کیکر کے درخت پر انگور کی امید!!

وطن عزیز کاصرف چہرہ ہی نہیں پورا بدن ایک بار پھر لہولہو ہے۔ رواں ماہ کے گزشتہ چار دنوں میں چاروں صوبوں کے درالحکومتوں سمیت قبائیلی علاقوں میں دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کے چھ واقعات سامنے آئے ہیں جس میں اعلی سیکیورٹی اہلکاروں سمیت پچیس افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ روئے زمین کی بدبخت مخلوق جسے ہم دہشت گرد کہتے ہیں اور جن کی کمر ہماری سیاسی و عسکری قیادت کے بیانوں میں کئی بار توڑی جا چکی ہے اب بزدلوں کی طرح پھر سے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رواں ماہ کی 12تاریخ کو نامعلوم مسلح افراد نے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک نجی ٹیلی وژن کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار بہنو ں کا اکلوتا بھائی اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمورخان جان کی بازی ہار گیا ۔ کراچی اب روشنیوں کے شہر کی بجائے انسانوں کے کسی جنگل کا منظر زیادہ پیش کرتا ہے اور جنگل بھی وحشی انسانوں کا جنگل،تو ایسے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر چھبیس ادارے کیا کرے ،اب ہر گاڑی اور ہرفرد کو تووہ سیکیورٹی فراہم کرنے سے رہے ۔پولیس بیچاری سیاسی اقلیت کی سیکیورٹی کی فکر کرے یا عوام کی۔ویسے بھی سیاسی ایلیٹ کی سیکیورٹی زیادہ آسان ہے گنتی کے چند لوگ ہی تو ہیں جن کو سیکیورٹی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے(اپنے ہیوی بائیک پر رائڈکا لطف لیتے ہوئے اگر کسی سیاسی رہنما کے عقب میں سیکیورٹی اور پروٹوکول کی چار ،چھ گاڑیاں جا رہی ہوں تو زیادہ حیران اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں)۔

13فروری کو لاہور میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے بالکل سامنے چیئرنگ کراس پر ایک بزدل خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیاجس کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل سمیت 14افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوئے۔اسی دن جنوبی وزیرستان میں 3ایف سی اہلکار بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بنے جبکہ کوئٹہ میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے دو اہلکار بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔چلیں بم ناکارہ بناتے ہوئے کسی غلط تار کے کٹ جانے کو تو ہم قسمت کا لکھا کہہ سکتے ہیں تاہم لاہور جیسے شہر میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سامنے خودکش دھماکہ ، بزدل دشمن کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ہے۔(پیارے پاکستان میں وفاقی درالحکومت اسلام آباد کے بعد اگر کوئی شہر سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے تو وہ صوبہ پنجاب کا درالحکومت لاہور ہے اور اسی لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے)۔

میرے خیال میں 14فروری کو دہشت گرد بھی کہیں ویلئنٹائن منا رہے تھے اس لئے وہ دن مملکت خداداد میں خیریت اور امن و امان سے گزرا لیکن 14فروری کی کسر اگلے دن یعنی 15تاریخ کو پوری کر دی گئی ۔

15فروری کی صبح مومند ایجنسی کے باسیوں کے لئے دہشت کا پیغام لے کر آئی (یہاں کے باشندوں کے لئے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں ناآشنا نہیں ،کبھی یہ فائرنگ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہوتی ہے اور کبھی دہشت گرد اپنا غصہ نکالنے کے لئے دھماکے کرتے ہیں )صبح سویرے جب لوگ غلنئی ہیڈکوارٹر میں داخلے کے لئے قطار میں کھڑے تھے تو دو بزدل دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی اور ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی ،ایک دہشتگرد کو لیویز اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مار دیا ، دوسرے نے خود کو بارودی مواد سے اُڑا دیاجبکہ ایک بزدل کامیابی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔اس دہشت گرد حملے میں لیویز اہلکاروں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے ۔بزدلوں نے دوسری کارروائی پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے فیز 5میں کی اور عدالتی عملے کی ایک گاڑی کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا جس میں سول ججوں سمیت دیگر عملہ سفر کررہا تھا ۔اس حملے میں وین کا ڈرائیور جاں بحق ہوا جبکہ سول ججز سمیت 15سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تین خواتین سول جج بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی دہشت گرد آرام سے نہیں بلکہ اپنا کام پوری تندہی کے ساتھ سرانجام دیتے رہے ۔کوئٹہ کی سریاب روڈ پر سویلین گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایاگیا اور کامیاب کارروائی کے بعد کامیابی سے فرار ہو گئے ۔(کوئٹہ شہر کے ہر چوراہے پر ایف سی کے اہلکار چوکس کھڑے ہوتے ہیں تاہم پھر بھی بزدل دشمن فائرنگ بعد میں کرتا ہے اور فرار ہونے کے لئے راستے کا تعین پہلے کرچکا ہوتا ہے)۔اب کسی ولی اللہ کے مزار سے زیادہ سافٹ ٹارگٹ کونسا ہوگا جہاں بزدل دہشت گرد وں نے کارروائی کرتے ہوئے لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش دھماکہ کیا اور آخری اطلاعات تک اس دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 75سے زائدافراد شہید جبکہ 200سے زائد زخمی ہوئے ہیں (شاہ نورانی کے مزار پر دھماکہ بھی ایک بزدلانہ کارروائی تھی جس کے بعد ہماری عسکری و سیاسی قیادت مذمتی بیان جاری کرکے سوگئی)

ایک طرف تو بزدل دشمن ہے جو ہمیشہ کسی سافٹ ٹارگٹ کی تاک میں رہتا ہے اور جیسے ہی اسے کوئی سافٹ ٹارگٹ نظرآتا ہے وہ اپنی کارروائی کرگزرتا ہے (اب اگر دہشت گردوں کے لئے چاردنوں میں چاروں صوبائی درالحکومتوں میں ایسی جگہوں پر کارروائی کرنا ،جہاں کی سکیورٹی سب سے زیادہ ہو ،بھی سافٹ ٹارگٹ ہو تو کیا کہنے )۔جبکہ دوسری جانب ہماری سیاسی اشرافیہ (حکومتی اور اپوزیشن )کے لئے سب سے اہم مسئلہ اگر کوئی ہے تو وہ پانامہ کیس کا مسئلہ ہے اور دہشتگردی میں مرنے والے لوگ ان کی ترجیح ہی نہیں کیونکہ ان کی طرف سے ان کا پی آر او ایک مذمتی بیان جاری کر دیا کرتا ہے اور بس بات ختم ۔(سیاسی اشرافیہ کے لئے مرنے والے بس ایک مذمتی بیان ہیں جو اس سے زیادہ رتی برابرکی اہمیت نہیں رکھتے )۔ایسے میں وطن عزیز سے دہشت گردی ختم ہونے کا خواب دیکھنا ایسا ہے جیسے بندہ کیکر کے درخت پر انگور کی امید لگائے بیٹھا ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے