وہ تعلیمی ادارےمیں جاتاہےتواس میں جذبہ ہوتاہےکہ میں تعلیم حاصل کرنےکےبعدجب کسی بڑے عہدےپربراجمان ہوں گاتولوگوں سےاچھارویہ رکھوں گا۔مگرطالب علمی کےاس زمانےمیں اس کےساتھ جس طرح کارویہ روارکھاجاتاہےاس سےوہ رفتہ رفتہ ہمدردی و احساس کاجذبہ معدوم ہوتارہتاہے۔یوں طلبہ ان مسندوں تک پہنچتےپہنچتےٹھیک ٹھاک ڈھیٹ قسم کے بابوبن چکےہوتےہیں کہ وہ سامنےوالےکوانسان ہی نہیں سمجھتے۔وہ غیر ارادی طور پراسی تربیت کےزیرِاثرہوتےہیں جوتعلیمی ادروں میں دانستہ ونادانستہ کی جاتی ہے۔وہ پھر درج بالاجملوں سےاپنےہی جیسےدوسرےلوگوں کوذلیل کرتےہیں اورانہیں احساس ہی نہیں ہوتاکہ وہ کچھ غلط کررہےہیں۔

تعلیمی اداروں میں مقدس مسندوں پربیٹھےلوگوں سےدست بستہ عرض ہےکہ خدارا!قوم کےہونہارطلبہ کواس استبدادی واستحصالی نظام سےچھجٹکاراپانےکی تربیت دیں نہ کہ انہیں اس نظام کوپالنےپوسنےوالابنائیں۔اہم یہ نہیں ہےکہ آپ کےاداروں سےہرسال اتنےاوراتنےلوگ فلاں فلاں جگہ پرفلاں فلاں عہدوں پرفائزہیں۔اہم یہ ہےکہ وہ ملک وقوم کوکیادےرہےہیں اوران کےرویےاپنےماتحتوں یاعوام سےکیسےہیں۔؟

قوم اپنےبچےآپ کےسپرداس لئےکرتی ہےکہ آپ انہیں بہترمستقبل کےساتھ ساتھ بہترانسان بھی بناکردیں نہ کہ اس لئےکہ آپ انہیں فرعون نماانسان بنائیں جواپنی ذمہ داری کوعوام پرخدائی کاذریعہ سمجھیں۔اکثریہی ہوتاہے کہ طلبہ کومعافی دےدی جاتی ہےمگرانتہائی ذلت ورسوائی کےبعد۔اس سےبہترنہیں کہ آپ انہیں باعزت طریقےسےاورکسی کی عزتِ نفس پامال کئےبغیرمعافی دےدیں۔

طلبہ سےبھی گزارش ہےکہ وہ تعلیمی اداروں کےاساتذہ کےہتک آمیزرویوں کوچپ چاپ سہتےنہ رہیں۔بلکہ مہذب اندازسےتعلیمی اداروں اوراساتذہ کےتقدس،مقام ومرتبہ کاخیال کرتےہوئےاس رویےسےبیزاری کااظہارکریں ۔اگرآپ میں اتنادم خم نہیں بھی توخدارا ان لوگوں کی پشت پرضرورکھڑےہوں جوجائزطورپراپنےاورآپ کےحق کےلئےبولتےہیں۔جو اس ذلت واذیت آمیزنظام کےخلاف علمِ بغاوت بلندکرتےہیں یاکرناچاہتےہیں۔اگراتنابھی نہیں توپھرکم ازکم یہ عہدضرورکرلیں کہ جب کسی عہدےپرجائیں گےتوعوام کےساتھ اس رویے سےپیش نہیں آئیں گےجوتمہارےساتھ تعلیمی دورانیےمیں روارکھاگیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے