شکریہ بانو آپا

جب سے کالم لکھنے شروع کیے ریسرچ اور سنجیدہ مواد پڑھنے کی اتنی عادت ہوگئی کہ فکشن پڑھنا ترک ہی کر دیا۔۔شاید آخری فکشن تنہائی کے سوسال پڑھا تھا سچی بات ہے مزا نہیں آیا۔

عالمی سیاست کے داو پیچ ، نظریات اور تہذیبوں کی جنگ، معاشیات کا الٹ پھیر، مذہب کی بوقلمونی یہ سب اتنا دلچسپ اور رنگا رنگ ہے کہ فکشن پڑھتے ہوئے عجیب سی بوریت اوراوپری پن محسوس ہوتا ہے۔دو چار صفحات سے زیادہ پڑھنا ممکن ہی نہیں رہا۔ایک دن یونہی بوجھل ذہن کو تسکین دینے کی خاطر بانو آپا کی پہلے کئی بار کی پڑھی” دست بستہ "اٹھا لی۔ پہلے افسانے کے بعد کتاب تبھی ہاتھ سے رکھی جب آخری افسانہ ختم ہوا۔

بے شک بانوآپا ذہین عورت تھیں۔ ان کے پاس منفرد موضوعات اور ان کے اظہارکا بڑا شاندار ذخیرہ موجود تھا۔ان کے کچھ افسانے تو اس قابل ہیں کہ انہیں عالمی ادب کے مقابلے پہ رکھا جا سکتا ہے۔یہ کام تو خیر ناقدین کا ہے لیکن بطور ایک قاری مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ احساسات کی اس جہت تک بہت آسانی سے پہنچ جاتی تھیں جہاں ایک عام ذہن کی رسائی دشوار ہوتی ہے۔ وہ ایک عام ذہن ہوتیں تو اشفاق احمد کی بیوہ ہوتیں لیکن وہ بانو قدسیہ تھیں جن کی شخصیت پہ شاید ان کے شوہر کی چھاپ ہو لیکن ہنران کا منفرد ہی تھا۔

اشفاق صاحب جیسے ذہین مرد کے ساتھ گذارا کرنا آسان بات نہیں لیکن یہی مشکل اشفاق صاحب کو بھی درپیش تھی، دونوں اس مشکل سے بہت آسانی کے ساتھ گذر گئے کیونکہ دونوں نے ایک دوسرے کی ذات کی نفی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ایک عالی ظرف مرد اپنی عورت کو اس کی صلاحیت کے اظہارکا پورا موقع دیتا ہے وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

ہم بانو قدسیہ کے لیے اشفاق احمد کے شکر گذار ہیں جہنوں نے انہیں محض اپنی بیوہ نہیں بننے دیا اور ہم بانو قدسیہ کے شکر گذار ہیں جنہوں نے اردو ادب کے نسائی پہلو کو روایتی سطح سے بلند کیا ۔ رب العزت دونوں سے راضی ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے